تیسری عالمی جنگ کے نقارے

orya-maqbool-jan-column
آج سے تقریباً ایک سال قبل جب میں شام کے صوبے حلب کے شہرجرابلس میں داخل ہوا تووہاں ترکی کی افواج نے حفاظت کا انتظام سنبھال رکھا تھا اوراس تباہ حال شہرمیں ازسرِنوہسپتال، سکول، اورکمیونٹی سنٹرتعمیرکیے جارہے تھے. لٹے پٹے مہاجرین کا ایک بہت بڑا کیمپ تھا جس میں کردملیشیا کے مظالم کی داستانیں سناتے ہوئے عورتیں، بچے اوربوڑھے بڑی تعداد میں تھے. ان کے نزدیک جوبھی نوجوان کردوں کے ہاتھ آتا وہ اسے قتل کردیتے. عورتوں کی آبروریزی کرتے اوربچوں پربدترین تشدد کرتے. یہ کردملیشیا ایک نسل پرست سیکولرلبرل تنظیم ہے جسے کئی دہائیوں سے امریکہ اوراس کے حواریوں کی مسلسل مدد حاصل رہی ہے. یہی وجہ ہے کہ دنیا میں کسی بھی عالمی، مقامی یا علاقائی میڈیا میں کردوں کے مظالم کی داستانیں بیان نہیں ہوتیں. جرابلس کا یہ شہراحرارالشام (free Syrian Army) کے زیرانتظام تھا. شہر کی حالت کھنڈرجیسی تھی جسے شام کی بشارالاسد کی اقلیتی حکومت کی افواج، دولت اسلامیہ، اورکردملیشیا کی لڑائی نے ایسا کردیا تھا. کیمپوں کی حالت ناگفتہ بہ تھی. بچے بوڑھے اس قدرمیلے کچیلے نظرآ رہے تھے جیسے انہوں نے مہینوں سے غسل نہ کیا ہو. ہسپتال میں ہرروز زخمی لائے جارہے تھے. کوئی امریکی بمباری سے زخمی تھا توکسی کوروسی طیاروں سے گرائے جانے والے بموں نے اس حال میں پہنچایا تھا. جرابلس شہرمیں داخل ہونے سے پہلے آپ کوبلند پہاڑیوں سے گزرنا پڑتا ہے. اگرآپ کے پاس گوگل نقشے کی سہولت میسرہواورآپ پہاڑوں کی اترائی کی جانب آئیں توآپ کے سامنے ایک تاحد نظرپھیلا ہوا میدان نظرآئے گا. اتنا بڑا میدان کہ اس کا کوئی دوسرا سرا نظرنہ آئے. اس بڑے میدان میں ترکی کی سرحد سے تقریباً چودہ کلومیٹردوردامق کا گاؤں ہے اوراس کے نزدیک ہی اعماق کا گاؤں ہے. ان دونوں کے درمیان ایک بڑا قصبہ عزازواقع ہے. اس بڑے میدان میں اگربلندی سے دیکھیں توانکی آبادی نہ ہونے کے برابرلگتی ہے. گرمیوں میں سخت گرمی یعنی جولائی میں زیادہ سے زیادہ چالیس ڈگری سینٹی گریڈ اورسردیوں میں‌یعنی جنوری میں اس کا درجہ حرارت منفی دوڈگری سینٹی گریڈ تک گرجاتا ہے. دامق اوراعماق کا عرض البلد 31 36 اورطول 16 37 ہے. میں نے ان دونوں مقامات کی اس قدرتفصیل اس لئے درج کی ہے کہ یہ وہ میدان ہے جہاں سیدالانبیاءصلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بتائی گئی پیش گوئیوں کے مطابق روئے زمین پرحق وباطل کا بہت بڑا اورآخری معرکہ ہونے ولا ہے. کوئی اس میدان کودیکھے اورپھرچاروں جانب اس کی وسعت کا اندازہ کرے تواسے یقین ہونے لگے کہ یہ مقام واقعی کسی بڑی جنگ کواپنے دامن میں سموسکتا ہے. ان آخری معرکوں کی ایک ترتیب زمانی ہے جسے آج کے دورمیں ٹائم لائن کہا جاتا ہے. آج سے دس سال قبل وہ لوگ جورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ فتن اورآخرالزماں کی احادیث کو من گھڑت اورغیرسائنسی اورکسی مقصد کے لے تخلیق کردہ قراردیتے تھے اورہرکسی کویہ درس دیتے پھرتے تھے کہ یہ دنیا گہوارہ امن ہے یہاں‌انسان کومل جل کرمذہبی ہم آہنگی اورانسانی احترام کے ساتھ زندہ رہنا چاہیے اورجنگ کا تذکرہ تک بھی زبان پرنہیں لانا چاہئے، آج انہیں بھی یہ سب کچھ ویسا ہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے جیسے مخبرصادق صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا. احادیث کی کتب میں اس آخری بڑی جنگ “ملحمتہ الکبریٰ” کا مرکزومحورشام کا خطہ ہوگا. آپ صٌی اللہ علیہ وسلم نے خبردارکرتے ہوئے فرمایا “اگر اہل شام میں خرابی آئی توپھرتم میں کوئی خیرباقی نہ رہے گی. وہاں ایک گروہ ہمیشہ برسرِپیکاررہے گا. اللہ کی نصرت وفتح ان کے ساتھ ہوگی. انہیں کسی کی پرواہ نہ ہوگی کہ انہیں کون رسوا کرتا ہے (ترمذی، مسند احمد، ابن ابی شیبہ). اس حدیث کے الفاظ آج کس قدر واضح‌ ہیں. یوں تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آخری جنگ کے چاربنیادی مراکز بتائے ہیں تین کے حوالے ایک طرح احادیث میں ہیں اوردوسرے میدان جنگ کے بارے میں الگ احادیث ہیں. پہلا محاذ مشرقِ وسطیٰ سے متعلق ہے. عبداللہ بن حوالہ ازدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا “تمہاری مختلف فوجیں ہوں گی، ایک شام میں ایک عراق میں اورایک یمن میں. حضرت عبداللہ نے پوچھا میں کس میں شامل ہوں. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا تم شام کی فوج میں شامل ہوجانا اوریہ نہ ہوسکے تویمن کی فوج میں شامل ہوجانا” (ابوداؤد، مسند احمد، حاکم طحاوی). دوسرا محاذ اسی دوران ہونے والے غزوہ ہند سے متعلق اٹھارہ احادیث میں درج ہے. ان احادیث‌ میں ٹائم لائن کے حساب سے اہم ترین حدیث یہ بتاتی ہے “ایک قوم میری امت میں سے ہند پرحملہ کرے گی. اللہ اس کوفتح عطا فرمائے گا، یہاں تک کہ وہ ہند کے بادشاہوں کوزنجیروں میں جکڑکرلائیں گے. پس اللہ ان کے گناہوں کی مغفرت فرمائے گا، پھروہ لوٹ آئیں گے توشام کی طرف عیسیٰ‌ ابن مریم کوپائیں گے” (الفتن-نعیم بن حماد)
a


یہ دونوں محاذ اس وقت اس بڑی عالمی جنگ کے ابتدائی مراحل میں داخل ہوچکے ہیں اورویسی ہی ترتیب نظرآرہی ہے جیسی سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی. تمام احادیث جواس موضوع پرہیں ان کی تعداد ہزاروں میں بنتی ہے اوراگر ان کی ترتیب زمانی کا ایک خلاصہ بنایا جائے تویوں نکلے گا”فرات کے کنارے ایک سونے کا پہاڑ برآمد ہوگا (پیٹروڈالر) جس پرلڑنے والوں میں سے سومیں ننانوے مارے جائیں گے. جزیرہ نما عرب اس وقت تک خراب نہ ہوگا جب تک مصرخراب نہ ہوجائے. جب مصرمیں پیلے جھنڈے (مرسی کے چارانگلیوں والے جھنڈے) برآمد ہوں توشام کے لوگوں کوزیرزمین پناہ گاہیں بنا لینی چاہئیں” (شام پراکثرتباہی فضائی حملوں سے ہوئی). بیت المقدس کی آبادی (ٹرمپ کا اعلان)، مدینہ کی ویرانی، بڑی جنگ “ملحمتہ الکبریٰ” کا آغاز اورقسطنطنیہ کی فتح، دجال کا خروج. (بخاری، مسلم، ابو داؤد، مسند احمد، الفتن). اس ترتیب زمانی کے اعتبار سے ہم جنگ عظیم کے دہانے پرکھڑے ہیں. جس کے آخری میدان ہند اورشام میں دامق اوراعماق ہے. شام کی جنگ میں لڑنے والے گروہوں کوآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رومی اورعرب کہا. ابن حبآن اورمستدرک حاکم میں حدیث درج ہے “پھررومی اپنے بادشاہ سے کہیں گےہم عرب والوں کے لیے آپ کی جانب سے کافی ہیں، چنانچہ وہ جنگ عظیم کے لیے اکٹھے ہونگے اسی (80) جھنڈوں کے تحت آئیں گے اورہرجھںڈے کے تحت بارہ ہزارسپاہی ہوں گے”. آپ نے فرمایا ان کی طرف ایک لشکرمدینہ سے پیش قدمی کرے گا جواس زمانے کے بہترین لوگوں میں سے ہوگا. ان میں سے ایک تہائی مسلمان بھاگ کھڑے ہونگے جن کی توبہ اللہ قبول نہیں کرے گا، ایک تہائی شہید ہوجائیں گے جوافضل الشہداء ہون گے اورایک تہائی فتح حاصل کریں گے (مسلم، ابن حبآن). اس وقت دونوں میدان جنگ گرم ہوچکے ہیں. ترکی نے 21 جنوری کوصبح کے وقت افواج شام کے آفرین کے علاقے میں اتار دی ہیں. ترکی کا مقصد اپنی سرحد کے ساتھ ساتھ تیس کلومیٹرکا محفوظ علاقہ “safe zone” بنانا ہے. لیکن اس کی یہ حرکت امریکہ اورعالمی طاقتون کوناراض کرنے کے لیے کافی ہے، جنہوں ے کردوں کو مدتوں ایک سیکولرلبرل فوج کی حیثیت سے پالاپوسا ہے. یوں تواس وقت پورا ترکی طیب اردوان کی قیادت میں جمع ہے اورترکی کی ہرمسجد میں قنوت نازلہ پڑھی جا رہی ہے. کل جب ترک آرمی چیف خلوصی کا آکارصبح کی نماز کے لیے مسجد میں داخل ہوا تولوگ اٹھ کھڑے ہوگئے. ترک قوم شام کے چالیس لاکھ مہاجروں کو پناہ دیے ہوئے ہے. جن میں سے ہرکوئی واپس جاکرلڑنے کوبے تاب ہے. میں نے ان کیمپوں میں بیواؤں کواپنے بچوں کوصرف جہاد کا درس دیتے اوردجال کے فتنے سے بچنے کے لیے سورہ کہف پڑھاتے دیکھا ہے. رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ترتیب زمانی دیکھی جائے تویوں لگتا ہے کہ ترکی کی یہ حرکت روم (پورے مغرب) کوناراض کرسکتی ہے اورترکی اپنے ہی نیٹو اتحادی افواج کا نشانہ بن سکتا ہے. ترکی کوعبورکرکے ہی یہ افواج دامق اوراعماق پہنچیں گی. دوسری جانب دنیا بھر کا میڈیا پاک بھارت جھڑپوں کوتیسری عالمی جنگ کا آغاز کہ رہا ہے. کئی ماہ سے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں شہادتیں ہورہی ہیں. ادھرجموں کے علاقے آرینہ میں پولیس سربراہ سریندرچوہدری کا کہنا ہے کہ یہاں سے 36 ہزارلوگوں کوگھروں سے نکال دیا گیا ہے تاکہ جنگ کا میدان وسیع ہواورشہری آبادی نشانہ نہ بنے. یوں تودونوں عالمی جنگیں اپنے مخصوص وقت پرآغاز کریں گی اوروقت کا علم صرف اللہ کوہے لیکن ان دونوں جنگوں میں فتح مسلمانوں کا مقدر ہے. دامق کی فتح کے بعد قسطنطیہ صرف ایک نعرہ تکبیربلند کرنے سے فتح ہوجائے گا.
مسلمانوں کی ان عظیم فتوحات کے بعد دجال اصفہان سے نکلے گا جس کے ساتھ سترہزاریہودی ہوں گے. جس سے آخری جنگ کے لیے سیدنا عیسیٰ ابن مریم کا نزول ہوگا. کون ہے جو یہ کہے کہ یہ قصے کہانیاں ہیں یا من گھڑت افسانے……منکرین حدیث کے سامنے سب واضح ہوتا جا رہا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں