Orya-Maqbool-Jan

جمہوریت، اسلام اورپاکستان

orya-maqbool-jan-column
یہ جمہوری نظام کی معراج ہی توہے کہ سپریم کورٹ یعنی ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے دھوکہ دہی اورغلط بیانی پرنااہل قراردیئے جانے والا وزیراعظم نوازشریف جلسوں میں بلند آواز کے ساتھ پکارپکارکرلوگوں کوترغیب دیتا ہے کہ مجھے اتنے ووٹ‌ دو، اتنے کہ میں عدلیہ کے اس فیصلہ کوبدل کررکھ دوں. کیا پاکستان کے نام نہاد اسلامی، اورحقیقی طورپرجمہوری آئین میں اس کی گنجائش موجود ہے. یقیناً اس کی گنجائش موجود ہے. اگرنوازشریف کی نون لیگ آئندہ الیکشنوں میں دوتہائی اکثریت لے لیتی ہے تووہ ووٹ کی اکثریت سے ایک عین جمہوری فیصلہ کرتے ہوئے آئین میں ترمیم کرلے گی اورایسے ہراس فیصلے کوکالعدم قراردے دے دے دی گی جوعدل وانصاف کے معیارپربے شک پورا اترتا ہو، یہ عین جمہوری ہوگی اوردنیا بھرکی جمہوری قوتین اس کی حمایت بھی کریں گی. میڈیا پربیٹھے “عظیم دانشوراورتجزیہ نگار” اسے جمہوری روایات کی فتح قراردیں گے اورنظام کے تسلسل کوملک کی سلامتی اوربقاء کی ضمانت کے طورپرپیش کریں گے. دنیا کا ہروہ آئین جو جمہوریت یعنی “اکثریت کی آمریت” پریقین رکھتا ہے اس میں یہ اہلیت ہوتی ہے کہ وہ جب اورجس وقت چاہے ایک واضح اکثریت حاصل کرکے اپنے پورے ڈھانچے کوتبدیل کرسکتا ہے. اسی لیے میں نے اسے نام نہاد اسلامی اورحقیقی طورپرجمہوری آئین قراردیا ہے. کیونکہ پاکستان کے آئین کی کسی بھی شق میں یہ ضمانت نہیں دی گئی کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے ارکان دو تہائی اکثریت سے اس آئین کے اسلامی تشخص کوتبدیل نہیں‌ کرسکتے. آئین ان ارکان اسمبلی کومکمل اختیاردیتا ہے کہ وہ جب اورجس وقت چاہیں دوتہائی اکثریت سے قرارداد مقاصد کوآئین سے کھرچ کرباہرپھینک دیں اورنعرہ بھی وہی لگائیں جوسلمان تاثیرنے توہین رسالت کے قانون کے بارے میں لگایا تھا کہ یہ قرارداد مقاصد تو 1973ء کے اصل آئین میں ایک دیباچے کی حیثیت رکھتی تھی اوراسے ضیاءالحق کی آمریت نے آئین کا حصہ بنایا. کیا آئین کی کوئی ایک شق یا آرٹیکل بھی ایسا ہے کہ جواراکین اسمبلی کوپابند بناتا ہوکہ وہ قادیانیوں کوغیرمسلم اقلیت قراردینے والی ترمیم کوختم نہیں کرسکتے. وہ جب اورجس وقت چاہیں اس کودوتہائی اکثریت سے اٹھا کرباہرپھینک سکتے ہیں اوران کا یہ فیصلہ عین جمہوری بھی ہوگا اورعالمی جمہوری اخلاقیات کے عین مطابق بھی. اس لئے کہ پاکستان میں قانون بنانے، آئین مرتب کرنے، اوران میں ترمیم وتنسیخ کا مکمل اختیارعوام کی منتخب کردہ پارلیمنٹ کوہے. وہ اگرکہیں گے کہ شریعت ہمارا سپریم لاء ہے تووہ رہے گا، وہ انکارکردیں گے توآئین میں دی گئی یہ حیثیت کہ “کوئی قانون قرآن وسنت کے منافی نہیں بنایا جاسکتا” پلک جھپکتے میں ختم ہوجائےگی. کہا جاتا کہ، ایسا کوئی نہیں کرے گا. اس فریب کا پردہ بھی نوازشریف شریف کی نون لیگ نے چاک کردیا. انہیں اکثریت حاصل تھی، انہوں نے انسانی تاریخ کے ازل سے مسلمہ اصول تبدیل کردیا. دنیا کی کسی پارلیمنٹ، بادشاہت یا آمریت نے کبھی علی الاعلان یہ نہیں کہا تھا کہ ہم ایک جھوٹے، بددیانت اورخائن شخص کواپنا رہنما تسلیم کرتے ہیں. لیکن ہماری پارلیمنٹ نے یہ کرکے دکھایا، اب ایک قاتل، چور، ڈاکو، خائن اورمسلمہ جھوٹا شخص‌بھی کسی سیاسی پارٹی کا لیڈرہوسکتا ہے. یہ توابھی سادہ اکثریت حاصل تھی، اسلام تودورکی بات ہے انسانیت کے بنیادی اصولوں کوبھی قانون سے اٹھا کرباہرپھینک دیا گیا. بہانہ پھروہی جوسلمان تاثیردیا کرتا تھا کہ یہ توایک آمرکا دیا ہوا قانون تھا. اس آئین کے اسلامی تشخص کے تحفظ کے علمبردار آخرمیں‌ ایک دلیل دیتے ہیں، ایسا کوئی نہیں کرے گا، سپریم کورٹ میں چیلنج ہوجائے گا، کوئی بنیادی ڈھانچے میں ترمیم نہیں کرسکتا، اورعوام ایسا نہیں ہونے دیں گے. واہ! کیا خوب منطق ہے. وہ سپریم کورٹ اسے روکے گی جس کوتم لوگ روز طعنے دیتے ہوکہ اپنی حد سے تجاوز نہ کرو، آئین سازی اورقانون سازی توپارلیمنٹ کا اختیارہے. دوسری منطق یہ پیش کی جاتی ہے کہ عوام ایسا نہیں کرنے دیں گے. واہ کیا جمہوری دلیل ہے. یعنی عوام جلوس نکالیں گے، دھرنے دیں گے، تحریک چلائیں گے اورتم پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکرکہو گے یہ سب غیرجمہوری علم ہے، کیا ہم دھرنوں اورجلوسوں سے ڈرجائیں. ہم توبائیس کروڑعوام کے نمائندے ہیں، یہ مٹھی بھردھرنے والے اورجلوس والے انتہا پسند جمہوریت پرڈاکہ مارنے آئے ہیں، ان کے پیچھے کچھ طالع آزما کارفرما ہیں، کیا پارلیمنٹ ان جمہوریت دشمن غنڈو‌ں کے سامنے سرتسلیم خم کردے. یہ ہے حیثیت اورمقام جوکسی بھی جمہوری آئین میں آئین الہیٰ یا احکامات الہیٰ کا ہوتا ہے. اس لیے کہ دنیا کسی بھی جمہوری حکومت میں طاقت کا سرچشمہ اورآئین وقانون بنانے کا اختیار عوام کے پاس ہوتا ہے.
a


دنیا کی تاریخ میں اللہ، خدا، یزدان، ایشور اورگاڈ کے خلاف سب سے منظم بغاوت جدید سیکولرجمہوری نظام نے کی ہے. اس سے پہلے
فرعون ہوتا تھا جو خدائی کا دعویٰ کرتا تھا اورلوگوں پرجبرسے اپنے اس دعوے کونافذ کردیتا تھا. لیکن بحیثیت قوم جومنطق آج جمہوری ریاست پیش کرتی ہے ویسی ہی منطق حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم نے پیش کی تھی جن پرناپ تول میں کمی کرنے پرعذاب آیا تھا. انہوں نے حضرت شعیب سے یہی کہا تھا کہ “کمائیں ہم اپنی محنت سے اورخرچ تمہارے اللہ کی مرضی سے کریں”. یہی منطق آج کے تمام سیکولرجمہوری دستوری آئینوں میں درج ہے. ہروہ آئین مکمل طورپرجمہوری ہوتا ہے جس میں یہ صلاحیت موجود ہوکہ وہ عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ کی طاقت سے خود کوتبدیل نہیں کرسکے اورپاکستان کا آئین بھی یہ صلاحیت اپنے اندربدرجہ اتم رکھتا ہے. یہ صلاحیت جس آئین میں بھی ہوتی ہے وہ تمام الہیٰ تعلیمات اورقوانین ہی نہیں‌ بلکہ قوانین فطرت کے خلاف بھی قوانین بنانے اوران پرعملدرآمد کرنے کی اہلیت رکھتا ہے. پوری انسانی تحقیق اس بات پرمتفق ہے کہ فطرت نے ہرجاندارکے جوڑے بنائے ہیں، جن میں ایک نراورایک مادہ ہے. انسان سمیت سب کےسب جانداریہاں تک کہ کتا اورسوربھی یہ شعوررکھتے ہیں کہ جوڑانراورمادہ کے درمیان ہی بنتا ہے اوراسی سے کائنات کا نظام چلتا ہے. کوئی اللہ ، خدا، ایشور، یزداں یا گاڈ کومانے یا نہ مانے اس فطری حقیقت سے انکارنہیں کرسکتا. لیکن یہ کمال ہے اس جمہوریت کا کہ عوام کی منتخب پارلیمنٹ کی اکثریت یہ قانون منظورکرتی ہے، بلکہ ایک نہیں کئی ممالک میں‌ منظورکرتی ہیں کہ دومادہ یا دونربھی مل کرجوڑا بنا سکتے ہیں اورشادی کرسکتے ہیں. اس پورے جمہوری نظام نے اللہ کومسجد، چرچ اورمندرتک محدود کردیا ہے. اسے گھریلو زندگی میں بھی دخل اندازی کی اجازت نہیں. یہ سب آج اس لئے یاد آیا کہ اٹھارہ سوسے زائد علماء نے “پیغام پاکستان فتویٰ” میں پاکستان کوایک اسلامی ریاست قراردیا ہے اورآئین پاکستان کوایک عہد نامہ قراردیا ہے جس سے عہد شکنی غداری قرارپاتی ہے. یہ آئین ایک ایسا عہد نامہ ہے جس میں شریعت کے نفاذ کا وعدہ آج تک پورا نہیں ہوسکا، اوریہ ایسا عہد نامہ ہے جسے پارلیمنٹ کی اکثریت کسی بھی وقت توڑنے یا بدلنے یا تبدیل کرنے کا اختیاررکھتی ہے. اس لیے کہ آئین اللہ کے ساتھ کیا گیا عہد اللہ کی طاقت سے انکارکرے توکیا ہے اس کی پابندی لازم ہوگی. پاکستان خالصتاً ایک جمہوری ریاست ہے. مکمل مذہبی ریاست اسرائیل ہے. اسرائیلی پارلیمنٹ یعنی کینسٹ کا پہلا اجلاس مئی 1948ء میں ہواتمام اراکین نے ایک فیصلہ کیا کہ ہم آئین مرتب نہیں کریں گے کیوں کہ ایسی کسی دستاویزکی حیثیت تورات اورتالمود سے بڑھ جائے گی. اسرائیل کا آئین تورات ہے. آج سترسال گزرنے کے باوجود اسرائیل نے آئین نہیں بنایا اوروہ بے آئین ملک اس دنیا میں چل بھی رہا ہے. تورات میں تبدیلی کا کسی کواختیارنہیں. کیا پاکستان یہ اعلان کرسکتا ہے کہ ہمارا آئین قرآن ہے ہمیں کسی آئین کی ضرورت نہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں