javed-chaudhry-columns

جمہوریت کا جوہڑ

javed-ch
کامران ٹیسوری اختر ٹیسوری کے صاحبزادے ہیں‘ اختر ٹیسوری ٹھیکیدار تھے‘ یہ ٹھیکیداری سے سونے کے کاروبار میں آئے‘ ٹیسوری گولڈ کے نام سے کمپنی بنائی اور کروڑوں روپے کمائے‘ کامران ٹیسوری نے کاروبار سنبھالا‘ یہ منی چینجر اور پراپرٹی کا کاروبار بھی کرتے رہے‘ یہ نوے کی دہائی میں سیاست میں بھی آ گئے‘ ق لیگ جوائن کی اور یہ سندھ کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کے دائیں بازو بن گئے‘ صوبائی وزراء بھی اپنے کام نکلوانے کے لیے کامران ٹیسوری سے رابطہ کرتے تھے‘ یہ اس دور میں کروڑوں سے اربوں روپے میں آ گئے۔

وزیراعلیٰ نے انھیں بدین میں 80 ایکڑ زمین الاٹ کر دی‘ یہ قبرستان کی زمین تھی‘ یہ لیاری ایکسپریس وے پر چار سو فائلوں کے مالک بھی تھے‘ سندھ حکومت نے انھیں فائلوں کا معاوضہ بھی دے دیا‘ یہ معاوضہ ان کی دولت میں مزید اضافے کا باعث بن گیا‘ پیپلز پارٹی کی حکومت آئی‘ ذوالفقار مرزا سندھ کے وزیر داخلہ بن گئے‘ ان کے خلاف بدین میں زمینوں پر قبضے کی ایف آئی آر لانچ ہوئی‘ یہ اسلام آباد میں چوہدری شجاعت حسین کے گھر چھپ گئے‘ یہ چند ماہ ملک ریاض کے پاس بھی مہمان رہے‘ یہ بعد ازاں پاکستان مسلم لیگ فنکشنل میں شامل ہو گئے‘ یہ پیرصبغت اللہ شاہ راشدی کے بہت قریب تھے‘ ان کی وجہ سے پگاڑا فیملی میں اختلافات پیدا ہوئے ‘ یہ اس کے بعد ایم کیو ایم میں داخلے کا دروازہ تلاش کرنے لگے‘ یہ دروازے تک پہنچ گئے لیکن یہ اندر داخل نہ ہو سکے‘ یہ ڈاکٹر فاروق ستار کے ذاتی دوست تھے‘ یہ بے شمار معاملات میں ان کے سہولت کار تھے۔

ایم کیو ایم نے 23 اگست 2016ء کو الطاف حسین سے علیحدگی کا اعلان کیا‘ فاروق ستار پارٹی کے سربراہ بنے تو یہ بھی پارٹی میں داخل ہو گئے‘ فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے بھرپور احتجاج کے باوجود کامران ٹیسوری کو نہ صرف رابطہ کمیٹی کا ممبر بنا دیا بلکہ یہ پارٹی کے ڈپٹی کنوینئر بھی بن گئے اور محمود آباد سے ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑا ‘ ایم کیو ایم نے 3 فروری کو سینیٹ کے امیدواروں کا فیصلہ کرنا تھا‘ ڈاکٹر فاروق ستار نے اچانک کامران ٹیسوری کو ٹکٹ دینے کا اعلان کر دیا‘ رابطہ کمیٹی نے احتجاج کیا‘ ایم کیو ایم کے چار سینیٹرز طاہر مشہدی‘ نسرین جلیل‘ تنویر الحق تھانوی اوربیرسٹر فروغ نسیم مارچ میں سینیٹ سے ریٹائر ہو رہے ہیں‘ رابطہ کمیٹی کی خفیہ ووٹنگ ہوئی‘ نسرین جلیل کو 24‘ فروغ نسیم کو 23‘ امین الحق کو 17اور شبیر قائم خانی کو 14 ووٹ ملے‘ عامر خان پانچویں اور کامران ٹیسوری چھٹے نمبر پر تھے‘ رابطہ کمیٹی کی اکثریت ان کے خلاف تھی لیکن فاروق ستار ڈٹ گئے‘ رابطہ کمیٹی نے بھی اسٹینڈ لے لیا اوریوں ایم کیو ایم ایک بار پھر تماشہ بن گئی‘ پارٹی ٹوٹ گئی۔
اشتہارات



کامران ٹیسوری کی کہانی کیا ثابت کرتی ہے؟ یہ کہانی سیاسی جماعتوں کے مائینڈ سیٹ کو ظاہر کرتی ہے‘ ہماری سیاسی جماعتیں بدقسمتی سے صنعتی یونٹ اور زرعی فارمز ہیں‘ آپ کے پاس جتنے ایم این ایز اور ایم پی ایز ہیں آپ اتنی ہی پاور لومز اور مربعوں کے مالک ہیں اور آپ ان مربعوں اور ان پاور لومز سے اتنی ہی فصل اور اتنی ہی کاٹن حاصل کر سکتے ہیں‘ مجھے یہ اعتراف کرتے ہوئے شرم آ رہی ہے پاکستان میں ایم پی اے اور ایم این اے کے الیکشن کے دوران ذات‘ برادری‘ مال اور اثرورسوخ دیکھا جاتا ہے‘ آپ اگر گجروں کے حلقے میں گجر‘ راجپوتوں کے علاقے میں رانا‘ راؤ یا وٹو اور سیدوں کے شہر میں سید ہیں۔

آپ اگر بااثر ہیں‘ لوگ آپ کے سامنے دبتے ہیں‘ آپ ووٹ خریدنے‘ بیلٹ باکس اٹھانے اور پریذائیڈنگ افسر کو یرکانے کی اہلیت رکھتے ہیں اور آپ نے اگر شہر میں دس بیس سرکاری پراپرٹیز پر قبضہ کر رکھا ہے یا آپ دس بیس مقدموں میں مطلوب ہیں توپھر آپ کو کسی نہ کسی بڑی پارٹی کا ٹکٹ ضرور مل جائے گا ‘ آپ الیکشن جیت کر قومی اور صوبائی اسمبلی میں بھی پہنچ جائیں گے اور آپ نے اگر اسمبلی میں دس پندرہ ایم پی ایز یا ایم این ایز کا گروپ بنا لیا تو آپ وزیر بھی بن جائیں گے لیکن جہاں تک سینیٹ کا تعلق ہے یہ ٹکٹ سیدھے سادے فروخت ہوتے ہیں‘ پارٹی سربراہان سینیٹ میں قوم کی نمایندگی کے لیے ہمیشہ کامران ٹیسوری جیسے امراء اور رؤساء کی تلاش میں رہتے ہیں‘ رؤساء بھی سینیٹ میں نمایندگی کے لیے دس پندرہ بیس کروڑ روپے خرچ کرنے میں تامل نہیں کرتے‘ مجھے ملک کے ایماندار اور سچے ترین فرزند راولپنڈی شیخ رشید کا ایک بیان پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔

شیخ اعظم نے انکشاف کیا‘ کسی صاحب نے عمران خان کو کے پی کے سے سینیٹ کے ٹکٹ کے عوض چالیس کروڑ روپے کی پیش کش کی جب کہ بلوچستان میں سینیٹ کے ٹکٹ کی بولی ایک ارب روپے تک پہنچ چکی ہے‘ شیخ رشید کا بیان غلط نہیں‘ یہ درست فرما رہے ہیں‘ آپ کو اگر ان کی بات پر یقین نہ آئے تو آپ سینیٹ کے نئے امیدواروں کی فہرست نکال کر دیکھ لیں‘ آپ کو تمام پارٹیوں کے امیدواروں میں بے شمار ارب پتی ملیں گے‘ پاکستان تحریک انصاف نے اعظم سواتی کو دوسری بار سینیٹ کا ٹکٹ دے دیا‘ یہ اس سے قبل جے یو آئی (ف) کی مدد سے بھی سینیٹر بن چکے ہیں‘ یہ 2018ء میں چوتھی بار سینیٹر بنیں گے‘ یہ امریکا اور دوبئی میں اربوں روپے کے کاروبار کے مالک ہیں‘ یہ سینیٹر بننے سے قبل جے یو آئی (ف) کی رکنیت تک سے محروم تھے۔

اعظم سواتی نے سینیٹ کا ٹکٹ اور رکنیت دونوں ایک ہی دن میں حاصل کیں‘آپ ان کی اسپیڈ ملاحظہ کیجیے‘ یہ 2011میں پی ٹی آئی میں آئے اور 2012ء میں سینیٹ کا ٹکٹ حاصل کر لیا‘پی ٹی آئی نے انھیں دوسری بار بھی ٹکٹ عنایت کر دیا‘ حاجی ایوب پی ٹی آئی کے دوسرے ارب پتی ہیں‘ یہ پشاور زلمی ٹیم کے مالک جاوید آفریدی کے والد بھی ہیں‘ارب پتی خیال زمان اورکزئی پراپرٹی کے بزنس سے وابستہ ہیں‘ فدا محمد خان بھی ٹھیک ٹھاک امیر شخص ہیں جب کہ چوہدری سرور بھی ارب پتی ہیں‘ پاکستان مسلم لیگ ن نے ہارون اختر کو ٹکٹ دیا‘ یہ بھی ارب پتی بزنس مین ہیں‘ اسحاق ڈار میاں نواز شریف کے سمدھی بھی ہیں اور یہ کتنے امیر ہیں آپ صرف حدیبیہ پیپر مل کیس کی سماعت سن لیں‘ شاہین بٹ امریکا میں کاروبار کرتے ہیں‘ یہ بھی ارب پتی ہیں‘ سعدیہ عباسی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ہمشیرہ اور رئیس خاتون ہیں۔

زبیر گل لندن میں کاروبار کرتے ہیں‘ یہ پچھلے دس برس سے میاں نواز شریف کے پیچھے کھڑے نظر آتے ہیں ‘ یہ ان کا واحد کمال ہے تاہم مشاہد حسین سید مڈل کلاس کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں‘ یہ پوری سیاسی کلاس میں ذہین اور دانش ور ہیں لیکن جہاں تک ان کی سیاسی ایمانداری کا تعلق ہے تو اس کے سامنے مینار پاکستان جتنا بلندسوالیہ نشان لگا ہے‘ یہ ق لیگ کے سیکریٹری جنرل تھے لیکن انھوں نے سینیٹ کے ٹکٹ کے لیے سیکریٹری جنرل کا عہدہ بھی ’’قربان‘‘ کر دیا اور چوہدری شجاعت حسین کی محبت بھی بلی چڑھا دی‘ آپ پیپلز پارٹی کے امیدوار بھی دیکھ لیجیے‘ مصطفی نواز کھوکھر راولپنڈی کے کھوکھر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہ خاندان کھربوں روپے کی پراپرٹی کا مالک ہے‘ آپ علی جاموٹ‘ انعام الدین شوقین اور ایاز مہر کے پروفائل بھی دیکھ لیجیے‘ آپ کو ان میں بھی دولت کی چمک نظر آئے گی تاہم پیپلز پارٹی نے مرتضیٰ وہاب اور کرشنا کولہی کو ٹکٹ دے کر فرض کفایہ ادا کر دیا‘ مرتضیٰ وہاب فوزیہ وہاب مرحومہ کے صاحبزادے ہیں جب کہ کرشنا کولہی تھر کی ہندو پاکستانی ہیں‘ یہ خاندان سمیت سندھی وڈیرے کی نجی جیل میں رہیں‘ مجھے یہ دونوں جینوئن ٹکٹ محسوس ہوتے ہیں اور پیچھے رہ گئی جمعیت علماء اسلام ف تو اس نے ایک بار پھر ارب پتی تاجر طلحہ محمود کو ٹکٹ دے دیا‘ طلحہ محمود 2006ء میں پہلی بار سینیٹر منتخب ہوئے‘ یہ بھی سینیٹر پہلے منتخب ہوئے اور جے یو آئی (ف) کے رکن بعد میں بنے‘ یہ ارب پتی ٹکٹ ہولڈروں کی فہرست کے چند نام ہیں‘ آپ اگر تفصیل میںجا کر دیکھیں گے تو آپ کو ایسے درجنوں ہیرے مل جائیں گے۔

آپ سینیٹ کے امیدواروں کے پروفائل نکال کر دیکھ لیجیے‘ آپ یہ بھی پوچھ لیجیے ان امیدواروں میں سے کس نے کب پارٹی جوائن کی تو آپ کو ساری کہانی سمجھ آ جائے گی‘ سوچنے کی بات ہے جس ملک کے مقدس اور بالاترین ایوان کی یہ حالت ہو‘ جس میں سینیٹ کے ٹکٹ اہلیت اور وفاداری کے بجائے بینک بیلنس دیکھ کر دیے جاتے ہوں اور جس میں ایم پی اے کا ووٹ خریدنے کے لیے پچیس پچیس کروڑ روپے بولی لگ جاتی ہو‘ جس میں عمران خان کو ٹکٹ کے لیے چالیس کروڑ روپے کی پیش کش ہو جائے اور جس میں میاں نواز شریف ایسے لوگوں کو ٹکٹ دے دیں جنہوں نے پارٹی کی بنیادی رکنیت کا فارم بھی پر نہ کیا ہو‘ کیا اس ملک کی جمہوریت کو جمہوریت کہنا چاہیے‘ یہ سینیٹ وہ ایوان ہے جس نے کل پاکستانی عوام کے لیے ایمانداری کا کرائی ٹیریا طے کرنا ہے‘ جس نے زینب کے قاتل علی عمران کو سرعام پھانسی دینے کا فیصلہ کرنا ہے اور جس نے 2018ء کے آخر میں ایماندار ججوں کی ایماندارانہ تعیناتی کا نیار فارمولہ بنانا ہے‘سوال یہ ہے کیا یہ لوگ ایمانداری کا یہ بوجھ اٹھا سکیں گے؟ جی ہاں یہ اٹھا لیں گے کیونکہ یہ ملک میں ایمانداری کی کریم ہیں‘ یہ وہ مدہانی ہیں جو معاشرے کو بلو کر تمام شعبوں کے لیے قائدین پیدا کریں گے‘یہ غریبوں کے آنسو پوچھیں گے۔

میں حیران ہوں چیف جسٹس آف پاکستان گندے پانی پر سوموٹو نوٹس لے رہے ہیں لیکن ان کی ناک کے نیچے جمہوریت کا جوہڑ تیار ہو رہا ہے مگر یہ اس سے بے خبر ہیں‘ مجھے یقین ہے کل کا مؤرخ یہ سوال ضرور اٹھائے گا کہ انصاف کے بابا رحمتے کو یہ جوہڑ کیوں نظرنہیں آیا تھا‘ یہ اس سے کیوں بے خبر رہے تھے‘کل کا مؤرخ پوچھے گا یہ کیا لوگ تھے !یہ ٹینکیوں میں مٹی ڈال کر ٹوٹیوں میں صاف پانی تلاش کرتے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں