زیادہ سافٹ ڈرنک پینا بانجھ پن کا باعث بن سکتا ہے

soft-drinks-cause-infertility
میساچیوٹس: سافٹ ڈرنک کے ضرورت سے زیادہ استعمال مردوں اورعورتوں میں بانجھ پن کا باعث بن سکتا ہے، اگرآپ اولاد کے خواہش مند ہیں توآپ کوسافٹ ڈرنک کا استعمال کم کرنا ہوگا.

ریسرچ جرنل “ایپیڈیمیولوجی” کے تازے شمارے میں شائع ہونے والے سروے کے مطابق ایسے مرد جو روزانہ کی بنیاد پرمیٹھے سوڈے کے مختلف مشروبات کا استعمال کرتے ہیں ان میں باپ بننے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے. لیکن یہ اثرات صرف مردوں تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ زیادہ سافٹ ڈرنک پینے والی خواتین میں بھی حمل ٹھہرنے کا امکان کم ہوجاتا ہے.

علاوہ مردوں کے مادہ منویہ (اسپرم) کو شدید متاثر کررہی ہیں۔ اس کے علاوہ پہلے بھی ماہرین سافٹ ڈرنک اور تولیدی عمل کی تباہی کے درمیان تعلق دریافت کرچکے ہیں۔

بوسٹن یونیورسٹی اسکول آف پبلک ہیلتھ کے سائنس دانوں نے 21 سے 45 سال کی 3,828 خواتین اور ان کے شوہروں کو اس سروے میں شامل کیا جن کا تعلق امریکا اور کینیڈا سے تھا۔

اس سروے میں طرز زندگی، غذا اور میڈیکل ریکارڈ دیکھا گیا۔ ان میں خواتین سے ہر دو ماہ بعد ایک سوال نامہ بھروایا گیا اور ان سے حاملہ ہونے کے بارے میں بھی پوچھا گیا اور کل 12 ماہ تک ان خواتین کا جائزہ لیا گیا۔

ماہرین نے سروے کے آخر میں ڈیٹا کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ خواہ مرد ہو یا عورت اگر وہ سافٹ ڈرنک کی زائد مقدار پیتے ہیں تو ماہانہ بنیادوں پر ان کے والدین بننے کا امکان 20 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

جن خواتین نے روزانہ ایک گلاس سافٹ ڈرنک پی ان میں ماہانہ بنیادوں پر حمل ٹھہرنے کا امکان 25 فیصد تک کم نوٹ کیا گیا۔ جبکہ مردوں میں یہ شرح 33 فیصد تک نوٹ کی گئی۔ جن خواتین و حضرات نے سافٹ ڈرنک استعمال نہیں کی ان میں یہ شرح کم دیکھی گئی۔

تاہم ڈاکٹروں نے عندیہ دیا ہے کہ ان کی تحقیقات کو ایک طرح کا انتباہ سمجھا جائے کیونکہ اس میں شریک افراد کی تعداد بہت کم ہے۔ ڈاکٹروں کا اصرار ہے کہ سافٹ ڈرنک سے تولیدی صحت شدید متاثر ہوتی ہے اس لیے میٹھے سوڈا سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں