selfie-mental-disorder

ماہرین نے زیادہ سیلفیاں لینے کودماغی مرض قراردے دیا

selfie-mental-disorder
اپنے سمارٹ فون سے سیفلی لینا اورپھراسے سوشل میڈیا پرشائع کرنا آج کل نہ صرف بہت مقبول ہے بلکہ یہ ایک معمول بن چکا ہے. بظاہریہ کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے لیکن دوماہرینِ نفسیات کے مطابق یہ عادت دماغی مرض کی علامت بھی ہوسکتی ہے.

2014ء میں ایک آرٹیکل شائع ہوا تھا جس میں لفظ ‘سیلفائٹس’ استعمال کیا گیا تھا اورکہا گیا تھا کہ امریکن سائکیٹرک اسوسی ایشن اس کو باقاعدہ مرض کے طورپرتسلیم کرے گی. انٹرنیشنل جرنل آف مینٹل ہیلتھ میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں مارک ڈی گرفتھزاورجنارتھن بالاکرشنن کا کہنا ہے کہ سلفائٹس ایک حقیقی بیماری ہے اورحد سے زیادہ سیلفی لینا اس کی بنیادی علامت ہے.

انہوں نے بھارت میں 400 افراد کے سیلفی لینے کی عادات کا بغورمطالعہ کرنے کے بعد ایک پیمانہ تشکیل دیا ہے جوتین سطحوں پرمبنی ہے اوریہ علامات کی شدت کا اندازہ لگانے میں مدد دیتا ہے.

پہلی سطح میں وہ افراد شامل ہیں جوروازنہ کم ازکم تین سیلفیاں لیتے ہیں لیکن انہیں کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پرشائع نہیں کرتے. دوسری سطح ان لوگوں پرمشتمل ہے جوسیلفی لینے کے بعد اسے سوشل میڈیا پرپوسٹ بھی کرتے ہیں جبکہ تیسری سطح میں شامل افراد خود کوسیلفی لینے سے روک نہیں پاتے اوردن میں کم از کم چھ سیلفیاں پوسٹ کرتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں