جنوبی افریقہ: وہ تصویرجوکوئی نہیں دکھاتا

orya-maqbool-jan-column
جوہانسبرگ کے ایئرپورٹ سے باہرآیا توذہن میں پورے افریقہ اورخصوصاً جنوبی افریقہ کے بارے میں بچپن سے جوتصورقائم ہوتا ہے، یہ بالکل اس کے برعکس شہرنکلا. یہ صرف پاکستان کے نصاب تعلیم اورصحافی جہالت کا خاصہ نہیں کہ ہمیں افریقہ صرف ہاتھیوں، گینڈوں، شیروں اورزرافوں کے ساتھ ساتھ جسموں پرمختلف قسم کے رنگوں سے لکیریں بنائے جنونی انداز میں‌ رقص کرتے ہوئے حبشیوں کی صورت دکھایا جاتا ہے، بلکہ ایسا تاثردنیا کے مہذب ترین ممالک کے بچوں کے نصاب اورتاریخ وجغرافیہ کی کتابوں‌ میں بھی ملتا ہے. اگرتھوڑا بہت کوئی نوجوان اخبارات و رسائل کی ورق گردانی کرنے لگے تواسے اس خطے میں‌ قحط نظرآئے اوربھوک سے مرتے ہوئے انسانوں کی تصویریں دکھائی دیں گی. خوفناک چوروں، قاتلوں اورلوٹنے والوں کے قصے ملیں‌گے اورقبائلی جنگ میں‌ ہزاروں انسانوں کوقتل کرنے والے افریقی جنگجونظرآئیں گے. دنیا کے کسی خطے میں ایک کالے افریقی حبشی کا مسکراتا ہوا مہذب اورانسانی اخلاقیات سے مزین چہرہ پیش نہیں کیا جاتا. ان کے شہروں کی خوبصورتی اورانتظام کا کوئی ذکرنہیں کرتا، وہاں ملنے ملاوٹ سے پاک خوراک اورگندگی سے مبرا آب وہوا کا کوئی تذکرہ نہیں کرتا. ایک عام یورپی یا ایشیائی اورامریکی شخص جس نے کبھی ان خطوں کا سفرنہ کیا ہواسے اندازہ ہی نہیں ہوسکتا کہ یورپ کے بڑے بڑے سیاحتی شہروں سے قحبہ گری، جوا، تماش بینی اورفحش ماحول کومنفی کردیا جائے توان میں کوئی کشش باقی نہ رہے. کوئی ہے جوپیرس سے لے کراوسلوتک ایک ہی طرح کی عمارت، سڑکیں، بار، نائٹ کلب اورایک جیسا مردہ موسم دیکھنے جائے. لوگوں کوماضی کے کھنڈرات کے اردگرد بے شمارجدید “سہولیات” سے آراستہ ماحول بنا کرانہیں وہاں آنے کی ترغیب دی جاتی ہے. ایفل ٹاورہویا پیسا ٹاور، بگ بین ہویا روم کا ٹوٹا ہوا سٹیڈیم یہ سب کے سب چند لمحوں کی دید کے بعد اپنی جاذبیت کھودیں اگران کے اردگرد لاتعداد پرآسائش ہوٹل، سینما گھر، تھیٹر، مساج پارلر، کسینواورراتوں کی رنگینیاں موجود نہ ہوں. لیکن جوہانسبرگ میں توایک سحرہے، ایک جادو ہے اوریہ جادو صرف اس کی قدرتی خوبصورتی اورشاندارفطری ماحول تک محدود نہیں. اس کی سڑکیں دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ شہرسے زیادہ جدید اورشاندارہیں. اس کی عمارات کے نقشے اس قدرشاندارہیں کہ رات کے وقت اگرآپ سیلڈن کے مرکزی علاقے سے گزریں توایسے لگتا ہے جیسے آپ کئی سومربع کلومیٹرکے شیشے کے گھرمیں سے گزررہے ہوں اوروہ روشنیوں سے جگمگا رہا ہے. یارلوگوں کے لیے مغرب کے شہروں کی ایک اورجاذبیت بھی ہے اوروہ یہ کہ ہرشہرکی سڑکوں پرنیم برہنہ ملبوسات میں گھومتی خواتین اورسرراہے فٹ پاتھوں پربوس وکنارمیں مشغول جوڑے نظرآتے ہیں. ہمارے ہاں کے “عظیم، سیکولراورلبرل دانشوریا نوگرفتارلکھاری انہی چیزوں کوآزادی، حریت اورانسانی حقوق کی معراج سمجھتے ہیں اوراپنے ملک پررورایک نفرت کی نگاہ ڈال کریورپ اورامریکہ کے ان شہروں کوجنت نظیرثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں. جوہانسبرگ کی سڑکوں پرآپ کوایسا کوئی منظردیکھنے کونہیں ملے گا. گوری ہویا کالی ایک مہذب لباس زیب تن کیے سڑک پرنکلتی ہے جس نے دکانوں، ہوٹلوں، ریستورانوں، سیاحتی مراکز اوردیگرجگہوں پران افریقی حبشیوں سے زیادہ شائستہ اورمہذب گفتگوکرتے ہوئے کسی کویورپ میں بھی نہیں دیکھا. مسکراتا ہوا چہرہ اوردل سے خوش آمدید کہتی ہوئی آواز. ایسے لوگ تونیویارک، لندن اورپیرس کی سڑکوں پرنہیں ملتے. وہاں توغرورسے اکڑی ہوئی گردنوں اورتنی ہوئی کھوپڑیوں سے گفتگوکا اعزازحاصل ہوتا ہے. آپ کا گندمی رنگ ہی ان شہروں میں بسنے والے گوروں کے ماتھے پربل ڈالنے کے لیے کافی ہے. اگرآپ نے اپنا نام بتا دیا کہ آپ عبداللہ یا محمد ہیں. توپھردیکھیے آنکھوں ہی آنکھوں میں آپ کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے.



جوہانسبرگ کے سکول آف قردوبا میں لیکچرکے لیے پہنچا تواردگرد سے اذان کی آواز سنائی دی. میری حیرت کی انتہا نہ رہی. یہاں پورے جنوبی افریقہ میں توصرف تین فیصد مسلمان ہیں، کیا کسی نسل پرست گورے یا قوم پرست کالے نے جاکرپولیس کوشکایت نہیں کی کہ اذان بند کرائی جائے کیونکہ اس سے ماحولیاتی آلودگی پھیلتی ہے. جواب نے میری حیرتوں میں اوراضافہ کردیا کہ صرف یہی نہیں بلکہ پورے جنوبی افریقہ میں وہ علاقے جہاں‌ مسلمان رہتے ہیں وہاں اذان کی آواز سنائی دے گی بلکہ پورے ملک کی تمام بڑی بڑی فوڈ چینزپرحلال گوشت میسرآتاہے. گزشتہ دنوں یہاں ایک بہت بڑی فوڈ چین “برگرکنگ” نے اپنے کاروبارکا آغاز کیا توٹیلی ویژن پرایک عالمی انسانی حقوق کی علمبرداراینکرنے اس سے سوال کیا کہ آپ غیرحلال گوشت کیوں نہیں استعمال کرتے. ظاہربات ہے ٹیلی ویژن امریکی تھا اوراس کے تعصب کویہ بات سمجھ نہیں‌ آرہی تھی کہ سب کے سب حلال گوشت کے برگرکھائے جارہے ہیں اس نے جواب دیا دونوں میں ذبح کرنے کا ہی توفرق ہے. جبکہ حلال طریقے سے ذبح‌ کرنے والا گوشت سوفیصد لوگ استعمال کرسکتے ہیں. لیکن پھربھی آپ باقی ستانوے فیصد لوگوں کی طرح ذبح کیوں نہیں کرتے. اس نے کہا ایسا کوئی مطالبہ جنوبی افریقہ کے کسی علاقے سے نہیں کیا گیا. آخرمیں وہ جھنجھلا گیا اورکہنے لگا آپ باقی تمام فوڈ چین والوں سے کیوں نہیں پوچھتیں. ہم سے کئی سالوں پہلے سے کاروبارکررہے ہیں. برگروالے ہیں، پیزاوالے ہیں، چکن والے ہیں سب کے سب حلال گوشت استعمال کرتے ہیں.
استنبول کی شانداربلیومسجد کی طرز پریہاں جوہانسبرگ میں ایک مسجد بنائی گئی ہے جس پراسی مسجد کا گمان ہوتا ہے اس کے اردگرد ویسا ہی ایک ترک کھانوں اوردیگراشیاء کا بازارہے. گنبد میں گونجتی قرآن پاک کی تلاوت اورمیناروں سے بلند ہوتی اذان کی آوازمیں آپ کواحساس تک نہیں ہوتا کہ آپ کسی ایسے ملک میں ہیں جہاں کی واضح‌ اکثریت مسلمان نہیں. جس ملک نے احمد دیدات جیسے شخص کوجنم دیا. کیونکہ وہ 1918ء میں سورت میں پیدا ہونے کے فوراً بعد یہاں آگئے تھے اورجنوبی افریقہ کی فضا میں ہی انہیں عیسائی مشنریوں سے گفتگوکا موقع ملا، بحث ومباحث شروع ہوئے، احمد دیدات ان مشنریوں کے عزائم جاننے کے لیے مطالعے میں مصروف ہوگئے ان کے ہاتھ رحمت اللہ کیرانوی کی کتاب “اظہارالحق” تک گئی. جس میں ہندوستان میں سوسال پہلے آںے والے عیسائی مشنریوں کے طریق کارکوکھول کربتایا گیا تھا احمد دیدات کوجنوبی افریقہ ہی کے ماحول میں عیسائیت اوراس کی تعلیمات کے وسیع مطالعے کا موقع ملا اوروہ کسی بھی پادری سے زیادہ جاننے والے مشہورہوگئے. اس وسیع مطالعے کے بعد انہوں نے عیسائیت کے رد میں اپنا پہلا لیکچر1942ء میں ڈربن کے ایک سینما گھرایوالون سینما میں دیا اورپھراپنے مشن کا آغاز ایک گائیڈ ٹؤر”Guided Tour” سے کیا جووہ ڈربن کی مسجد میں کرواتے تھے اورساتھ ساتھ عیسائیت کا رد کرتے تھے. اس کے بعد سے اپنے انتقال کے دن 8 اگست 2009ء تک احمد دیدات کا نام ایک ایسے شخص کے طورپرجانا جاتا تھا جس کا مقابلہ عیسائی دنیا میں کوئی پادری نہیں کرپاتا تھا. ٹھیک بیس دن بعد 28 اگست کوان کی بیوی حوادیدات بھی انتقال کرگئیں. جنوبی افریقہ کے شہرڈربن کے قبرستان میں ان نیک ارواح کی آخری آرام گاہیں ہیں. وہ خطہ جسے آج بھی نسلی تعصب اورانسانی ترقی کے مخالف سمت معاشروں کے طورپرپیش کیا جاتا ہے کیا دنیا کا کوئی معاشرہ کسی اقلیتی مذہب کے لیے اتنی خندہ پیشانی اوروسیع القلبی رکھتا ہے.

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں