راولپنڈی میں کاریم کیپٹن قتل

careem-captain-killed-rawalpindi
اسلام آباد: پچھلے ماہ اسلام آباد میں جنید مصطفیٰ نامی کاریم کیپٹن کے قتل کی واردات کے بعد راولپنڈی میں ایک اورکاریم ڈرائیورکوقتل کردیا گیا.

پیرکی رات 22 سالہ کاریم کیپٹن سجاول امیرکونامعلوم افراد نے گولیاں مارکرقتل کردیا. پولیس کا کہنا ہے کہ سجاول کوامیرکونصیرآباد کے علاقہ گاڑی چھیننے کے دوران متعدد گولیاں ماری گئیں. پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سجاول امیرکوہسپتال لے جایا گیا جہاں منگل کی صبح وہ وفات پا گیا.

نصیرآباد پولیس نے خبررساں اداروں کوبتایا کہ نامعلوم افراد نے سجاول کی گاڑی چھیننے کی کوشش کی لیکن کچھ ہی دورجانے کے بعد ٹریکر کی وجہ سے گاڑی بند ہوگئی جس کے بعد وہ گاڑی وہیں چھوڑکرفرارہوگئے. پولیس کے مطابق گاڑی برآمد کرلی گئی ہے اورنامعلوم افراد کے خلاف پرچہ بھی درج کیا جا چکا ہے. مجرم گاڑی کے علاوہ سجاول کے پیسے اورموبائل فون بھی اپنے ساتھ لے گئے.

ایک اعلیٰ پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ کاریم سے ڈیٹا حاصل کرلیا گیا ہے اورتفتیش کا آغاز ہوچکا ہے. ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں‌ ہوسکی ہے کہ آیا سجاول کے قاتل وہی لوگ ہیں جنہوں نے گاڑی بک کروائی تھی یا کوئی اور. پولیس اہلکار نے مزید کہا کہ گاڑی میں موجود افراد کی تعداد کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کیونکہ گاڑی چھیننے اورقتل کی اس واردات کا کوئی عینی شاہد نہیں ہے. سجاول امیرکوپانچ گولیاں ماری گئی تھیں.

پولیس کا ماننا ہے کہ مجرمان نے گاڑی بک ہی چھیننے کی نیت سے کروائی تھی. سجاول امیرکا تعلق ضلع بھکر سے تھا اوروہ راولپنڈی اوراسلام آباد میں گاڑی چلاتا تھا. سجاول کو پیرکی رات 10 بج کر35 منٹ پرقتل کیا گیا. کاریم نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے:

“ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان واقعات کا انتہائی سختی سے نوٹس لیں اورشہریوں کے تحفظ‌ میں اضافہ کریں. ہم قانونی ذرائع استمال کرتے ہوئے ان واقعات کی بھرپورپیروی کریں گے. مقتول کے خاندان کی بھی تلافی کی جائے گی. سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم قانون سازوں پرزوردیں گے کہ وہ اسلام آباد کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کا نوٹس لیں گے اورفوری طورپراس میں بہتری لانے کے اقدامات کریں گے”.

اپنا تبصرہ بھیجیں