یہ ہوتا ہے ایمان

orya-maqbool-jan-column
جنوبی افریقہ ایک ایسا ملک ہے جس میں روزایک جہانِ حیرت مجھ پرکھلتا ہے. رات دارالعلوم پیریٹوریا میں “اقبال اورعشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم” کے موضوع پرگفتگوکرنے کے لیے کہا گیا توجہاں اس بات پرحیرانگی تھی کہ اتنی بڑی مسجد کھچا کھچ بھری ہوئی تھی وہاں مجھ سے پہلے دارالعلوم کا ایک افریقی طالب علم سٹیج پرآیا. میں نے افریقی اس لیے لکھا کہ وہ نسلاً کالا تھا لیکن اس نے انتہائی خوبصورت اورشائستہ اردومیں گفتگوشروع کردی. کہنے لگا میری مادری زبان زولو ہے لیکن ہمارے مدرسے میں ہمیں تین زبانیں بیک وقت پڑھائی جاتی ہیں. عربی، انگریزی اوراردو. اس کے بعد اس نے سب کوپاکستانی نعد خوانوں‌ کی طرح باآواز بلند ذوق شوق سے درود پڑھنے کے لیے کہا اوراس کے بعد مولانا احمد رضا خان بریلوی کی نعت انتہائی خوش الحانی سے پڑھنے لگا. کمال کی بات یہ تھی کہ نہ صرف وہ بلکہ پورا مجمع اس کی آواز میں آواز ملا رہا تھا. اس مسجد کے مہتمم آج سے پچیس سال قبل اپنے مرشد کے حکم پرمانسہرہ سے یہاں آئے تھے. یہ وہ زمانہ تھا جب پوری دنیا نے نسل پرست جنوبی افریقہ سے سفارتی تعلقات ختم کررکھے تھے اورپاکستانی پاسپورٹ پریہ عبارت درج تھی کہ “یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل اورجنوبی افریقہ کے تمام ممالک میں استعمال ہوسکتا ہے”. ایسے میں یہاں پہنچنا کشتیاں جلا کرآنے کے مترادف تھا.
اگلے روز مجھے ایک اورمدرسے “دارالعلوم زکریا” میں جانے کا اتفاق ہوا. کئی ہیکٹرپرپھیلا ہوا یہ عظیم الشان مدرسہ اپنی مثال آپ ہے. یوں لگتا تھا جیسے میں دنیا کی کسی شاندار یورنیورسٹی میں آ گیا ہوں، بلکہ اگرسچ کہا جائے توبڑی سے بڑی یونیورسٹی میں بھی اس قدر اہتمام سے عمارات تعمیرنہیں کی ہوں گی جیسی اس مدرسے کی تھیںِ. لیکن ایک بار پھرمجھے حیرت نے یہاں گھیر لیا. مدرسے کے اساتذہ کی اکثریت جامعہ بنوریہ کراچی سے فارغ التحصیل تھی. وہی لباس کی سادگی، وہی گفتگوکی سلاست اورویسی ہی درویشی. اس مدرسے میں بارہ افریقی ممالک کے طلبہ زیرتعلیم تھے. ہرکوئی مختلف مادری زبان رکھتا تھا، لیکن جیسے آپ آکسفورڈ یا ہارورڈ جائیں توآپ کوکسی بھی مضمون میں تعلیم حاصل کرنا ہو، آپ کوانگریزی پردسترس ہونا چاہیے. ناروے کی یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جاؤ تونارویجیئن سیکھنا پڑتی ہے. یہی حال فرانس، جرمنی اوردیگرممالک کا ہے. جنوبی افریقہ کے ان مدارس میں اگرآپ کوتعلیم حاصل کرنا ہے توپھرآپ کواردو پرعبورہونا چاہیے. ان مدارس میں پڑھنے والے طلبہ اردواس قدرخالص بولتے ہیں کہ ان پررشک آتا ہے. ان کا اردو سے ایک احترام اورعقیدت کا رشتہ ہے کہ یہ زبان ان کی دینی تعلیم کا وسیلہ بنی. تفاسیراورفقہ کی جوکتب وہ پڑھتے ہیں وہ عربی میں ہوتی ہیں یا اردو میں. کمال کی بات یہ ہے کہ دونوں زبانوں میں ان مدارس کی نصابی کتب تحریرکرنے والے علماء پاکستان اورہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں. پرویز مشرف کے سیکولرلبرل دورسے پہلے دنیا بھر کے طالبان علم اپنے علم کی پیاس بجھانے پاکستان کے مدارس میں آتے تھے. ان کے نزدیک کراچی، لاہور اورپشاورکے مدارس علم دین کے اعتبارآکسفورڈ یا کمبرج سے کم نہ تھے. ایک زمانہ تھا جب پنجاب یونیورسٹی میں مشرقِ وسطیٰ اورمشرق بعید کے ممالک کے طلبہ فارمیسی اورکیمیکل انجینئرنگ جیسے شعبوں میں علم حاصل کرنے لاہورآتے تھے. پنجاب یونیورسٹی کا ہاسٹل نمر2 انٹرنیشنل ہاسٹل تھا اوراس میں آپ کولاتعداد اقوام کے طلبہ رہائش پذیرنظرآتے تھے. پاکستان کے تعلیمی نظام پربھٹودورمیں زوال آیا توان سب نے یہاں آنا چھوڑدیا لیکن پاکستان میں دینی تعلیم تواپنے بام عروج پرتھی. مشرف نے پاکستانی مدارس میں روزانہ کی بنیاد پرچھاپے مارنے، لوگوں کواٹھانے اورمسلسل تفتیش کرنے کا ایسا عمل شروع کیا کہ یہ تمام طلبہ بھاگ کردیگرممالک میں چلے گئے. کیا مشرف کے اقدامات سے دین کا علم رک گیا، اورکیا ایسا کرنے سے پاکستان میں دہشت گردی کم ہوگئی. یہ ہوتے ہیں وہ لوگ جودنیا اورآخرت دونوں کا خسارہ سمیٹتے ہیں. نہ علم کا راستہ رک سکا اورنہ ہی اساتذہ کا. البتہ ایک بات ہوگئی کہ دینی تعلیم کے عالمی نقشے سے پاکستان نکل گیا. یہ الگ بات ہے کہ یہ علم جہاں بھی گیا اپنے ساتھ اردو زبان کا احترام ساتھ لے کرگیا.



جنوبی افریقہ کی مساجد یوں لگتا ہے کچھ ایسے اہتمام سے بنائی گئی ہیں اوراس قدرمحبت سے ان کی دیکھ بھال ہوتی ہے کہ رشک آتا ہے. وضو خانوں کی صفائی اورطہارت خانوں‌ کی حالت اس قدر صاف اورنفیس ہے کہ کوئی شخص اگرایک دفعہ تولیے سے منہ صاف کرلے تووہ تولیہ لانڈری والے ڈبے میں پھینک دیا جاتا ہے. میں جس مسجد میں بھی نماز ادا کرنے کے لیے رکا، ایسے لگا جیسے کوئی ابھی ابھی قالین ڈال کرگیا ہے. ایک دوست بتا رہے تھے کہ پاکستان سے ایک تبلیغی جماعت کے ساتھی آئے اورمساجد کودیکھنے کے بعد کہنے لگے، اللہ کے گھرتوپوری دنیا میں دیکھے ہیں لیکن اللہ کی کوٹھیاں اوربنگلے جنوبی افریقہ میں نظرآئے. ایک مسجد سے نماز پڑھ کرنکلا تومیزبان محمد علی انجم نے ایک شخص سے ملایا. خوبصورت نیلی آنکھوں اورلمبی گھنی ڈارک براؤن داڑھی، یہ احمد کتھرادا کا نواسہ ہے. ایک دم افریقی عوام کی آزادی کی جدوجہد آنکھوں کے سامنے گھوم گئی. احمد کتھرادا نیلسن منڈیلا کا ساتھی تھا اوراس نے منڈیلا کی طرح ہی قیدوبند کی صعوبتیں اٹھائی تھیں. اس کے والدین برطانوی ہندوستان سے ہجرت کرکے یہاں آئے تھے. اس نے نسل پرستی کے خلاف آواز اٹھائی تواسے بھی گیارہ جولائی 1963ء کوشروع ہونے والے مشہورمقدمے کا حصہ بنا لیا گیا اورپھراسے نیلسن منڈیلا کےساتھ اتنی ہی سزا ہوئی لیکن چونکہ وہ ایک مسلمان تھا، اس لیے نہ اس کا ذکرعالمی میڈیا میں ملے گا اورنہ ہی میرے ملک کا سیکولرلبرل اس کا ذکرکرے گا. احمد کتھرادا کا نواسہ یوسف تواپنے حلیے سے ہی ان لوگوں کوخوفزدہ کرسکتا ہے. پگڑی، داڑھی اوروہ بھی اسامہ بن لادن جیسی. دوسری جانب نیلسن منڈیلا کے پوتے مانڈیلا منڈیلا نے بھی کچھ عرصہ پہلے اسلام قبول کرلیا ہے. اس کے باپ نے اس بات پربہت شورمچایا لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹا. وہ اپنے قبیلے کا سربراہ بھی ہے. اس نے مسلمان ہوتے ہی سب سے پہلے گاؤں میں داخل ہونے والے شراب کی بوتلوں سے بھرے ہوئے ٹرک کوواپس لوٹا دیا اورچیلنج کیا کہ مجھے عیسائیت میں شراب کا حلال ہونا دکھا دو. یہ وہ لوگ ہیں کہ جب اسلام قبول کرتے ہیں توصدق دل سے کرتے ہیں. گزشتہ سال جب پانامہ لیکس سامنے آئیں تووزیراعظم نوازشریف کی طرح جنوبی افریقہ کے صدرزوما کا بھی اس میں نام تھا. یہ شخص نیلسن منڈیلا اوراحمد کتھرادا کی پارٹی افریقن نیشنل کانگریس کا اہم رکن تھا. پانامہ لیکس میں نام آیا. پارٹی نے اجلاس بلایا اورکہا تم پریہ سب الزامات ہیں کہ تم اپنے بھانجے جیکب زوما اوربھارتی تاجرگپتا کے ذریعے کرپشن کرتے رہے ہو. تم فوراً صدارت سے استعفیٰ دے دیا لیکن اصل قابل فخربات یہ ہے کہ جب اس کا نام پانامہ میں آٰیا تواس کے کچھ عرصہ بعد احمد کتھرادا کا انتقال ہوگیا. زوما ابھی صدرتھا. 28 مارچ 2017ء کواس کا جنازہ تیارتھا. افریقی عوام کی جدوجہد کا دوسرا بڑا لیڈر، آخرت کے سفرپرروانہ ہونے لگا توزوما نے کہا میں اس کے جنازے میں‌ آنا چاہتا ہوں. کتھراداکے خاندان، منڈیلا کے پوتے اورتمام مسلمانوں نے کہا تم پربددیانتی کا الزام ہے تم ایک عظیم مسلمان انقلابی کا جنازہ پڑھنے نہیں آؤگے. کیا پاکستان کے علماء میں کوئی ایسا صاحبِ ایمان ہے جووقت آنے پرایسا اعلان کرسکے کہ قومی بددیانتی کے مجرم ہمارے جنازوں میں نہ آئیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں