کیا راؤ انوارسیاسی پناہ میں نہیں ہے، چیف جسٹس


اسلام آباد: نقیب اللہ قتل کیس سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ عدالت کو راؤ انوار کا ایک اور خط موصول ہوا ہے.
چیف جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی سماعت کے دوران عدالت کے معاون وکیل کا کہنا تھا کہ نقیب اللہ قتل کیس میں 27 ملزمان نامزد ہیں جن میں سے صرف 10 ہی گرفتار ہوسکے ہیں. ریاست کی رٹ پر سوال اُٹھ رہے ہیں.
چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ راؤ انوار کا ایک اور خط آیا ہے، معلوم نہیں خط اصلی ہے یانقلی، خط کو فائل میں رکھوا دیا ہے، خط میں راؤ انوار نے کہا ہے کہ ان کے بینک اکاؤنٹ بحال کردیں، پولیس کی رپورٹس تو مل رہی ہیں لیکن کیس میں پیش رفت نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے آئی جی سندھ سے استفسار کیا کہ کیا ایم آئی اورآئی ایس آئی آپ کی معاونت کررہے ہیں، جس پرآئی جی سندھ نے کہا کہ دونوں سیکیورٹی ادارے معاونت کررہے ہیں، اب تک 12 ملزمان گرفتارہوچکے ہیں، باقی ملزمان کی گرفتاری کی کوشش کررہے ہیں، پہلی ایف آئی آر منسوخ کردی ہے۔ مقدمے کا چالان داخل کردیا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا یہ ایک بڑا سوال ہے، کیا راؤ انوارسیاسی پناہ میں نہیں ہے، جس پر آئی جی سندھ نے کہا کہ بطور ذمہ دار آفیسر یہ نہیں کہہ سکتا کہ راؤانوار سیاسی پناہ میں ہے، اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ ہمارے صوبے میں نہیں اور اس کی آخری لوکیشن بھیرہ تھی۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں