’’تم بھلائے نہ گئے ‘‘


لمبا قد، اکہرا بدن، چمپئی رنگت، یونانی دیوتائوں جیسے نقوش، بن پیئے بھی نشیلی مقناطیسی آنکھیں، گھنی داڑھی، مخروطی انگلیاں، ملکوتی آواز، چال ایسی جیسے پھولوں بھری ڈال ہلکی ہوا میں جھول رہی ہو، مصور ایسا کہ برش، کینوس اور رنگ باری باری صدقے جائیں ۔اس نے زندگی اور زندگی نے اس کے ساتھ جی بھر کے فلرٹ کیا۔بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں کے باوجود نہ اس نے کبھی دولت کی خواہش کی نہ شہرت کی ہوس پالی حالانکہ معمولی سی سنجیدگی بھی اختیار کرتا تو دولت اور شہرت اس کے دربار میں سر جھکائے ہاتھ باندھے کھڑی ہوتیں لیکن وہ ان آلائشوں سے بے نیاز تھا ۔تقریباً 48سال پہلے جب بطور انڈر گریجویٹ نیوکیمپس میں قدم رکھا تو وہ ایک سینئر کے طور پر پہلے سے موجود تھا اور اس کی موجودگی کو نظر انداز کرنا نا ممکن، لیکن سینیوریٹی حائل تھی ۔تب نیوکیمپس میں صرف چار بوائز ہاسٹل تھے اور ہر ہاسٹل کا ہر کمرہ اس کا کمرہ تھا، اس کی ہائیٹ کے ہر لڑکے کےکپڑے ،اس کے کپڑے تھے۔میرا صرف مفلر ہی اس کے کام آ سکتا، جس نے مجھے اس سے متعارف کرایا تو خبر ملی کہ وہ کسی سینئر جونیئر، اونچ نیچ پر یقین ہی نہیں رکھتا۔یوں ہماری دوستی شروع ہوئی اور ہوتی چلی گئی۔ 48سال میں بچہ پیدا ہو کر بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن ہماری دوستی ہمیشہ جوان رہی ۔وہ دنیا گھوما اور جہاں بھی گیا داستان چھوڑ آیا لیکن اپنی عادتیں، آوارگی اور پاکستان نہ چھوڑ سکا ۔ڈالر، پائونڈ، درہم، ریال اور روپے اس کیلئے ردی کے ٹکڑے تھے اور وہ کبھی حال مست کبھی بدحال مست لیکن مجال ہے جو کبھی ماتھے پر شکن، گردن میں خم یا لہجے میں ملال کی جھلک بھی دکھائی دی ہو۔جون ایلیا نے شاید اسی کیلئے لکھا تھا ۔میں بھی بہت عجیب ہوں، اتنا عجیب ہوں کہ بسخود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیںاس جیسا کوئی دوسرا نہیں دیکھا ۔زندگی میں وقت اور عمر کے ساتھ ساتھ کم یا زیادہ کچھ نہ کچھ تبدیلی تو ہر کسی میں آتی ہے لیکن اس کی اپنی ہی دنیا تھی جس میں سر موفرق نہیں آیا۔ یوسف ہونڈا اُسے لڑکپن سے جانتا اور ہمیں بتاتا کہ یہ شروع سے ہی ایسا ہے میں سوچ رہا ہوں کہ اگر کوئی پچھلا اگلا جنم ہوتا ہے تو یہ شخص پچھلے ہی نہیں اگلے جنم میں بھی ایسا ہی اٹھے گا۔وہ تربیت یافتہ مصور تھا جو اس طرف توجہ دیتا تو شاکر علی، صادقین اور چغتائی ہوتا ۔وہ شوقیہ گاتا، سنجیدہ ہو جاتا تو پیشہ ور گائیکوں پر بھاری پڑتا کہ ایسی سریلی اور سنہری آواز بھی زندگی میں کم کم ہی سننے کو ملتی ہے لیکن پھر وہی بات کہ اس نے زندگی اور زندگی نے اس کے ساتھ جی بھر کے فلرٹ کیا اور مجھے یقین ہے دونوں ایک دوسرے سے بھرپور لطف اندوز ہوئے۔ چندمخصوص گیت اسے بہت محبوب تھے’’تیرے صدقے بلم نہ کر کوئی غم‘‘’’سمے دھیرے بہو‘‘اور فیورٹ ترین گیت تھا’’تم بھلائے نہ گئے …ہائے بھلائے نہ گئے ‘‘ہم نے 48سال یہ گیت سنے اور ہر بار یوں محسوس ہوا جیسے پہلی بار سن رہے ہوں۔کیمپس کی نہر کے درختوں اور پانیوں کو کون کیسے بتائے گا کہ ان کا بیجوباورا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ان سے بچھڑ گیا اور اب کبھی رات گئے دوستوں کے ساتھ وہاں آکر گئے دنوں کو یاد نہیں کرے گا۔سازٹوٹ گیا آواز گم ہوگئی ۔87ء میں مرشد مرحوم نے میرا پورٹریٹ بنایا جو وقت کے ساتھ کچھ دھندلا مٹیاسا گیا کہ گزشتہ چند برسوں سے بیلی پور کی ’’ہانسی حویلی ‘‘ میں لٹک رہا تھا جس کی ڈسٹنگ مہینے میں ایک دو بار ہی ہوتی ہے۔چند ہفتے پہلے مسعود داڑھو آیا تو اسے بتایا اور پوچھا ’’اس کا کیا کروں؟‘‘کیونکہ یہ پورٹریٹ اسے بھی بہت پسند تھا۔ داڑھو نے کہا ….’’تم خود کوئی پنگا نہ لینا،میں آپ آکر خود لیکرنگ کردوں گا، محفوظ ہو جائے گا۔‘‘گزشتہ رات جاوید گتے اور اگلی صبح طارق چڑی نے بتایا کہ مسعود داڑھو رخصت ہوا۔آوارہ گردلمبی آوارگی پہ نکل گیا اور میں سوچ رہا ہوں میرے دھندلاتے ہوئے پورٹریٹ کا کیا بنے گا۔’’تم بھلائے نہ گئے ……ہائے بھلائے نہ گئے‘‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں