بنیاد نہیں، اعتماد نہیں


سب سے پہلے ایک بے ضرر سی وضاحت اور تصحیح۔ ہارون الرشید نے اک ٹی وی پروگرام میں یہ کہا کہ شریفوں کے جاتی عمرہ والی سڑک روکنے پر میں نے ’’بیلی پور‘‘ والی ’’ہانسی حویلی‘‘ احتجاجاً بیچ دی۔ پہلی بات یہ کہ وہ گھرموجود ہے بلکہ آج کل پینٹ ہو رہا ہے ۔ فیملی ویک اینڈز وہیں گزارتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ شریفوں نے سڑک کبھی روکی نہیں کہ یہ ممکن ہی نہ تھا۔ سروس روڈ سے آمدو رفت معمول کے مطابق جاری رہی لیکن ان کی ’’تجاوزات‘‘ بہرحال انتہائی ناگوار اور ناپسندیدہ تھیں۔ یہ ’’قبضہ گروپ‘‘ مین روڈ پر قابض تھا جس کی وجہ سے میں اپنے دوسرے گھر میں شفٹ ہو گیا اور خود سے یہ عہد کیا کہ جب تک شریفوں کی ان ’’تجاوزات‘‘ پر جھاڑو نہیں پھرتا اور ان کے 7ویں آسمان پر پہنچے دماغ ٹھکانے نہیں آتے میں ’’بیلی پور‘‘ والے گھر کارخ نہیں کروں گا۔ سو میں تقریباً 5 سال اپنے پسندیدہ گھر نہیں گیا حالانکہ ملتان روڈ سندر سائیڈ سے آنے جانے کی آپشن موجود تھی۔ یہ ناپاک رویوں پر احتجاج اور ان سے نفرت کے اظہار کا طریقہ تھا۔ الحمد للہ عدالتی حکم پر جھاڑو پھر چکا، عوام کا رستہ عوام کو واپس مل چکا لیکن کہانی اس سے کہیں پرانی ہے۔ بیلی پور شفٹ ہونے یعنی 2000سے بہت پہلے میرے بیسیوں کالم ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں پروٹوکول اور سیکیورٹی کے نام پر رستے روکنے، رکاوٹیں کھڑی کرنے پر بارہا لعنت بھیجی گئی یعنی مسئلہ ’’ذاتی‘‘ نہیں ’’اصولی‘‘ تھا۔ کاش یہ نام نہاد عوامی نمائندے خود ہی عقل کرتے، ہوش کے ناخن لیتے، جمہوریت کی آڑ میں جمہور کی توہین سے باز آ جاتے تو کتنے اچھے لگتے لیکن جو اچھا لگے وہ سیاستدان ہی کیا؟ اور اب چلتے ہیں اس سوال کی طرف کہ اعتماد کیا ہے اورزندگی میں اس کی حیثیت کیا ہے؟ تو سب سے پہلے مجھے ولیم شیکسپیئر یاد آتا ہے جس نے کہا تھا: “Love all, trust a few.” زندگی بھر کا تجربہ اس کی تصدیق کرتا ہے کہ محبت تو سب سے کی جاسکتی ہے لیکن اعتماد کے قابل صرف چند لوگ ہی ہوتے ہیں۔ کرامویل کہا کرتاتھاکہ اپنے خالق پر اعتماد رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنا بارود بھی خشک رکھو۔ اعتماد کرسٹل کی مانند بیش قیمت اور خوبصورت شے ہے جو ٹوٹنے پر جوڑا تو جاسکتا ہے لیکن پہلے والی بات باقی نہیں رہتی۔صوفیا کہا کرتے ہیں……اعتماد صرف اس پر کرو جو اللہ پر کامل اعتماد رکھتا ہو۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ جس کی بنیاد ٹھیک نہیں، اس پر اعتماد ٹھیک نہیں تو دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ خود پراعتماد تمہیں دھوکہ دے سکتاہے، مایوس کرسکتا ہے….. دوست پر اعتماد کرو تو وہ بچھڑ بھی سکتا ہے، دولت پر اعتماد کا کیا مطلب کہ وہ تو چھن بھی سکتی ہے، ساکھ پر بھروسہ بھی مشکوک کہ وہ مجروح بھی ہوسکتی ہے…. صرف رب العالمین پر ہی آنکھیں بند کرکے اعتماد کیا جاسکتاہے۔J.Mecdonald نے”TRUST”کو کمال خراج تحسین پیش کیا۔”To be trusted is a greater compliment than to be loved.”Boom نے عجیب سی بات کی ہے جو شاید پوری طرح میرے پلے بھی نہیں پڑی لیکن پھر بھی آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔ وہ کہتا ہےکہ جب تمہاری ٹرین کسی اندھیری سرنگ میں داخل ہوتی ہے تو کیا تم ٹکٹ پھاڑ کر ٹرین سے چھلانگ لگا دیتے ہو؟ ہرگز نہیں بلکہ تم اس انجینئر پر اعتما د کے لئے مجبور ہوتے ہو جس نے سرنگ ڈیزائن کی ہوتی ہے حالانکہ تم اس کے نام تک سے واقف نہیں ہوتے۔قدیم ریڈ انڈینز کہا کرتے تھے کہ انسان جس پر اعتماد کرتا ہے، اپنی زندگی اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتاہے۔اک یونانی محاورہ کے مطابق:”He who mistrusts most should be trusted least.”اور اس جملے کا تو جواب ہی نہیں۔”Trust God for the unexpected, and let him surprise you by doing the unexplainable.”ہمارے سیاستدانوںکا سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہے کہ ان پراعتماد نہیں کیا جاسکتا، اسی لئے انہیں ’’اوقات‘‘ میں رکھنا ضرورت بھی ہے اور مجبوری بھی۔ بابائے قوم کے بعد ایک سیاستدان بتائیں جس پر آنکھیں بند کرکے اعتماد کیا جاسکتا ہو یعنی پھر وہی بات کہ جس کی بنیاد نہیں، اس پر اعتماد نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں