چینی خاندان کو24 سال بعد بچھڑی ہوئی بیٹی مل گئی

chinese-family-found-lost-daughter-24-years
ایک چینی جوڑے کو24 سال کی تلاش کے بعد اپنی بچھڑی ہوئی بیٹی مل گئی. وینگ منکنگ اوران کی اہلیہ لیوڈنگ ینگ اپنی بیٹی کی‌فنگ کی تلاش کررہے جوکہ 1994ء سے لاپتہ تھی. وینگ اپنی بیٹی کی تلاش میں ٹیکسی ڈرائیوربن گئے کہ شاید ان کی بیٹی کسی مسافرکی شکل میں انہیں واپس مل جائے.

ان کی بیٹی نے 24 سال اپنے والد کی ایک آن لائن پوسٹ دیکھنے کے بعد ان سے رابطہ کیا جس کے بعد ان کی اپنے والدین سے ملاقات طے پائی. اس کی کہانی کی بازگشت پورے ملک میں پھیل گئی اوربہت سے لوگ اس خاندان کے واپس ملنے پرجشن منا رہے ہیں.

وینگ منکنگ اوران کی بیوی لیوڈنگ ینگ پھل فروش تھے اورچین کے شمال مغربی شہرچینگڈو میں ایک دن اپنے گاہکوں سے فارغ ہونے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ ان کی بیٹی ان کے پاس موجود نہیں ہے. اس کے بعد وہ کئی سال تک شہراوراس کے گردونواح میں اپنی بیٹی کوتلاش کرتے رہے.

اس مقصد کے لیے انہوں نے اخبارات میں اشتہاردیے اورآن لائین بھی کافی اپیلیں کیں. دونوں میاں بیوی اپنی دوسری بیٹی کے ساتھ ہمیشہ چینگڈو‌شہرمیں ہی مقیم رہے اس امید پرکہ شاید ایک دن ان کی بیٹی واپس گھرآجائے.

2015ء میں وینگ منکنگ نے اپنی تلاش کا دائرہ کاروسیع کرنے کا فیصلہ کیا اورانہوں نے دیدی چوشنگ نامی ٹیکسی کمپنی میں ٹیکسی ڈرائیورکے طورپرنوکری شروع کردی. انہوں نے اپنی ٹیکسی کی پچھلی سکرین پراپنی بیٹی کی گمشدگی کا اشتہارچسپاں کردیا اوراس کے ساتھ ساتھ وہ ہرسواری کواپنی بیٹی کے متعلق معلومات بھی فراہم کرتے.

ان کے پاس اپنی بیٹی کے بچپن کی کوئی تصویرموجود نہیں تھی اس لیے انہوں نے گمشدگی کے اشتہارپراپنی دوسری بیٹی کی تصویرلگا دی کیونکہ دونوں بہنوں کی شکلیں کافی متلی جلتی تھیں.

گزشتہ سالوں میں چینی پولیس نے متعدد لڑکیوں کی نشاندہی کی فنگ کے طورپرکی لیکن ہردفعہ ڈی این اے ٹیسٹ نے ثابت کیا کہ وہ وینگ منکنگ کی بیٹی نہیں ہیں. لیکن پھرچینی پولیس کے ایک خاکہ نگارکواس کہانی کا علم ہوا اوراس نے وینگ کی مدد کرنے فیصلہ کرتے ہوئے کی فنگ کا خاکہ تیارکیا اوراس تصویرکوانٹرنیٹ پرپھیلا دیا گیا.

ہزاروں کلومیٹردور کینگ ینگ نامی عورت نے یہ تصویردیکھی اوروہ اس تصویرسے اپنی مشابہت دیکھ کربہت ہی حیران ہوئی. اس نے وینگ منکنگ سے رابطہ کیا جس کویہ جان کربہت خوشی ہوئی کہ اس عورت اوران کی گمشدہ بیٹی میں بہت مماثلت تھی. مثلاً ان کی بیتی کی طرح اس عورت کے ماتھے پربھی ایک زخم کا نشان تھا اوراسے بھی روتے وقت متلی کی شکایت ہوتی تھی.

ان سب اعلامات کے بعد انہوں نے فوری طورپرڈی این اے ٹیسٹ کا بندوبست کیا جس سے یہ ثابت ہوگیا کہ یہ عورت واقعی ہی ان کی گمشدہ بیٹی تھی.

اپنا تبصرہ بھیجیں