’’کُتے تیتھیںاُتے‘‘


سنا ہے عمران خان کا ’’شیرو‘‘ بھی نکالے جانے کے بعد پوچھتا پھر رہا ہے ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘میرا ذاتی خیال ہے کہ برکت بے برکتی کا تعلق انسان کے اعمال سے ہے۔ قرآن پاک کی 18ویں سورہ مبارکہ کہف میں اصحاب کہف کے ساتھ ان کے کتے کا ذکر بھی ہے جس میں کوئی منفی تاثر نہیں ملتا۔ہمارے عظیم صوفی شاعر بابا بلھے شاہ جی نے بھی ’’کتےتیتھیںاُتے‘‘جیسا شہکار لکھ کر کتے کی وفا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان لوگوں کو شرم دلائی ہے جو بے وفائی کے عادی مرتکب ہوتے ہیں۔ہمارے برادر ملک چین نے بھی یہ سال کتے کے نام کررکھا ہے تو مجھے بابائے قوم محمد علی جناح کی وہ بیحد خوبصورت تصویر یاد آ رہی ہے جس میں وہ سوٹ پہنے زمین پر گھٹنے ٹیکے اپنے دو کتوں کے ساتھ بیٹھے ہیں جن میں سے ایک بہت ’’وجیہہ‘‘ قد آور جبکہ دوسرا ننھا منا سا پوئول ہے۔صدر پرویز مشرف کے ابتدائی دنوں میں کتوں کے ساتھ ان کی ایک تصویر شائع ہوئی جسے سیکنڈ لائز کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ایڈولف ہٹلر نے خودکشی سے پہلے اپنی محبوبہ ایوابرائون اور محبوب کتے کو بھی ہلاک کر دیا تھا تاکہ دشمن کی اہانت سے بچ سکیں۔ سنا ہے ہر کتا اور یجنلی بھیڑیا ہے ۔جو جو ہیومن فرینڈلی ہوتے گئے ،کتے کہلائے باقی بھیڑیئے کے بھیڑیئےرہے اور کوئی ’’ترقی‘‘ نہ کر سکے۔مجھے بھی کتوں کا بہت شوق ہے جوورثہ میں ملا۔ ہمارے بچپن میں ایک ’’جوجو‘‘ہوتا تھا جو ہم سب بہن بھائیوں کو آج بھی بہت یاد آتا ہے ۔’’بیلی پور‘‘ والے گھر میں میرے پاس گدی نسل کا جوڑا تھا۔نام تھے ’’پنکی‘‘ اور ’’پینتھر‘‘ ۔پینتھر کو سانپ نے ڈس لیا تو ’’پنکی‘‘ اکیلی رہ گئی اور زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکی۔پینتھر کی جدائی اس کیلئے جان لیوا ثابت ہوئی جس کے بعد ہم شہر شفٹ ہو گئے۔ موجودہ گھر میں کتے پالنے کی عیاشی افورڈ نہیں ہو سکتی اس لئے صرف فاختائوں اور کبوتروں پر گزارا ہے ۔بل کلنٹن کا ’’بڈی‘‘ بھی بہت مشہور ہے ۔کتوں کی تاریخ میں چھ سات کتے بہت نامور گزرے ہیں۔ʼʼStubbyʼʼ نام کا کتا توSergeant for combat duty کے عہدے تک جا پہنچا تھا۔یہ ایک آوارہ امریکن کتا تھا جو ’’جینئس‘‘ثابت ہوا۔ ʼʼBarryʼʼ نامی کتے نے اپنی زندگی میں کم از کم 40انسانوں کی زندگیاں بچائیں ۔’’چپس‘‘ نامی کتا دوسری جنگ عظیم کے ہیروز میں سے ایک ہے جسے ’’سلور سٹار‘‘ اور ’’پرپل ہارٹ‘‘جیسے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔



ʼʼHachikoʼʼنامی کتا، کتوں کی تاریخ میں بھی وفا کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ʼʼBaltoʼʼنامی کتا بھی امریکن کتوں کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ ʼʼSwanseaʼʼنے 27لوگوں کو ڈوب کر مرنے سے بچایا ۔شروع شروع میں اس کتے کی انسان دوستی کے اس مظاہرہ کو ا تفاق سمجھا گیا لیکن جب اوپر نیچے ʼʼSwanseaʼʼنے 27بار یہ کام کیا تو لوگ قائل ہوتے چلے گئے ۔ہمارے ہاں عموماً گھر میں کتا رکھنا نامناسب سمجھا جاتا ہے جبکہ قرآن پاک میں کہیں کوئی ایسا حکم موجود نہیں۔ شکاری کتے کا پکڑا ہوا شکار بھی جائز (Lawful)ہے ان زمانوں میں بھی کتوں کو شکار کی تربیت دی جاتی تھی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کتوں کو 20سے 40ہزار سال قبل گھروں میں پالتو جانوروں کے طور پر پالا جانا شروع کیا گیاتھا۔یہ وہ وقت تھا جب بھیڑیئے بھی انسانوں کے ساتھ رہتے اور شکار کرنے میں مدد دیتے تھے۔سویڈن میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق کتے پالنے والے افراد کو دل کی بیماریوں یا دوسری وجوہات سے موت کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔تحقیقی ٹیم نے 40سے 80سال کے درمیان کی عمر کے افراد کو منتخب کیا اور پھر ان کا موازنہ کتے پالنے والوں سے کیا۔کتے رکھنے سے جسمانی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے اور عموماً فعال افراد ہی کتے پالتے ہیں۔بحیثیت مسلمان کیا میرے لئے یہ کافی نہیں کہ قرآن پاک میں کتوں کے سدھائے جانے کا اور ان کے شکار کے جواز کا ذکر موجود ہے ؟ارشاد ہوا ۔’’وہ تم سے سوال کرتے ہیں کہ ان کیلئے کیا حلال ٹھہرایا گیا ہے ۔کہو تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال ٹھہرائی گئی ہیں اور شکاری جانوروں میں سے جن کو تم نے سدھایا ہے اس علم میں سے کچھ سکھا کر جو اللہ نے تمہیں سکھا دیا ہے تو تم ان کے اس شکار میں سے کھائو جو وہ تمہارے لئے روک رکھیں اور ان (شکاری جانوروں) پر اللہ کا نام لے لیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ بہت جلد حساب چکانے والا ہے ‘‘سوشیرو کا عمران خان سے یہ پوچھنا جائز ہے ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں