’تم یاد آئے‘


اخبارکے فلمی صفحے کی چھوٹی سی خبرمجھے بچپن میں لے گئی اورخبر یہ تھی کہ گیارہ اپریل کو سدابہار گلوکار احمد رشدی کی 35ویں برسی منائی جائے گی۔ اسکول کے دنوں کی بات ہے۔ اللہ بخشے والد اکثر لاہور آیا کرتے، توکبھی کبھار مجھے اور چھوٹی بہن کوبھی ساتھ لے لیتے توہمارے لئے یہ ’’ورلڈ ٹور‘‘ سے کم نہ ہوتا۔ انکل بخاری والد کے قریبی دوست کرشن نگر میں رہتے۔ ان کی بیٹی سعیدہ اوربیٹا اطہر ہمارے ہم عمر اور دوست تھے جو کبھی کبھی چھٹیاں منانے ہمارےپاس لائل پور آیا کرتے۔ ہم بھائی بہن کےلئے لاہور کی اصل کشش یہی دوستی تھی یعنی سعیدہ اور اطہرجنہیں 80ءکی دہائی کے بعد دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ احمد رشدی بخاری انکل کے پڑوسی بلکہ شاید کرایہ دار بھی تھے۔ گہری سانولی رنگت، شریر سے نقوش، شوخ سی آنکھیں، گفتگو میں بھی شیرینی اور جلترنگ، سرتاپا شفقت۔ زندگی میں پہلی بار بگھارے بینگن انہی کے گھر کھائے۔ ہم جانتے تھےکہ رشدی انکل بہت مشہور مقبول سنگر ہیں لیکن تب ہم بچوں کے نزدیک ان کی شہرت فلمی گیت نہیں، بچوں کے کسی پروگرام میں نشر ہونے والا یہ نغمہ تھا؎’’بندرروڈ سے کیماڑیمیری چلی رے گھوڑا گاڑیبابو ہو جانا فٹ پاتھ پر‘‘پھر وقت کے سانپ نے کینچلی بدلی۔ میں اسکول سے کالج، کالج سے یونیورسٹی ہوتا ہوا صحافت کے صحرا کی طرف جانکلا۔ 1980، جنرل ضیاء الحق کی آمریت کا عروج، صحافت ہم جیسوں کے لئے عذاب بن گئی، ملک چھوڑ دیا، کئی رشتے بھی چھوٹ گئے، بہت سی یادیں باتیں دھندلا سی گئیں۔ 80ء کی دہائی کے وسط میں ملک اورصحافت میں باقاعدہ واپسی ہوئی تو بہت کچھ بھول بھال چکا تھا۔ رشدی صاحب کا کوئی گیت سنتے ہوئے وہ یاد آتے اور بس…..پھر نامور صحافی، لکھاری، فلمساز علی سفیان آفاقی صاحب سے دوستی ہوگئی جوبہت ہی مہربان اور فلم انڈسٹری کی چلتی پھرتی تاریخ تھے….. بہت ہی پیارے بزرگ دوست۔رشدی صاحب کی وفات کے بعد ایک بار باتوں باتوں میں، میں نے آفاقی بھائی سے ’’رشدی انکل‘‘ کے ساتھ بچپن کے تعلق کا ذکر کیا تو آفاقی بھائی کی آنکھیں اور آواز بھیگ گئی۔ بولے ’’رشدی جتنا عظیم گلوکار تھا، اتنا ہی عظیم انسان بھی تھا۔ میں نے فلم انڈسٹری میں اس سے زیادہ بامروت بندہ نہیں دیکھا لیکن افسوس لوگوں نے جی بھر کےاس کا استحصال کیا۔ وہ معاوضہ لیتےہوئے بھی شرماتا تھا، لوگوں نے اس کی اس کمزوری کا بے حد ناجائز فائدہ اٹھایا۔ کسی نے جو دے دیا، جھجکتے شرماتے لے لیا لیکن مجال ہے جوکبھی خود مانگا یا بارگین کیا ہو۔ مقبول اور مصروف ترین پلے بیک سنگر ہونے کےباوجود حیدر آباد دکن کا یہ سیدزادہ اپنا گھر تک نہ بنا سکا۔ لوگ پچھلی فلم کامعاوضہ دیئے یا پورادیئے بغیر اسے اگلی فلم کے لئے سائن کرلیتے کہ انکار اس کے نزدیک گناہ تھا۔‘‘آفاقی مرحوم نے ایک اور تاریخی واقعہ سنایا کہ ’’ان دنوں اداکار محمد علی مال روڈ پر انڈس ہوٹل میں رہتے۔ کیریئر کے ابتدائی دن تھے کہ ایک دن محمد علی نے کہا ’’چلو کہیں باہر کھانا کھاتے ہیں۔ انڈس کاکھانا کھا کھا کے اکتا گیا ہوں۔‘‘ سو میں، حمایت علی شاعر، احمد رشدی اور محمد علی مال روڈ کے کسی اور ہوٹل میں جاگھسے جہاں اداکارہ حسنہ کا سابق شوہر رشید بھٹی دوستوں سمیت پہلے سے موجودتھا۔ان دنوں محمد علی اور حسنہ کے افیئر کی خبریں عام تھیں۔ رشدی واش روم گئےتورشید بھٹی اور اس کے دوستوں نے رشدی کے ساتھ بدتمیزی کی ۔



رشدی تو چپ رہے لیکن محمد علی بپھر گئے۔ یہی تو رشید بھٹی اور ان کے دوست چاہتے تھے۔ لڑائی شروع ہوگئی اور محمد علی اصلی ہیرو سے بڑھ کر نکلے۔ میں اور حمایت علی شاعر باہر نکل کر ’’پولیس پولیس‘‘ پکارنے لگے۔ رشید بھٹی وغیرہ پسپا ہو گئے۔ صورتحال ذرا نارمل ہوئی تو احمد رشدی غائب۔ اگلے روزپوچھا ’’رشدی! تم کہاں غائب ہوگئے تھے؟‘‘ تو معصومیت سےبولے ’میں رکشہ لے کرگھر چلا گیا تھا۔‘‘ آفاقی صاحب بتاتے تھے کہ یہ لوگ مدتوں اس واقعہ کا حوالہ دے کر رشدی صاحب کو چھیڑتے اور مسکراتے رہے۔رشدی حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ ان کا سن پیدائش کہیں 1936کہیں 38ء درج ہے۔ کراچی میں بچوں کے پروگرام سے کیریئر شروع کیا۔ کراچی کی تقریبات کا ناگزیر حصہ رہے کہ فلم ’’انوکھی‘‘ کے گیت نے ان پر لاہور کے دروازے کھول دیئے جو اس وقت فلم پروڈکشن کا گڑھ تھا اوریوں رشدی صاحب کی آواز اور تب کے سپرسٹارز لازم و ملزوم قرار پائے….. پھر کیسا کیسا شہکار سننے کو ملا ، کیساکیسا لازوال نغمہ۔’’چاند سا مکھڑا گورا بدن، جل میں لگائے گوری اگن‘‘’’گول گپے والا آیا گول گپے لایا‘‘’’زندگی کے سفر میں اکیلے تھے ہم‘‘’’اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم‘‘’’تجھے اپنے دل سے میں کیسے بھلا دوں‘‘’’کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ہیں کتنے پیارے‘‘’’محبت میںترے سر کی قسم ایسا بھی ہوتا ہے‘‘’’کسی چمن میں رہو تم بہار بن کے رہو‘‘’’کہاں ہو تم کو ڈھونڈ رہی ہیں یہ بہاریں یہ سماں‘‘’’بڑے سنگدل ہو بڑے بے وفا ہو‘‘’’جان تمنا خط ہے تمہارا پیار بھرا فسانہ‘‘’’اچھا کیا دل نہ دیا ہم جیسے دیوانے کو‘‘بے شمار لازوال ، سدابہار شہکارگیت اور سب سے بڑھ کر ’’کنیز‘‘کایہ گیت جو آج بھی میرا فیورٹ ہے۔’’جب رات ڈھلی تم یاد آئے ہم دور نکل آئے‘‘کیسا اتفاق ہے کہ فلم ’’کنیز‘‘ آفاقی صاحب کی پروڈکشن تھی اور آج نہ آفاقی صاحب ہیں نہ احمدرشدی۔رہے نام اللہ کا۔بندوںکا صرف کام یاد رہ جاتا ہے۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں