غیر ملکی ایجنسیاں لوگوں کو غائب کرکے آئی ایس آئی پر الزام لگانا چاہتی ہیں


اسلام آباد: لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ایجنسیاں لوگوں کو غائب کرکے آئی ایس آئی پر الزام لگانا چاہتی ہیں.
قومی‌اسلمبی‌میں قائم انسانی حقوق کی کمیٹی کا اجلاس ودود فاطمی کی سربراہی میں ہوا، اجلاس میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بنائے گئے کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے بھی شرکت کی اور کئی اہم انکشافات کیے.
جسٹس (ر) جاوید اقبال نے بتایا کہ اکثر بازیاب ہونے والے لاپتہ افراد خوف کی وجہ سے کمیشن کے سامنے واقعات سنانے سے اجتناب کرتے ہیں، لاپتہ افراد میں سے ستر فیصد سے زائد لوگ عسکریت پسندی میں ملوث پائے گئے، اگر کوئی شخص دہشت گرد ہے تو اس کا مطلب نہیں کہ اس کے گھر والے بھی دہشت گرد ہیں، لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی ذمہ داری ریاست کی ہے۔
مشرف دور حکومت میں وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے چار ہزار پاکستانی غیر ملکیوں کے حوالے کئے، پرویز مشرف نے پاکستانیوں کو غیر ملکیوں کے حوالے کرنے کا اعتراف بھی کیا، مشرف اور شیرپاؤ کے اقدامات کے خلاف پارلیمنٹ میں آواز نہیں اٹھائی گئی، پارلیمنٹ کو مشرف اور شیرپاو کے اقدامات کی تحقیقات کروانی چاہئے تھی، پوچھا جانا چاہئے تھا کہ آخر کس قانون کے تحت پاکستانیوں کو غیر ملکیوں کے حوالے کیا گیا، ملک میں پارلیمنٹ، آئین، عدالتیں ہونے کے باوجود کیسے کسی پاکستانی کو غیر ملک کے حوالے کیا گیا۔
کمیٹی کی رکن نسیمہ حفیظ نے کہا کہ ملک میں منظور پشتین کو میڈیا پر نظر انداز کیا جا رہا ہے، وہ لاپتہ افراد کی بات کر رہا ہے، اس کے جلسے میں وہ خواتین شریک تھیں جن کے ہاتھوں میں ان کے خاندان کے دو ، تین لاپتہ افراد کی تصاویر تھیں، جاوید اقبال نے کہا کہ منظور پشتین سے رابطہ کروں گا، ان سے لاپتہ افراد کی فہرست لیکر معاملے کو دیکھوں گا۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں