ایل اوسی پربڑھتی پاک بھارت کشیدگی سے اقوام متحدہ چیف فکرمند

loc-escalation-concern-uno-chief
قوام متحدہ: اقوام متحدہ کے ایک سینئراہلکارنے پاکستان اوربھارت پرزوردیا ہے کہ وہ اپنے معاملات کوپرامن طریقے سے حل کرنے پرغورکریں. اس اہلکارنے لائن آف کنٹرول پرپاکستان اوربھارت کی بڑھتی کشیدگی پراقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیوگٹریس کی فکرمندی کا بھی اظہارکیا ہے.

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے سیاسی امورمیراسلووجینکا نے پاکستان کے دورے کے دوران ان خیالات کا اظہارکیا تھا، میراسلووجینکا کا یہ دورہ 13 اپریل کواختتام پذیرہوا. اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے اہلکارنے سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اورسپیشل سیکرٹری تسنیم اسلم سے 12 اپریل کے روز وزارتِ خارجہ امورکے دفترمیں ملاقات کی. میراسلووجینکا نے سفارتی برادری اوراقوام متحدہ کی کنٹری ٹیم سے بھی ملاقات کی.

اقوام متحدہ کے بیان کے مطابق “میراسلوو جینکا نے سیکرٹری جنرل کی بات دہراتے ہوئے کہا کہ لائن آف کنٹرول پرپاک بھارت کشیدگی کا اضافہ فکرمندی کا باعث‌ ہے. انہو‌ں نے سیکرٹری جنرل کا یہ پیغام بھی دہرایا کہ دنووں ممالک کشیدگی کم کرنے کی بھرپورکوش کریں اورمعاملات کا پرامن حل تلاش کریں”.

میراسلوو جینکا کا کہنا تھا کہ خطے میں امن واستحکام کے قیام کے لیے پاکستان کا تکثیریت اورتعاون کا عزم بہت ہی اہمیت کا حامل ہے. انہوں نے اس بات کوبھی سراہا کہ پاکستان ان ممالک میں سے ہے جنہوں نے دنیا میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کوسب سے زیادہ فوجی دستے فراہم کررکھے ہیں. اس وقت بھی 7،000 سے زیادہ پاکستانی فوجی بلیوہیلمٹس کے طورپرکام کررہے ہیں.

پچھلی ایک دہائی میں ایک لاکھ سترہزارپاکستانی فوجی اقوام متحدہ کے لیے کام کرچکے ہیں جبکہ ایک سوسنتالیس پاکستانی فوجی قیام امن کی کوشش میں اپنی جانوں کا ںذرانہ بھی پیش کرچکے ہیں. میراسلوو جینکا نے اقوام متحدہ کی کنٹری ٹیم کے ساتھ قریبی تعاون فراہم کرنے پربھی پاکستان کا شکریہ ادا کیا.

اپنا تبصرہ بھیجیں