طیبہ تشدد کیس، جج اوراہلیہ کوایک سال قیدکی سز

tayyaba-torture-case
اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے تقریباً ایک سال کی کاروائی کے بعد آج طیبہ تشدد کیس کا فیصلہ سنا دیا.

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامرفاروق نے فیصلہ دیا ہے کہ معطل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اورسیشن جج راجہ خرم علی خان اوران کی اہلیہ مہرین ظفرکواپنی نوکرانی پرتشدد کرنے کے جرم میں ایک سال قید کی سزا کاٹنی پڑے گی. کیونکہ ملازمہ کی عمر12 سال سے کم تھی اس لئے عدالت نے دونوں ملزمان کو50،000 روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے.

جب عدالت میں فیصلہ پڑھ کرسنایا گیا تودونوں ملزمان اس وقت وہاں موجود تھے. فیصلے کے بعد ملزمان نے ضمانت کی درخواست جمع کروائی جس کی سماعت آج ہوگی اوراسی بنچ کے سامنے ہی ہوگی.

ملزم جج نے درخواست کی ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جانا چاہتے ہیں اس لئے ان کوضمانت ملنی چاہئے، ویسے بھی جس مقدمے کی سزا ایک سال قید ہواس مقدمے میں ضمانت مل ہی جاتی ہے. معطل جج اس وقت پولیس کی تحویل میں ہے جبکہ ان کی اہلیہ کوایک پولیس چیک پوائنٹ پرمنتقل کردیا گیا ہے.

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں