طَرِیقََتِکُمُ المُثلیٰ (آئیڈیل لائف سٹال) حصہ دوم

orya-maqbool-jan-column
فرعون اوراس کے ساتھی اپنی قوم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات سے خوفزدہ کررہے تھے کہ اگرموسیٰ علیہ السلام اورہارون علیہ السلام تم پرغالب آ گئے تووہ تم سے تمہارا “مثالی طریق زندگی” (ideal lifestyle) چھین لیں گے. یہاں صرف طریق زندگی یا لائف سٹائل کا ذکرنہیں کیا گیا بلکہ قرآن نے ان فرعون کے ساتھیوں کے منہ سے نکلنے والے لفظ “مثلی” کا ذکرکیا ہے. یہ لفظ “الامثل” سے مشتق ہے جس کا مطلب ہے افضل یعنی بہترین. عرب قوم کے اہم ترین لوگوں، رہنماؤں اوربرگزیدہ افراد کو”اَماثَلِ القَومِ” کہا کرتے تھے. یعنی وہ افراد جومعاشرے میں سب سے بلند مرتبہ رکھتے ہیں. فراعین مصرنے تعریف وتوصیف کا یہ صیغہ، طریق زندگی یعنی لائف سٹائل کے ساتھ جوڑا ہے. جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جس طرح کی ثقافت، تہذیب، لائف سٹائل، طرزِزندگی یا طریق زندگی اپنائے ہوئے ہیں وہ بہترین مثالی اورآئیڈیل ہے. اسی لیے انہوں نے لوگوں کو مخاطب کرکے کہا کہ ہم سب کواکٹھا ہوکراس کوبچانے کی جدوجہد اورکوشش کرنا چاہئے.
فرعون کے حواریوں اورحضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان ہونے والی کشمکش آج بھی زندہ وتازہ ہے. آج بھی پوری دنیا میں ایک لائف سٹائل یا طریق زندگی کے تحفظ کی جنگ جاری ہے. آج کا طریق زندگی جسے جدید مغربی طریقِ زندگی‌ “Modern Western Lifestyle” کہتے ہیں اسے پوری دنیا کے سامنے یہ ثابت کیا جاچکا ہے کہ وہ مثالی اورآئیڈیل ہیں اوردنیا بھرکی اقوام کواس لائف سٹائل تک پہنچنے اوراسے اپنانے کی جدوجہد کرنا چاہیے. جوقوم جتنی زیادہ اس جدید “مغربی طریق زندگی” یعنی لائف سٹائل سے قریب ہوگی، اتنی ہی مہذب اورترقی یافتہ کہلائے گی. دنیا میں کسی قوم کی ترقی اوربرتری کوناپنے کے تمام پیمانے وہی ہے جواس جدید مغربی طریقِ زندگی نے اپنائے ہوئے ہیں. جمہوری‌ حکومت، حقوق انسانی، حقوق نسواں اورعورت مرد کی ہرشعبے میں برابری، آزاد کاروباری معیشیت، مذہب کی کاروبارِریاست سے علیحدگی، عالمی مالیاتی نظام میں حصہ داری، آزادی تقریروتحریراوراس سے جنم لینے والی فحاشی، عریانی، بے راہ روی اورجنسی تلذذ کا احترام، اسی بے راہ روی سے پیدا ہونے والی خاندانی اخلاقیات، ہم جنسوں سے شادی کی حمایت، غرض ایک طویل فہرست ہے جواس مثالی یا آئیڈیل لائف سٹائل کے خدوخال کوبیان کرتی ہے. جوملک، علاقہ اورتہذیبی گروہ اس آئیڈیل لائف سٹائل سے دورہوگا جدید ترقی کے پیمانوں کے حساب سے وہ اتنا ہی پسماندہ کہلائے گا. اگرکسی ملک میں ہرطرح کی معاشی خوشحالی ہو، غربت کی سطح نہ ہونے کے برابرہو، امن وامان کی کیفیت بہترین ہولیکن اگراس ملک میں جمہوریت نہیں ہے تووہ پسماندہ ہے جیسے برونائی، قطر، کویت وغیرہ، اسی طرح اگرکسی ملک میں جمہوریت ہے، لیکن وہاں پارلیمنٹ نے عورت کوحجاب کے بغیرباہرنکلنے پرپابندی لگا رکھی ہے توہ بھی پسماندہ، جیسے ایران. فراعین مصرتواپنے مثالی لائف سٹائل کی اپنے زیرِتسلط علاقوں میں تحفظ کی جنگ لڑرہے تھے اوراسی مقصد کے لئے انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں اپنے تمام جادوگروں‌ کواکٹھا کرلیا تھا، جبکہ جدید مغربی لائف سٹائل کے حامی اسے پوری دنیا میں نافذ کرنا چاہتے ہیں اوراس کے لئے انہوں نے ایک بہت بڑا ادارہ قائم کررکھا ہے جسے “اقوام متحدہ” کہتے ہیں. اس ادارے کے تحت مختلف چارٹرجاری کیے جاتے ہیں اورجوملک ان پرعمل نہیں کرتا اس کے خلاف تمام دنیا کے لوگ اکٹھے ہوجاتے ہیں اوراس کا ناطقہ بند کردیتے ہیں، اسے نشان عبرت بنا دیتے ہیں. مثلاً انسانی حقوق کا چارٹرجسے Universal Charter of human rights کہتے ہیں، بچوں کے حقوق کا چارٹر‌(CRC)، عورتوں کے حقوق کا چارٹر(CEDAW)، ایسے ہی تجارت کے اصول وضوابط کا چارٹر(TRIPS) اورسب سے بڑھ کرعالمی مالیاتی نظام کے تحت سودی بنکاری اورکاغذی کرنسی کے تحفظ کےلیے برٹن ووڈ ‌(Britten wood) معاہدے سے جنم لینے والوں اداروں آئی ایم ایف اورورلڈ بنک کی بالادستی اورپوری دنیا کواس مالیاتی نظام کی غلامی پرمجبورکرنا. یہ آج کے اس مثالی طریقِ زندگی یا لائف سٹائل کے کچھ خدوخال ہیں. جدید مغربی طریقِ زندگی کی عمارت جن بنیادوں‌ پرکھڑی ہے وہ درج ذیل ہیں.



1) مصنوعی کاغذی کرنسی اورسودی بینکاری کی معیشیت: جدید لائف سٹائل کی ساری عمارت اس نظامِ معیشیت سے پیدا شدہ مصنوعی دولت کی بنیاد پراستوارہے. پوری دنیا میں پنتالیس ہزارکاروباری کارپوریشنیں ہیں جنہیں پانچ سومرکزی (CORE) کارپوریشن کنٹرول کرتی ہیں اوران کوصرف بائیس بنک سرمایہ فراہم کرتے ہیں جوانہوں نے مصنوعی کاغذی دولت (Artificial credit creation) سے پیدا کیا ہوتا ہے.
2) جمہوریت، جمہوری نظام حکومت، جدید لائف سٹائل کی یہ دوسری اہم ترین ترجیح ہے. جمہوریت دراصل عوام کی حاکمیت کا اعلان ہے. یہ گزشتہ پانچ ہزارسال کی تاریخ میں اللہ کی حاکمیت سے سب بڑی بغاوت ہے. اللہ وہ اختیارجومالک الملک کا ہے، جوقوانین عطا کرنے کا ہے، اسے ترک کرکے حکمرانی اورقانون بنانے کا اختیارعوام کومنتقل کردیا جاتا ہے یعنی عوام کی مرضی اللہ کے ہرحکم سے بالاہے. اس جمہوری نظام کی اساس پارٹی پالیٹکس ہے. یعنی الیکشن میں حصہ لینے والی پوری کی پوری پارٹی کارپوریٹ سرمائے کی غلام ہوتی ہے. اس کے علاوہ یہ اکثریت کی آمریت بھی نافذ‌کرتی ہے. بھارت اوراسرائیل دوشاندارجمہوریتیں ہیں لیکن ان میں اگلے سوسال بھی اقلیتیں آزادی، حریت اوربرابری کا خواب نہیں دیکھ سکتیں.
3) مردوخواتین کی برابری (feminism): اس کا بنیادی مقصد انسانی تہذیب کے سب سے مضبوط ادارے خاندان کوتوڑکرفرد اورریاست کا تعلق آپس میں مضبوط کرنا ہے. عورتیں اپنے خاندانی وظائف اورذمہ داریوں کی بجائے کیریئر، مستقبل اورکامیابی کے زینوں پرمرد سے مقابلہ کریں اوربچے ڈے کیئرسنٹریا فوسٹرہوم، بوڑھے اولڈ ایج ہوم اورٹوٹے ہوئے گھروں کی خواتین (Shelter) کی تلاش میں سرگرداں رہیں. خاندان کی کامیابی کے تمام پیمانے ترک کرکے انفرادی ترقی کے پیمانوں کواس لائف سٹائل کا زینہ بنا دیا گیا.
4) آزادی تقریروتحریر: یہ ایک ایسا تصورہے جس نے اس دنیا میں ہراس چیز کوجائز قراردیا جودوسرے کوبظاہرنقصان نہ پہنچاتی ہو. ایک فحش فلم کسی کوکیا نقصان پہنچا سکتی ہے، سیاحت کے نام پرہرشہرمیں نائٹ لائف کی طوائف بازاری کسی کا کیا لیتی ہے. برہنہ لوگوں کے لیے علیحدہ ساحل سمندرکونسا معاشرتی طوفان پیدا کرتے ہیں. اس لائف سٹائل کے تحفظ کے یہ لوگ اس قدرقائل تھے کہ انہوں نے فحش فلموں اورجنسی بے راہ روی کے ماحول سے پیدا ہونے والے لاکھوں سیریل کلرز(Serial Killers) کی بھی پراوہ نہ کی اورآزادی تقریروتحریرکے نام پرڈیڑھ سوارب ڈالرکے لگ بھگ اس فحاشی اورعریانی کے کاروبارکومثالی لائف سٹائل کے نام پرزندہ رکھا.
5) مذہب عبادت گاہ تک محدود: یہ اس جدید لائف سٹائل کا اہم ترین نکتہ بلکہ نکتہ آغاز ہے. سب سے پہلے مذہب سے ہی نجات حاصل کی گئی تھی. کہا گیا کہ مذیب کوریاستی کاروبارسے نکال دو. نکال دیا گیا. لیکن اب اس کوذاتی اورخاندانی زندگی سے بھی دیس نکالا مل چکا ہے. آپ بغیرنکاح کے رہ سکتے ہیں، دومرد یا دوعورتیں آپس میں‌ شادی کرسکتی ہیں، مذہب چرچ، مندراورمسجد میں قید کردیا گیا.
ان بنیادوں بلکہ ان جیسی لاتعداد بنیادوں پراستواریہ جدید لائف سٹائل ہے جوفرعون کے حواریوں کی طرح اسلام اوراس کے پیغام سے اس قدرخوفزدہ ہے کہ پیرس جیسے شہرمیں صرف 92 عورتیں حجاب لیتی ہیں اورفرانس کی سات کروڑ آبادی کے نمائدنہ 348 اراکین پارلیمنٹ ان صرف 92 حجاب پوش عورتوں کواپنے لائف سٹائل کے لئے خطرہ سمجھ کر حجاب پرلگا دیتے ہیں. کس قدر بودا، کمزوراورخوفزدہ ہے یہ آج کا طریق زندگی. اللہ نے سے “بیت العنکبوت” مکڑی کے جالے والے گھرسے تشبیہ دی ہے. لیکن کمال دیکھئے کہ ہرملک اس مکڑی کے جالے والے کمزورگھر کی طرح اپنا گھربنانا چاہتا ہے.(ختم شد)

اپنا تبصرہ بھیجیں