میاں شہباز حکومت کو بچا سکتے ہیں


حکومت بدلنے کو ہے اس کے پہلے مرحلے میں عوام کا واسطہ عبوری حکومت سے پڑے گا جس کی ایک معینہ مدت ہو گی اور وہ اس مدت میں الیکشن جیسا اہم فریضہ ادا کر کے رخصت ہو جائے گی ۔ عبوری حکمران کون ہوگا، اس کی تلاش جاری ہے ۔ حکومت اوراپوزیشن مل کردونوں اس تلاش میں ہیں، دیکھتے ہیں ہماری قسمت میں نیا حکمران کون ہے یا کس کی قسمت پاکستان کی حکمرانی کے لیے کھلنے والی ہے۔اس سے پہلے ہم یہ بھی دیکھتے آئے ہیں کہ جب کوئی مناسب شخصیت پاکستان سے نہ ملے تو بیرون ملک مقیم کسی اجنبی کو عبوری وزیر اعظم بنا دیا جاتا ہے اور اسے پاکستانی بنانے کے لیے کئی طرح کے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔

قبرستان میں کسی ایک قبر میں مدفون کی قسمت بھی جاگ پڑتی ہے اور اس کو عبوری وزیر اعظم کے ماں یا باپ کا درجہ دے دیا جاتا ہے جہاں پر پاکستان کی قسمت کے اجنبی وزیر اعظم حاضری بھی دیتے ہیں اور یوں مدفون کو ایصال ثواب بھی پہنچ جاتا ہے، ایسی کئی لاوارث قبروں کے وارث انھیں دفن کرنے کے ساتھ ہی خدا حافظ کہہ جاتے ہیں۔ایسی ہی کسی ایک قبر کو درآمدی وزیر اعظم سے منسوب کر دیا جاتا ہے تا کہ پاکستانی عوام اس وزیر اعظم کو اپنا حکمران قبول کر لیں ۔

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر شہری اپنے حالات سے ڈرا سہما رہتا ہے جب بھی حکومتوں میں تبدیلی کی بات ہوتی ہے تو اس ڈر میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے کہ خدا جانے انھیں لوٹنے کے لیے اب کون اور کیسا آجائے کیونکہ اب تک جو بھی آیا اس نے نئے انداز میں لوٹ مچا دی اورجب بات حد سے بڑھنے لگی تو مال مسروقہ اپنے پاس رکھ کر حکومت کسی دوسرے کے حوالے کر کے رخصت ہو گیا ۔ ستم یہ ہے کہ کسی چور سے چوری برآمد نہیں کی گئی بلکہ جو کھا گیا سو کھا گیا ۔
ان دنوں یہی منظر دیکھا جا رہا ہے حکومت وقت کے اصل حکمرانوں پر قومی خزانہ لوٹنے کا الزام لگا کر ان کو احتساب عدالت کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔ ثبوت موجود ہیں پیشیاں پڑ رہی ہیں اور لگتا ہے کہ فیصلہ آنے کو ہے، اونٹ جب اپنے سامنے زیادہ وزن کو دیکھتے ہیں تو اس کو دیکھ کر وہ بلبلانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ ان کا ایک طرح کااحتجاج کا اظہار ہوتا ہے کہ ان پر زیادہ وزن لادا جا رہاہے۔ اس سے ملتی جلتی بلبلاہٹ ہمارے سیاستدانوں کی بھی بلند ہو رہی ہے مگر ان کو کون بتائے کہ آپ کے پاس لوٹی گئی دولت کی کئی بوریاں موجود ہیں اور اب ان سب کا بوجھ آپ کو خود ہی ا ٹھانا ہے ۔

آپ کو یاد ہو گا کہ موجودہ حکمرانوں کو گزشتہ الیکشن میں جن دو تین اسباب پر ووٹ دیے گئے تھے ان میں ایک اہم نعرہ احتساب کا تھا ۔ یہ نعرہ ایسا نعرہ ہے جس پر یہ قوم آج بھی لبیک کہنے کو تیار ہے کہ اس قوم کو جس بے دردی کے ساتھ لوٹا گیا ہے اب یہ قوم چاہتی ہے کہ اس لوٹ مار کو برآمد کیا جائے اور ملکی خزانے میں جمع کرایا جائے ۔ یہ نعرہ مقبول نعرہ رہا حکمرانوں کے کرتوتوں کے ثبوت بھی وقتاً فوقتاً جمع ہوتے رہے ۔ معاملات عدالتوں تک بھی چلے گئے لیکن ہوا کچھ بھی نہیں ۔

جناب زرداری ہوں یا میاں نوازشریف دونوں نے احتساب کا نعرہ لگایا ایک دوسرے کا احتساب کرنے کی کوشش بھی کی لیکن نتیجہ کچھ بھی نہ نکلا چونکہ سیاستدانوں کے باہمی مفادات اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ مقدمہ کی بنیاد ہی کمزور کر دی جاتی ہے اور جب معاملہ عدالتوں تک پہنچے توعدالتیں اپنے متعین طریقہ کار کے تحت مقدمے سنا کرتی ہیں وہ سیاسی ضرورتوں اور مجبوریوں کو پیش نظر نہیں رکھتیں ۔ اصل کام مدعی کا ہے کہ وہ اپنا مقدمہ کس طرح پیش کرتا ہے فی الحال تو یہی لگتا ہے کہ میاں صاحب ازخود عدالت جا کر پچھتا رہے ہیں ۔
اشتہارات



ہماری موجودہ حکومت کے ذمے دار لوگوں نے اپنی آمدسے قبل اور بعد میں جو تقریریں کی تھیں اور جو بیانات جاری کیے تھے ان میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ احتساب ہو گا ۔ جناب شہباز شریف جو آیندہ کے متوقع حکمران ہیں، انھوں نے تو ایک بار یہ تک کہا کہ احتساب ڈٹ کر ہو گا اور ایسا نہ ہوا تو یہ بہت بڑی غداری ہو گی ۔ مگر حکمران اقتدار میں آکر مصلحتوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی بقاء اور استحکام کا راز ان کے وعدوں کی تکمیل میں ہے۔

گزشتہ حکومت کے ذمے داروں کو اگر انھوں نے ملک کو لوٹا ہے تو ا س کی سزا دینا ان کا پہلا فرض تھا جو انھوں نے اپنے اوپر عائد کیا تھا لیکن ان کی سستی اور کمزوری کی وجہ سے صورتحال اس حد تک الٹ ہو گئی کہ خود موجودہ حکمرانوںکا ہی احتساب شروع ہو گیا اور اپوزیشن جس نے احتساب کا سامنا کرنا تھا حکومت کے خلاف مشکلات پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے ایسا شاید پہلی بار ہو رہا ہے کہ صریحاً بدعنوانی کے ملزم حکمرانوں سے زیادہ موثر اور سرگرم ہو کر سیاست کے میدان میں مقابلے پر اتر آئے ہیں اور اس کی جھلک انھوں نے سینیٹ انتخابات میں دکھا دی ہے۔

کیا میاں صاحبان نے کبھی اپنی حکمت عملیوں پر غور کیا ہے جن کے نتائج دوسروں کے لیے تو کیا خود ان کے لیے پریشان کن ثابت ہو رہے ہیں اور لینے کے دینے پڑ رہے ہیں۔ اپوزیشن تو حکومت سے باہر ہوتی ہے لیکن ایک اپوزیشن حکومت کے اندر بھی ہوتی ہے اور یہ اپوزیشن غلط پالیسیوں اور کمزور حکمرانی کا نام ہے یہی وہ اپوزیشن ہے جو باہر والی اپوزیشن کو طاقت بخشتی ہے ۔ ہماری حکومت نے قوم کو معاشی مسئلہ میں جس قدر الجھا دیا ہے، اب وہ الجھنیں خود حکمرانوں کو بھی کچھ نہیں کرنے دے رہیں اور دیوانہ اپنی بنائی ہوئی زنجیر میںخود جکڑتا جا رہا ہے۔

کوئی غلطی ایسی نہیں ہوتی جس کی تصحیح نہ ہو سکے اور کوئی گناہ ایسا نہیں جس کے لیے توبہ کا دروازہ نہ کھلا ہو لیکن حکمرانوں نے کبھی سچے دل سے توبہ نہیں کی کیونکہ ایسی قلبی صفائی حکمرانوں کو حاصل ہی نہیں ہوتی ۔لیکن میاں نواز شریف اگر اپنی پالیسیوں اور ساتھیوں پر نظر ثانی کریں اور کم و بیش بیس کروڑ باشندوں میں سے چند صاحب علم اور عمل افراد تلاش کر لیں اور ان نئے ساتھیوں کی مدد سے اپنی نئی سیاسی حکمت عملی ترتیب دیں تو کوئی نہ کوئی صورت بن سکتی ہے ۔

سیاسی حالات اگرچہ میاںنواز شریف کے لیے بدلے جا چکے ہیں لیکن پنجاب میں میاں شہباز شریف کو اگر کھل کھیلنے کا موقع دیا جائے تو نواز لیگ کو بچایا جا سکتا ہے ۔ اس کے لیے دیکھنا ہو گا کہ میاں شہباز شریف آیندہ انتخابات میں اپنے ترقیاتی کاموں کو کس طرح کیش کراتے ہیں لیکن اگر نیک نیتی اور اصلاحات کے واضح پروگرام کے ساتھ وہ انتخابی میدان میں اتریں تو بات بن سکتی ہے بشرطیکہ ان کو اس کا موقع مل جائے لیکن قومی سیاست میں تلخی بہت بڑھ رہی ہے۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں