Orya-Maqbool-Jan

پیشہ ورانہ خطرات سے جسمانی خودمختاری اور”می ٹو” تک

orya-maqbool-jan-column
جدید لائف سٹائل کا کمال یہ ہے کہ اس نے بلا امتیازمذہب، اخلاق اوراقدارہراس شعبے، پیشے اورکام کاج کوعزت دی جس سے سرمایہ کمایا جا سکتا ہے یا اس سے لائف سٹائل کی آسانیاں خریدی جاسکتی ہیں. کیونکہ سرمایہ ایک بنیادی قدراورمنزل مقصود تھی تواس کوکمانے کے راستے میں جودکھ، تکلیفیں اورپریشانیاں بھی آئیں وہ قابل تکریم ہوگئیں. ان دکھوں، تکلیفوں، پریشانیوں اورمصیبتوں کوجدید اصطلاح میں “Occupational Hazards” (پیشے سے منسلک خطرات) کہا جاتا ہے. مثلاً کوئلے کی کانوں میں کام کرنےو الے افراد عموماً سینے کے امراض کا شکارہوتے ہیں اورکیمیائی مواد سے متعلقہ فیکٹریوں میں کام کرنے والے جلدی امراض سے عمربھرچھٹکارا نہیں پا سکتے. جدید لائف سٹائل کوپوری دنیا میں عزت و حرمت اورقانونی حیثیت دینے کی سب سے بڑی اوراہم تنظیم اقوام متحدہ ہے. اسی لیے اس ادارے نے اپنے دوذیلی اداروں انٹرنیشنل لیبرآرگنائزیشن(ILO) اورورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن(WHO) کے تحت دنیا بھرکے تمام پیشوں کے بارے میں معلومات اکٹھا کیں، ان کے تحفظ کے لیے چارٹربنائے اوران کی بقاء اورسالمیت کے لیے عالمی معاہدے کئے. اسی طرح ان پیشوں سے پیدا ہونے والے نفسیاتی اورجسمانی اثرات وامراض پربھی وسیع کام کیا گیا. آئی ایل اوتوپیشوں کے پیشہ ورانہ معاملات یعنی تنخواہ، نوکری کی سیکیورٹی، انشورنس، پنشن اوراستحصال تک محدود رہی جب کہ ڈبلیو ایچ اونے ہرپیشے کے ساتھ منسلک ان خطرات، بیماریوں اورپریشانیوں کا جائزہ لیا اورتدراک کے لیے کام کیا. اس ادارے کی تمام ترمطبوعات میں ہرپیشے سے منسلک “Occupational hazards” پرایک سیریز جسے وہ Anthology کہتے ہیں، مرتب کی، جس کا عام اردو ترجمہ “مجموعہ” ہوسکتا ہے. ان میں‌ خواتین سے متعلق مجموعے کا نام ہے: “Anthology on women health and environment” (مجموعہ برائے خواتین کی صحت اورماحول). اس میں ان تمام ترمعزز، محترم، مکرم اورقابل عزت پیشوں کا ذکرہے جودنیا بھرکی خواتین اختیارکرتی ہیں اورسرمایہ کماتی ہیں. چونکہ گھریلوزندگی، بیوی ہونا، ماں بننا اوربچے پالنا ایک ایسا کام ہے جس سے سرمایہ نہیں کمایا جاتا، اس لیے بیوی یا ماں جوانگریزی کے ایک لفظ “House wife” میں باہم اکٹھے ہوجاتے ہیں، اس لیے ہاؤس وائف کا ان کتابوں میں کوئی ذکرنہیں. البتہ وہ پیشے جسے دنیا کا سب سے قدیم پیشہ کہا جاتا ہے یعنی “جسم بیچنا” اس کا اوراس سے منسلک تمام خطرات کا ان دنوں اداروں کی کتابوں میں تفصیل سے ذکربھی ملتا ہے اوردنیا بھر میں اس شعبے سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے طبی شعبے میں تحقیقات بھی مسلسل ہوتی ہیں اوران سے بچاؤ کے لیے مہمات “campaigns” بھی چلائی جاتی ہیں تاکہ لوگوں میں اس پیشے کواختیارکرنے کا خوف ختم ہواوراس کے گاہکوں میں بھی کمی واقع نہ ہو. اس پیشہ سے منسلک خواتین کوانسانی تاریخ میں بے شمارتحقیرآمیزناموں سے پکارا جاتا تھا جیسے اردومیں طوائف اورکسبی وغیرہ اورانگریزی میں “prostitute” کا لفظ اوراسی طرح کے بے شمارحقارت آمیزنعم البدل موجود تھے اورآج بھی ہیں. لیکن اقوام متحدہ کے کاغذات، انسانی حقوق کی تنظیموں کی زبان اورجدید لائف سٹائل کے جدید “مہذب” ادب نے انہیں “sex worker” یعنی جنسی کارکن کہ کرپکارنا شروع کیا اورپھرتمام ممبران ممالک کو ان کی رجسٹریشن کے بارے میں کہا گیا اوران کے حقوق وتحفظ کے لیے قوانین اورانجمنیں بنائی گئیں. انہیں پولیس کے دست برد اورمردوں کے جسمانی ونفسیاتی تشدد اورمعاشی استحاصال سے بچانے کے لیے عالمی سطح پرآواز اٹھائی گئیں. اس سارے عمل سے یہ تصورمضبوط ہوا کہ “جسم ایک عورت کی ذاتی ملکیت ہے” اوروہ اسے اپنی مرضی سے جسے، جہاں اورجس کے سپرد چاہے کرسکتی ہے، لیکن کوئی اسے مجبورنہیں کرسکتا، خواہ وہ اس کا شوہرہی کیوں نہ ہو. یہاں سے اس قدیم ترین پیشہ کے ساتھ منسلک “دلال” Pimp کے پیشے پرپابندیاں لگائی جانے لگیں. اس وقت دنیا کے ہر”مہذب” اور”جدید لائف سٹائل” کواپنانے والے ملک میں دلال ہونا، دلالی کرنا، عورتوں کوجسم بیچنے کے لیے مجبورکرنا ایک قابل دست اندازی پولیس جرم ہے. جبکہ پیرس کی شانزے لیزے پرکھڑی عورت آپ کوروک کراپنے جسم کا سودا کرسکتی ہے اوراسے کوئی پکڑنہیں سکتا. اسی طرح ایک عورت چند ہزارروپے جمع کرکے اپنی قسمت آزمائی کے لیے بنکاک، بھارت یا مشرقی یورپ کے ممالک سے ہجرت کرکے ایمسٹرڈیم کے مشہوربازارحسن جسے ریڈ لائٹ ڈسٹرکٹ کہتے ہیں، وہاں دوکان کرایہ پرلے کراپنا جسم فروخت کرسکتی ہے. لیکن اگرانہی ممالک سے کوئی عورت یا مرد چند عورتوں کوایک گروپ کی صورت یا کسی ایک عورت کواس بازاریا پھراس جیسے کسی اوربازارمیں لے کرجاتا ہے تواسے بدترین “انسانی سمگلنگ” یعنی Human trafficking کہا جاتا ہے. یہ ہے وہ تصورجوآج کی جدید عورت کو”باعزت””باغیرت” اور”بااختیار” زندگی گزارنے پرزوردیتا ہے.



مدتوں اس پیشے سے منسلک خطرات پرتحقیقات ہوتی رہیں اورمیڈیسن یعنی طب کا ایک شعبہ ان امراض کے لیے مخصوص رہا، ان کو STD (Sexually Transmitted Disease) یعنی “جسنی تعلقات سے جنم لینی والی امراض” کہا جاتا تھا، ان میں آتشک اورسوزاک نے اس قدرتوجہ حاصل کی کہ اقوام متحدہ نے اس کے لئے بے شمارفنڈز مخصوص کیے. نوے کی دہائی میں‌ (Aids) آئی توجہاں اس نئے مرض سے بچاؤ کے لیے طبی میدان میں تحقیق شروع ہوئی، وہیں ان جنسی کارکنوں یعنی سیکس ورکرزکوایڈزفری ہونے کے حکومتی سرٹیفیکیٹ کے طورپرکارڈزبھی دیئے جانے لگے تاکہ ان کے ذرائع آمدن میں کوئی کمی نہ آئے. دوسری جانب ان کی نفسیاتی صحت اورمعاشرتی مرتبے اورمقام کے لیے ایک “زن بازاری” اور”گھریلوخاندانی عورت” کوتصوراتی طورپراکٹھا کردیا گیا. یعنی اگرایک دلال ایک عورت کو مجبوراً جنسی فعل پرمجبورکرتا ہے تووہ ایک جرم یعنی “ریپ” ہے اسی طرح اگرایک خاوند اپنی بیوی کوزبردستی جنسی فعل پرمجبورکرتا ہے تواسے شادی شدہ جنسی استحصال “Marital rape” کہا جانے لگا.
جدید لائف سٹائل نے عورت کے استحصال اوراس کے جسم کے استعمال کوخوبصورتی دینے اورقابل ستائش (Glorify) کرنے کے لیے بے شمار پیشے اورطریقے ایجاد کئے جن میں مارکیٹنگ اینڈ ایڈورٹائزنگ، فیشن انڈسٹری، مقابلہ حسن، فلم اورشوبزشامل ہیں. ان سب کا مرکز ومحورعورت اورصرف عوت ہے. اسی خاتون کے اردگرد ان کی چکا چوند گھومتی ہے. عورت ہی کے دم قدم سے یہ لائف سٹائل زندہ ہے. ان “محترم شعبوں” کے پیشہ ورانہ خطرات بھی سیکس ورکرکے خطرات سے مختلف نہیں‌ رہے. مدتوں “casting couch” یعنی وہ بسترجس پرکسی نئی آنے والی اداکارہ، گلوکارہ یا ماڈل کا امتحان لیا جاتا ہے، اس سے وابستہ کہانیاں ادب وصحافت کا حصہ رہی‌ ہیں. سعادت حسن منٹونے بالی وڈ اورہالی وڈ کی ان خواتین کی آپ بیتیوں کی تحریرکرکے بے شمارشہرت کمائی. چونکہ اس بستریعنی کاسٹنگ کاؤچ پرایک عورت خوداپنی مرضی سے اپنے جسم کا استعمال کرتی رہی، اسی لیے میڈونا جیسی شہرہ آفاق گلوکارہ نے آج سے 35 سال پہلے جب یہ کہا I lost my virginity as a career move “میں نے اپنے شعبے میں ترقی کے لیے اپنی دوشیزگی قربان کردی” توپوری دنیا نے اس پرتالیاں بجائیں. لیکن اگراسی دوشیزگی کی قربانی مرضی کے خلاف ہوجائے توپھر”می ٹو” کا غیرت وحمیت کا سفرشروع ہوجاتا ہے. ہوسکتا ہے کل “می ٹو” اقوام متحدہ کے پیشہ ورانہ خطرات کی لسٹ میں‌ شامل ہوجائے اورپھرایسا ہی ایک مقدمہ کوئی میشا شفیع، علی ظفرکے خلاف نہیں‌ بلکہ اپنے خاوند کے خلاف درج کروائے کہ کل رات اس نے میری مرضی ومنشا کے خلاف میرے جسم پردسترس حاصل کرنے کی کوشش کی.

اپنا تبصرہ بھیجیں