دو نہیں….. ایک پاکستان کا اعلان


شاعر یہ پوچھنے میں سوفیصد حق بجانب ہے کہ؎کس کس بات کا رونا روئیں، کس کس بات پہ جشن منائیں مثلاً زلزلہ متاثرین کی امداد، غیر ملکی فنڈز کہاں گئے؟’’قرض اتارو ملک سنوارو‘‘ والے سلوگن کا کیا بنا؟مختلف شعبوں سے نکالی ہوئی رقمیں کیا ہوئیں؟ کھربوںڈالرز کے غیرملکی قرضے کدھر لگے؟شرح خواندگی میں کمی اورشرح بیروزگاری میں اضافہ کیوں؟ کروڑوں پاکستانی ہیپاٹائٹس کا شکار کیوں؟ خط ِغربت کے ’’صحت افزا‘‘ مقام پر آبادی میں مسلسل اضافہ کیوں؟سابق گورنر اسٹیٹ بینک عشرت حسین اپنی لاجواب دھماکے دار کتاب “Governing the Ungovernable” میں یہ لکھنے پرمجبور کیوں کہ……”Despite the many challenges, both internal and external, the country (Pakistan) was able to register a six percent average annual growth rate during the first forty years of its existence. Pakistan was ahead of India and Bangladesh in all economic and social indicators, Since 1990, the country has fallen behind its neighbouring countries.”کیا ہر غیرت مند پاکستانی کو سوچنا نہیں چاہئے کہ ان کا وہ پاکستان جو 1990تک اپنے پڑوسیوں بھارت، بنگلہ دیش وغیرہ سے کہیں آگے جارہاتھا، زوال کا شکار ہو کر ان سے کہیں پیچھے کیسے رہ گیا؟ غور کرو 90ء کے بعد کون سی دو سیاسی نحوستیں اس ملک پر چھائی رہیں۔ یہ کون لوگ تھے جو ملکی ترقی کی جڑوں میں بیٹھ گئے؟ اورکیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ان دونوں سےجان چھڑا کر پاکستان کو ایک بار پھر صحیح اوردرست سمت کی طرف موڑکےملکی وسائل کے لٹیروں کوہمیشہ ہمیشہ کے لئے الوداع کہہ دیاجائے۔ ایسا نہ کرنے والا ہر شخص اپنی اولادوں کابدترین دشمن ہوگا۔ جشن منائیں یاروئیں، اس حقیقت پر کہ اس دوران صرف پرویز مشرف کا دور ہی ایسا تھا جس میں گروتھ ریٹ 7فیصد تک گیا۔ آمریتوں سے بدتر جمہوریتوں کی بحث سے ماورا، مجھے ملکی مضبوطی اور ترقی درکار ہے، باقی ہر سیاسی دربار پر سو بارلعنت۔میاں صاحبان اور ان کے منشی مسخرے تک کیسی کیسی منطق پیش کررہے ہیں۔ اورتو اور احسن اقبال جیسا نسبتاً سنجیدہ اور پڑھا لکھا بھی نہال، طلال، دانیال کےرنگ میں رنگا گیا تو بندہ سوچتا ہے خربوزہ خربوزوں کو دیکھ کر رنگ پکڑ گیا کہ موسم ہی ایسا ہے جس میں رنگ فق ہو جاتے اورزبانیں باہر نکل آتی ہیں۔ تین بار ’’صنعت و تجارت وزارت ِ عظمیٰ‘‘سے لطف اندوز ہونے والے کو یہ بھی معلوم نہیں کہ مفروروں سے سرعام ملاقات شریفوں کا کام نہیں۔ مفروروں اور اشتہاریوں کے ’’تھامو‘‘ تو اور ٹائپ کے لوگ ہوتے ہیں۔ فرمایا ’’عمران خان سیاست کو بدنام کر رہا ہے‘‘ تو کیا پاناما شریف کو علم نہیں کہ عمران خان پر تو الزام ہی یہ ہے کہ وہ سیاستدان نہیں، ہوتا توبیک وقت اتنے زیادہ گندے گریبان نہ پکڑتا، اتنے محاذ نہ کھولتا۔ سیاستدان توآپ لوگ ہو جنہوں نے بقول عشرت حسین (سابق گورنر اسٹیٹ بینک) ترقی کرتے ہوئے ملک کو اس حال تک پہنچا کر سیاست کو نفرت کی علامت بنادیا۔ ملکی وسائل ا ور خزانے کا خون ایسے ان کے مونہوں کو لگا ہے کہ اب بھی اسی کام پہ لگے ہوئے ہیں کہ حلوائی کی دکان المعروف پاکستان پھر ان کے ہاتھ لگ جائے تاکہ یہ اور ان کے درباری مع اولادوں کے حصہ بقدر جثہ وصول سکیں اور اور قوم رنگ برنگی آڈٹ رپورٹوں کے کھلونوں سے کھیلتی بہلتی رہے لیکن انشا ء اللہ اب نہیں۔دو نہیں….. ایک پاکستان کا اعلان ہو چکا۔کہنے کو ایک مگر حقیقت میں دو پاکستان ہیں۔ایک طرف مظلوم کا پاکستان، دوسری طرف ظالم کا پاکستان۔ایک طرف معصوم، دوسری طرف مکار کا پاکستان۔ایک طرف عوام، دوسری طرف جعلی اشرافیہ کا پاکستان۔ایک طرف بھوک تو دوسری طرف بدہضمی کا پاکستان۔ایک طرف لٹنے تو دوسری طرف لوٹنے والوں کا پاکستان۔ایک طرف کمزوروںکا تو دوسری طرف طاقتوروں کا پاکستان۔اِس طرف بھی آدمی ہے، اُس طرف بھی آدمی اِس کے جوتوں پر چمک ہے اُس کے چہرے پر نہیں میں نے سالوں پہلے یہ منشور دیا تھا کہ….. کچھ اور نہیں تو اس ملک میں بھوک ہی برابر بانٹ دو۔اس ملک میں سب کی ضرورتوں کے لئے بہت کافی ہے لیکن دوسری طرف یہ پورا ملک بھی چند لالچیوں کے لئے ناکافی ہے جن کے پیٹ ہی نہیں بھرتے….. اور تو اور ان کے تو مالشیوں مسخروں کےپیٹ بھی نہیں بھرتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں