ٹیکنالوجی کے خدایانِ یزداں واہرمن کے پجاری

orya-maqbool-jan-column
ٹیکنالوجی کے بت کے پرستار، ہرنئی ایجاد کے موجد کوپیغمبرکا مقام دینےوالے، شانزے لیزے، آکسفورڈ سٹریٹ اورٹائمزاسکوائرنیویارک کا سفرعمرے اورحج جیسے عقیدت سے کرنے والے اوروہاں کے طواف کی کیفیتوں کوایک ادائے عاشقانہ اورفریفتگی سے بیان کرنے والے، ادیب، دانشور، سیاستدان، استاد، تاجر، تجزیہ نگاراورہرشعبہ زندگی کے متاثرین، بلا کے لوگ ہیں. گزشتہ دوسوسال سے شاید ہی کسی نے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت، سیدالانبیاءصلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی رسالت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مسیحائی، گوتم بدھ کی انسان پرستی یا گیتا کے اشلوک والے کرشن کا اس شدت، عقیدت اوراندھے پن سے دفاع کیا ہو، جس شدت اورجذبات سے مغلوب ہوکریہ ٹیکنالوجی کے بت پوجنے والے اپنےدیوتا کا دفاع کرتے ہیں. یوں لگتا ہے انہوں نے عقل ودل، ہوش وخرد سب اس جدید تہذیب کے عظیم المرتبت خدا “ٹیکنالوجی” کے قدموں میں‌ نچھاورکردیے ہیں. کیوں نہ کریں، اس ٹیکنالوجی کے بھگوان نے انہیں زندگی کی ہرنعمت سے مالامال کیا ہے. وہ ہواؤں میں بلند ہوکرسالوں کا سفردنوں میں کرتے ہیں، سورج کی گرمی کی آسمانی آفت کے مقابلے میں اس کی ایئرکنڈیشنڈ زمین پرجنتِ ارضی کا ماحول پیدا کردیتے ہیں، سمندروں کا سینہ چیرنے والے جہاز، زمین پرآسمانی رفتارسے بھاگنے والی ٹرینیں، کاریں، بسیں، جسمانی آفات وبلیات سے لڑنے والی ادویات، آپریشن تھیٹراورطبی دنیا کے مستعد اورچوکس کارکن، ستاروں پرکمندیں ڈالنے کی جستجومیں خلائی جہاز، آسمان پرموجود فرشتہ سیرت سیٹلائٹ جوزمین پرگاڑی آہستہ چلانے والے کوراستہ بتاتے ہوں، تمام معلومات اورفائلوں کوآگ، سیلاب اورزلزلے سے بچانے کے لئے آسمان کی بلندیوں پرکسی سیٹلائٹ میں ڈیٹا سٹوریج کی صورت محفوظ کرنے والا علم—- غرض ٹیکنالوجی کے اس “یزداں” کے کیا کہنے. “یزداں” دارصل زرتشت مذہب میں اچھائی کرنے والے خدا کوکہا جاتا ہے جس کی ضد “اہرمن” یعنی برائی کا خدا ہے. اس ٹیکنالوجی کا ایک “اہرمن” بھی ہے اوریہ سب کے سب اسے بھی پوجتے ہیں. ٹیکنالوجی کا “اہرمن” الفریڈ نوبل سے ڈائنامائٹ ایجاد کرواتا ہے جوآج تک پوری دنیا میں تمام آتشیں اسلحے کی والدہ محترمہ تصورکی جاتی ہے. پجاری اس الفریڈ نوبل کے نام پردنیا کا سب سے بڑا اعزاز”نوبل انعام” جاری کرتے ہیں. آئن سٹائن گزشتہ دوسوسال کی سائنس کوجھوٹ ثابت کرکے ایک ایسی نئی سائنسی دنیا کا آغاز کرتا ہے جس میں رابرٹ اوپن ہیمر”Robert Oppenheimer” جولائی 16، 1945 کوامریکی ریاست نیومیکسیکوکے ایک مقام پرایٹم بم کا دھماکا کرتا ہے اورٹھیک 20 دن بعد 6 اگست کوہیروشیما اور9 اگست کوناگاساکی پرٹیکنالوجی کے “خدائے اہرمن” کی آگ برستی ہے اورلاکھوں لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں.



جنگ ظیم دوم کے اس “تماشائے ٹیکنالوجی” کے بعد دنیا کی اکثریت اس کے دونوں خدائے یزداں اورخدائے اہرمن کے سامنے سجدہ ریز ہوچکی ہے. یہ لوگ ٹیکنالوجی کے “یزداں” کے گن گاتے اورقصیدے پڑھتے ہیں، ان شہروں کا باربارطواف کرتے ہیں جہاں اس ٹیکنالوجی کے خدا کا بسیرا ہے، وہاں رہنے کی آرزو میں مرتے ہیں اوروہاں مرنے کی تمنا میں جیتے ہیں. یہ دنیا بھرکوٹیکنالوجی کے خدائے “اہرمن” کی طاقت، قوت اورہیبت سے ڈراتے ہیں. ان دونوں خداؤں‌ کا مرکزومسکن اس وقت امریکہ اوراس کا اتحادی یورپ ہے. ٹیکنالوجی کے پجاریوں کا یہی قبلہ وکعبہ، گنگا تیرتھ، بدھ گیا اورویٹکن سٹی ہے. یہ اپنی تحریروں میں کبھی ٹیکنالوجی سے مالامال جدید شہروں میں بستے انسانوں کا دکھ بیان نہیں کریں گے، لاکھوں کی تعداد میں تنہا مرتے بوڑھوں، کروڑوں کی تعداد میں پیدا ہونے والے ولدیت کے خانے میں باپ کے نام سے محروم بچوں اورہرسیکنڈ درجن بھرجنسی تشدد کا شکارہونے والی عورتوں کا تذکرہ تک نہیں کریں گے. آپ کوان کی تحریروں میں صرف کافی شاپ، تفریحی مراکز، رنگین ساحل سمندر، اوپیرا، کنسرٹ اوررنگا رنگی ہی ملے گی. ظاہربات ہے اپنے مذہبی مقدس مقامات کی کون برائی کرتا ہے. لیکن یہ تمام لوگ اس قدرمتعصب اورشدت پسند ہیں کہ ٹیکنالوجی کے کی طاقت کے “خدائے اہرمن” کی شکست ان سے برداشت نہیں ہوتی. یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ان کا خدا جس کے پاس سیٹلائٹ وژن، ڈرون، ایٹم بم، آوازسے تیزرفتاربمباراورتباہی وبربادی کے تمام سامان موجود ہوں، اسے نہتے اوربے سروسامان لوگ شکست دیں گے. یہ سوچ کران کی راتوں کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں، انہیں چین نہیں آتا. یہ ایسے افسانے اورناول تحریرکرتے ہیں جس میں ٹیکنالوجی کے خدا کی برتری ثابت ہوسکے جیسے آئن فلیمنگ “Ian Fleming” جس نے جیمزبانڈ کے ناول لکھے اورپھران ناولوں پرفلمیں بنیں. ویتنام کے نہتوں نے جب اس ٹیکنالوجی کے خدا کے ساٹھ ہزاردیوتا سپاہیوں کوذلت آمیزموت دی اورباقی دیوتا سپاہی ہیلی کاپٹرسے لٹک کربھاگے توانہوں نے “ریمبو” جیسا کردارتخلیق کیا اوراپنے “خدائے اہرمن” کی برتری کے گیت گانے لگے.
ٹیکنالوجی کے ان پجاریوں کی موت کی شاہد گزشتہ سوسال سے ایک سرزمین ہے جسے افغانستان کہتے ہیں. پہلی شکست 6 مئی سے 18 اگست 1919ء کوہونے والی برطانیہ اورافغانستان کی تیسری اورآخری جنگ ہے. اس وقت ٹیکنالوجی کا تاج برطانیہ کے سرپرتھا اوراس کی سلطنت میں‌ سورج غروب نہیں ہوتا تھا. اسے اپنی ایئرفورس اورتوپ خانے پرنازتھا، جبکہ افغان توبس زمین پرتھے. برطانوی ایئرفورس کے کمانڈرسرہیوٹرنچارڈ نے کہا تھا کہ ہماری وہ عظیم ایئرفورس، جوعدن، میسوپوٹیمیا اوراردن میں کامیاب ہوئی تھی افغانستان میں بری طرح ناکام ہوگئی. برطانیہ کی ذلت آمیزشکست کے بارے میں‌ یہ ٹیکنالوجی کے پجاری آج بھی کہتے پھرتے ہیں کہ وہ توبرطانیہ کی حکمت عملی تھی کہ افغانستان کوفتح نہ کیا جائے. ٹیکنالوجی کی افغانستان میں دوسری شکست کے گواہ توابھی اس دنیا خاص طورپرپاکستان میں زندہ ہیں. اس جنگ کے دوران ان کے خدا الگ الگ تھے، ایک روس اوردوسرے کا امریکہ. حیرت ہے کہ افغان جہاد میں شکست والے روس کے پرستارشکست کے فوراً بعد امریکہ کے عظیم بت کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے. لیکن آج اس ذلت آمیزشکست کے بیس سال بعد کہانیاں تراشی جا رہی ہیں، کوئی کہتا ہے یہ توامریکی اسلحہ، سعودی سرمایہ اورسعودی اسلامی جہادی نظریہ کے آمیزے نے جگن جیتی ورنہ نہتے افغان کیا کرسکتے تھے. کسی کوچارلی ولسن اورامریکی سی آئی اے یاد آ رہی ہے کسی کوسعودی شہزادے بندربن سلطان کی آپ بیتی “دی پرنس” یاد آرہی ہے اوریہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاررہی ہے کہ افغانستان میں ٹیکنالوجی کا “خدائے اہرمن” نہیں ہارا تھا اسے ایک بڑے “اہرمن” امریکہ نے مدد کرکے ہرایا تھا. اس دوران آئی ایس آئی کوبھی ایک چھوٹا سا دیوتا ثابت کیا جاتا ہے. دس پندرہ سال پرانی کتابوں کوان دنوں اس لیے دوبارہ یاد کیا جا رہا ہےکیونکہ ان پجاریوں کا “خدائے اہرمن” امریکہ اسی افغانستان میں‌ ذلت آمیز شکست سے دوچارہے. روزانہ 22 امریکی سپاہی خودکشی کرتے ہیں اورافغانستان میں 45 امریکی حواری روزانہ لقمہ اجل ہوتے ہیں. کوئی ان ٹیکنالوجی کی پوجا کرنے والوں سے پوچھے اب توان نہتے افغانوں کا کوئی ساتھی بھی نہیں، اب توٹیکنالوجی بھی عروج پرہے، اب تمہارا چارلی ولسن، تمہاری سی ائی اے، کہاں مرگئی. اس چھوٹے دیوتا پرویزمشرف نے توتین ہوائی اڈے بھی بڑے “اہرمن” امریکہ کے حوالے کیے جہاں سے ٹیکنالوجی کے اہرمن کے فائٹراورڈرون اڑتے رہے——ذلت آمیزشکست—–بدترین رسوائی کے اس عالم میں تیس سال پرانے افغان جہاد پرلکھی گئی کتابیں کھول کریہ دانشوراس پاکستان کے باسیوں‌ کو بتاتے پھرتے ہیں کہ افغان جہاد تمہاری سب سے بڑی غلطی تھی. تاریخ کے یہ کورچشم طالب علم اگران مسلمان ریاستوں کا حشرپڑھ لیتے جہاں سوویت یونین نے قبضہ کیا تھا اورپھراپنے جیسے ٹیکنالوجی کے پجاریوں کی لکھی کتابوں میں سے وہ تجزیے بھی دیکھ لیتے ہیں کہ روس افغانستان کے بعد کیسے پاکستان میں‌ آ رہا تھا اوراس کا استقبال کرنے والے کیسے پورے پاکستان میں منظم تھے. وہ توافغان مجاہدین نے باچا خان، ولی خان، محمود اچکزئی، سی آراسلم، عابد منٹو، جی ایم سید اورخیربخش مری جیسے لاتعداد انقلابیوں کی امید کا قتل عام کردیا. ورنہ اس ملک کی ہردرسگاہ میں نورمحمد ترکئی کے ناولوں کے ترجمے عام ہوچکے تھے. افغانستان کے عوام نے پاکستان کے عوام کی آزادی اوراورحریت کے لئے جوقربانی دی ہے اس کا اندازہ اس قوم کونہیں. اگریہ ٹیکنالوجی کے پرستار ایک لمحے کوپاکستان میں روسی افواج کی حکمرانی کا تصورکرلیں توکانپ اٹھیں. یہ آج جس تاجکستان اورازبکستان کے سفرنامے اپنی تحریروں میں لکھتے ہیں اگرپاکستان بھی ان ریاستوں کی طرح سوویت یونین کے زیرنگیں ہوتا تویہ سب کے سب اول تو اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے اورکچھ لوگ ایسا نہ کرتے توسائبیریا کے عقوبت خانوں میں پڑے ہوتے. یہ ناشکرے ہیں، اس سرزمین پاک کے ناشکرے، اس خدائے واحد کریم کے ناشکرے، اس کی ذات والا صفات کی بادشاہت کی بجائے ٹیکنالوجی کی بادشاہت کے قائل اورپرستار.

اپنا تبصرہ بھیجیں