میاں صاحب کی ایک اور غلطی


نواز شریف کی خوش نصیبی ان پر ہمیشہ مہربان رہی ان کے اُلٹے کام بھی سیدھے ہوتے گئے بگڑی بنتی گئی، دونوں ادوار میں ان کی اپوزیشن نہ ہونے کے برابر تھی وہ ہر کام اپنی مرضی سے کرتے رہے حتیٰ کہ ایک وقت وہ بھی آگیا جب وہ امیر المومنین بننے کے خواب دیکھنے لگے بس لبِ بام دو چار ہاتھ ہی رہ گیا تھا لیکن پھر اقتدار کے چراغوں کی روشنی کو میاں صاحب برداشت نہ کر پائے اور اپنی دوتہائی طاقت کے نشے میں بم کو لات مار بیٹھے اور ایک بار پھر دو تہائی اکثریت کے باوجود اقتدار سے الگ کر دئے گئے۔ اس دفعہ وہ ماڈل ٹاؤن کی بجائے سیدھے جیل پہنچا دئے گئے۔

بعد کی کہانیاں ابھی تازہ ہیں اور ماضی قریب کی تاریخ یاد رہتی ہے کیونکہ اس پر ابھی گرد نہیں جمی ہوتی ۔ ایک بات بہرحال بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ دونوں بار اقتدار سے اپنی ہی غلطیوں کے باعث باہر ہوئے انھوںنے بلاوجہ ایسے اقدامات کیے کہ اقتدار ان کے ہاتھ سے نکل گیا، سچی بات یہ ہے کہ وہ اس کا الزام اپنے سوا کسی پر نہیں لگا سکتے کیونکہ میاں صاحب سنتے سب کی ہیں کرتے وہی ہیں جو ان کی اپنی مرضی ہوتی ہے اور اسی مرضی کے تحت انھوں نے اپنی سیاسی حریف شہید بینظیر سے پاکستان سے سات سمندر دور وطن عزیز میں جمہوریت کو آمریت سے دور رکھنے کے لیے مشہور زمانہ میثاق جمہوریت بھی کیا جو کہ سیاسی قوتوں کے علاوہ مقتدر حلقوں کو بھی ہضم نہ ہوا ۔ اس میثاق اور درپردہ ڈکٹیٹر کے ساتھ معاملات طے کر کے محترمہ بینظیر وطن واپس آگئیں لیکن کراچی میں ان کے استقبال میں سیکڑوں لوگ ان پر اپنی جان نچھاور کر گئے ۔

محترمہ بینظیر وطن واپس لوٹنے کے بعد ایک مختلف سیاستدان نظر آئیں لیکن توقعات کے برعکس اپنی عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے وہ شاید ڈکٹیٹر کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو فراموش کر بیٹھیں اور پھر ملک میں وہ حادثہ رونما ہو گیا جس کی کسی کو توقع نہ تھی، محترمہ بینظیر کو شہید کر دیا گیا اور جناب زرداری ان کے سیاسی وارث ٹھہرے جنہوں نے اس نازک موقع اور حالات کی سنگینی کے پیش نظر نہایت دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کھپے کا نعرہ بلند کیا جس پر سیاسی قیادت نے لبیک کہا اور الیکشن میں عوام نے اقتدار کا ہما ان کے سر پر بٹھا دیا اور پیپلز پارٹی کی ایک اور حکومت کا آغاز ہو گیا جو کہ اپنی مدت پوری کر کے ختم ہوئی۔ یہ حکومت کیسی رہی اس کے بارے میں عوامی تبصرے بہت ہوتے رہے لیکن جناب زرداری خود ایک پختہ سیاستدان کے طور پر سامنے آئے ۔
میثاق جمہوریت کے تحت بھولے میاں نواز شریف نے پیپلز پارٹی کی حکومت کو سہارا دیے رکھا بلکہ شروع میں تو نواز لیگ کے چند وزراء بھی پیپلز پارٹی کی حکومت میں شامل رہے جو کہ میثاق جمہوریت کی نشانی تھے لیکن بعد میں کسی عقلمند کے مشورے پر انھوںنے پیپلز پارٹی کی حکومت سے اقتدارسے علیحدگی اختیار کر لی لیکن داد دینی پڑے گی جناب آصف زرداری کی جنہوں نے اپنی واحد سیاسی مخالف پارٹی کو اپنے اقتدار میں شریک رکھا اور یوں وہ کئی برائیوں کے ساتھ اپنی حکومت کی مدت پوری کر گئے بلکہ اتنی بری حکمرانی انھوں نے کی کہ اپنی پارٹی کا تقریباً صفایا ہی کرا دیا اور وفاق کی علامت کی دعویدار پارٹی سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی۔

دونوں جماعتوں نے دراصل ایک بڑے مقصد کے لیے میثاق کی بنیاد رکھی تھی اور ان زبردست سیاسی حریفوں نے ایک بڑے مقصد کے لیے باہمی اتفاق کے زہر کا پیالہ بھی پی لیا تھا اور وہ مقصد فوج کی ملکی سیاست میں مداخلت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کرنا تھا چونکہ دونوں پارٹیاں اس سے پہلے فوج کے ہاتھوں ڈسی جا چکی تھیں اس میں وہ کس حد تک کامیاب رہے۔

اس کے بارے میں وہ خود ہی جانتے ہوں گے لیکن فوج کو اس ملک کے معاملات سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور یہ کہا جائے کہ فوج اور پاکستان کا اقتدار لازم وملزوم ہیں تو یہ بات بالکل درست ہے ۔ میاں صاحب نے تیسری مرتبہ اقتدار سنبھالنے کے بعد جس طرز حکمرانی کی بنیاد رکھی وہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ ان کا دل فوج کی طرف سے صاف نہیں اور وہ کسی بھی قیمت پر فوج کے ساتھ دفاعی معاملات کے علاوہ چلنے کو تیار نہیں وہ تو بھلا ہو ان کے چند دانا ساتھیوں کا جو کہ رات کے اندھیروں میں ملاقاتیں کر کے وضاحتیں پیش کرتے رہے اور کسی نہ کسی طرح حکومت کی مدت پوری کرنے کے قریب لے ہی آئے۔

نواز لیگ کی تیسری حکومت میں پیپلز پارٹی نے ان کا ساتھ بخوبی نبھایا اور فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی تا آنکہ آصف زرداری کی جانب سے فوج کے خلاف بیان بازی پر نواز شریف نے آصف زرداری سے طے شدہ ملاقات منسوخ اور یوں بڑے اور چھوٹے بھائی کہلانے والے نواز شریف اور زرداری کے تعلقات میں کشیدگی کا آغاز ہو گیا ۔
اشتہارات



میاں صاحب نے اقتدار کے تیسرے دور میں بھارت نوازی کا لیبل جو انھوںنے ازخود اپنے اوپر لگایا اور پھر اسے ثابت بھی کیا وہ اپنی طرز کی واحد مثال ہے، بھارتی صنعتکار کے ساتھ مری میں ملاقات اور بھارتی وزیر اعظم مودی نے جس طرح جاتی عمرہ کا دورہ کیا اس کو پاکستانی عوام کے علاوہ مقتدر حلقوں میں بھی پسند نہیں کیا گیا، یہ بھارت نواز رویہ جس کے بارے میں میاں نواز شریف نے کہا تھا کہ تیسری بار قوم نے انھیں بھارت سے دوستی کے نام پر ووٹ دے کر منتخب کیا ہے قابل قبول نہ ٹھہرا۔ ایک عام پاکستانی بھی یہ بات برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کے ملک کا وزیر اعظم بھارت کے ساتھ ذاتی تعلقات کو فروغ دے کیونکہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک جو زخم بھارت نے ہمیں دیے ہیں وہ ابھی تازہ ہیں اور ان میں اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے ۔

میاں صاحب اس مرتبہ کھل کر سامنے آئے ہیں اور ان کے ترقی کے دعوے ہو ا ہو گئے ملک کے بڑے ادارے جس زبوں حالی کا شکار ہیں ان کی ترقی کے دعوے ان کے سامنے ٹھس ہو جاتے ہیں۔ پاکستان اسٹیل ہو یا پاکستان ریلوے یا قومی ائر لائن ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے ان اداروں کا حال سب کے سامنے ہے اس کے علاوہ جنرل پرویز مشرف کا پاکستانی سیاستدانوں کے لیے نادر تحفہ الیکڑانک میڈیا جلتی پر تیل ڈال رہا ہے، چند اخبارات کے ساتھ حکومت کرنے کے جو مزے تھے وہ الیکڑانک میڈیا نے کرکرے کر دیے ہیں اور ہر روز ایک نئی خبر سامنے آرہی ہے۔

میاں صاحب جو کہ بھاری بھرکم مینڈیٹ کے تحت تیسری حکومت مکمل کرنے کے بعد چوتھی کے خواب دیکھ رہے تھے وہ ایک بین الاقوامی کیس نے چکنا چور کر دئے اور میاں صاحب کو اقتدار سے الگ کر دیا گیا جس کے بعد اب وہ اپنا بیانیہ لے کر عوام کے پاس جا رہے ہیں اور شہر شہر یہ پوچھتے پھر رہے ہیں کہ ان کا کیا قصور تھا کہ ان کو حکومت سے بے دخل کر دیا گیا مگر اس کا جواب عوام کے پاس نہیں خواص کے پاس ہے اور وہ خواص کے پاس جانے سے گریزاں ہیں ان کے خلاف پانامہ کیس میں مزید تحقیقات کے بعد الیکشن سے پہلے فیصلہ آنے کی توقع ہے اس لیے وہ اس فیصلے سے پہلے اپنا عوامی تاثر ٹھیک کرنے کی کوشش میں ہیں، میاں نواز شریف یہ سمجھ چکے ہیں کہ فی الحال پاکستانی سیاست سے ان کا بوریا بستر گول کر دیا گیا ہے ان کی خواہش ہے کہ وہ مقتدر حلقوں پر اتنا پریشر ڈالیں کہ ان کی دولت محفوظ رہے اور وہ مزے سے لندن کی آکسفورڈ اسٹریٹ پر شام کو ٹہلتے رہیں اور لندن کے سرد موسم میں اپنے پسندیدہ ریستوران میں گرم گرم کافی سے لطف اندوز رہیں ۔

اس وقت تو یہی نظر آرہا ہے عوامی جلسوں کے باوجودکوئی ایسی صورت نہیں بن پا رہی جس سے میاں نواز شریف کو کوئی سہولت مل سکے بلکہ ان کے گرد قانون کا شکنجہ مزید سخت ہوتا جا رہا ہے شاید وہ چاہ رہے ہیں کہ ان کو سزا دے دی جائے تا کہ وہ مظلوم بن کر ایک بارپھر سامنے آئیں لیکن وہ شائد یہ بھول گئے ہیں کہ اس ملک کے بڑے بڑے لیڈر اپنی طاقت کے زعم میں عوامی حمائت کی غلط فہمی کا شکار ہو کر مار کھا گئے اور ان کا نام و نشان تک مٹ گیا ۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں