Orya-Maqbool-Jan

خداحافظ امریکہ

orya-maqbool-jan-column
آج سے تقریبا 38 سال قبل دسمبر 1979 میں جب سوویت یونین کی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں تو جس خطے پر دنیا بھر کی نظریں جم گئیں وہ پاکستان تھا اور یہ نظریں آج تک ہٹی نہیں۔ لیاقت علی خان کی وزارت عظمی کے زمانے سے امریکی محبت میں گرفتار پاکستانی سیاسی اشرافیہ جس میں سیاستدان، بیوروکریٹ اور افواج شامل تھیں ایک دم چونک اٹھے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جو سرد جنگ شروع ہوئی تھی یہ اس کا سب سے بڑا واقعہ تھا۔ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ کو یہ یقین ہو گیا تھا کہ اگلا نشانہ ہم ہیں۔ یہ یقین دراصل تاج برطانیہ کے زمانے سے دلوں میں بٹھائے گئے اس خوف سے پیدا ہوا تھا کہ زار کے زمانے سے روس گرم پانیوں تک پہنچنے کی کوشش میں ہے۔ عسکری تجزیہ کاروں کی اکثریت اس کلیہ کو بیان کرتی ہے کہ برطانیہ نے افغانستان میں بدترین شکست کے بعد یہ طے کیا کہ افغانستان کو روس اور برطانوی ہندوستان کے درمیان ایک بفر زون کے طور پر چھوڑ کر اپنے مورچے ڈیورینڈ لائن پر مضبوط کر لیے جائیں۔ آپ کو برطانوی ہندوستان کی کسی بھی سرحد پر اتنے مضبوط پختہ مورچے قلعے اور ذرائع آمد و رفت نہیں ملیں گے جیسے افغانستان کی سرحد پر قائم کیے گئے۔ برطانوی حکمران اور جرنیل اکثر یہ فقرہ دہراتے کہ اگر سوویت روس دریائے ایمو (oxus) عبور کر گیا تو جنگ چھڑ جائے گی۔ دوسری جانب اسی برطانوی ہندوستان میں روس کی طرز پر کیمونسٹ انقلاب لانے والوں کی ایک وسیع کھیپ موجود تھی جو امریکہ دشمن خیالات عوام میں پھیلانے میں انتہائی موثر تھی۔ کیمونسٹ پارٹی کی مزدور اور کسان تنظیمیں بہت منظم تھیں۔ ادب کے محاذ پر تو کسی اور کی اجارہ داری ہی نہیں تھی۔ انجمن ترقی پسند مصنفین میں کون تھا جو شامل نہیں تھا۔ ساحر لدھیانوی، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی غرض ہر بڑا نام روس کی مدحت اور کیمونسٹ انقلاب کے لیے نظمیں، غزلیں، افسانے اور ناول تحریر کر رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سوویت روس نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ہٹلر سے لڑائی کا آغاز کیا تو یہ سب کے سب برطانوی فوج کے ساتھ ہو گئے اور فیض احمد فیض جیسا شاعر بھی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ میں کرنل کے عہدے پر براجمان ہوگیا۔ پاکستان کو یہ کیمونسٹ تحریک ورثے میں ملی۔ یہ تحریک ایک مضبوط سیاسی چہرہ تو نہ بنا سکی لیکن اس کی مزدور اور کسان انجمنیں خاصی مضبوط تھیں۔ 1970 ء کا الیکشن اسی کشمکش میں لڑا گیا۔ مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو اور مشرقی پاکستان میں بھاشانی نے ان امریکہ مخالف اور کیمونزم حمایت جذبات کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ دوسری جانب جماعت اسلامی اور مولانامودودی کا لٹریچر کیمونزم کے خلاف ایک مضبوط دیوار تھا، اسی لیے اس دور کا پریس جو کیمونسٹ خیالات رکھنے والوں کے زیر اثر تھا وہ مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کو امریکی پٹھو اور انقلاب کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ لکھتا۔ یہ دائیں بازو اور بائیں بازو کے درمیان کشمکش کا دور تھا۔ اسی لیے جب سوویت یونین کی افواج روس میں داخل ہوئیں تو پاکستان میں موجود بائیں بازو کا طبقہ مغربی سرحد کی طرف امید لگا کر بیٹھ گیا کہ کب روس کی افواج افغانستان سے پاکستان داخل ہوتی ہیں اور یہاں مزدور اور کسان کی بادشاہت قائم کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ اس دور میں ایک کتاب بہت مقبول ہوئی جسے نیٹو افواج کے کمانڈر سر والٹر واکر (Sir Walter walker) نے تحریر کیا تھا “The next domino” ’’اگلا زیر تسلط علاقہ‘‘۔ اس کتاب میں اس نے دلائل و شواہد سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی روس گرم پانیوں تک پہنچنے کی صدیوں پرانی خواہش رکھتا ہے کیوں کہ اس کے ساحل اس قابل نہیں کہ ان میں سرد موسم کی وجہ سے جہاز رانی کی جا سکے۔ اس لئے وہ بذریعہ افغانستان گوادر تک پہنچنا چاہتا ہے۔ گوادر کا نام اس وقت عالمی سکرین پر جگمگانے لگا۔ دنیا بھر کی دائیں بازو کی افواج اور حکومتیں امریکہ کی قیادت میں متحد ہوگئیں اور وہ افغان جہاد شروع ہوا جس کے نتیجے میں سوویت یونین بحیثیت ایک عالمی طاقت دنیا کے نقشے سے معدوم ہو گیا اور پوری دنیا یہ سمجھنے لگی کہ اب مدتوں تک دنیا کے اقتدار پر امریکہ کا کوئی اور حریف نہیں ہوگا۔



آج اور اس وقت دنیا کو کس قدر حیرت ہے کہ وہ خواب جو روس اپنی افواج اور علاقے فتح کرنے سے حاصل نہ کر سکا، اس کے شرمندہ تعبیر ہونے کے دن آگئے ہیں۔ گوادر اب روس کے لیے ایک خواب نہیں بلکہ حقیقت بن چکا ہے۔ وہ سوویت یونین جس کے سائے میں بھارت کے جواہر لال نہرو، مصر کے ناصر اور یوگوسلاویہ کے مارشل ٹیٹو کی نان الائیڈ موومنٹ مستحکم تھی آج اسی بھارت کا نریندر مودی اب امریکہ کا منظور نظر ہے۔ امریکہ افغانستان میں موجود ہے لیکن اس کی موجودگی اس کے اپنے لیے وبال جان ہے، وہ نکلنا چاہتا ہے لیکن افغانستان کو اپنے حواری بھارت کے زیر اثر کر کے وہاں سے نکلنا چاہتا ہے۔ امام خمینی کا ’’مرگ بر امریکہ‘‘ والا ایران اب امریکہ کی اس گیم پلان کا حصہ ہے۔ لیکن پاکستان کے بغیر افغانستان میں مستقل قیام ناممکن ہے اور وہ امریکہ سے روز بروز دور سرکتا جا رہا ہے۔ خطے کا سب سے اہم ملک، چین بھی روس کی طرح مشرق وسطیٰ اور افریقہ تک نزدیکی راستے کی تلاش میں گوادر آ پہنچا ہے۔ سی پیک ایک ایسا لہراتا ہوا ناگ ہے جو بھارت اور افغانستان کے راستے میں بیٹھا ہے اور کسی طاقتور پنڈت کے بھی قابو میں نہیں آ رہا۔ سی پیک ہی وہ شاہراہ ہے جو روس کا خواب پورا کر رہی ہے۔ شاید لوگوں کے لیے یہ خبر ہو کہ پاکستان میں اس وقت جتنی سرمایہ کاری چین کے سرمایہ کار کر رہے ہیں اس سے زیادہ نہیں تو برابر، روس کے سرمایہ کار بھی اپنا سرمایہ پاکستان میں لگا رہے ہیں۔ روس کے سرمائے سے چلنے والی عالمی کمپنی ویمپل کوم (vimple com) پاکستان کی سب سے بڑی موبائل کمپنی ’’موبل لنک‘‘ خرید چکی ہے اور اس نے پہلا کام یہ کیا کہ ’’وارد‘‘ کو بھی خرید کر اس میں ضم کر لیا۔ کمپنی اس میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے اسے دنیا کے چند بڑے نیٹ ورکوں کے برابر لانا چاہتی ہے۔ روس اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ تیل کے ذخائر رکھنے والا ملک ہے۔ گزشتہ سال اس کی تیل کمپنی Gazprom گزپروم نے پاکستان کے ساتھ معاہدہ کیا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تیل اور گیس کی تلاش میں 8 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری شروع ہو چکی ہے۔ اس وقت بینک الفلاح کے ساتھ روسی کمپنی کے مذاکرات آخری مراحل میں ہیں۔ پاکستان کا امریکی اسلحہ پر انحصار کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ایف 16 کی جگہ چینی جے ایف تھنڈر نے لے لی ہے جو پاکستان میں بن رہے ہیں اور چین کی وجہ سے پاکستان اس میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کی مہارت بھی رکھتا ہے۔ دوسری جانب گزشتہ ماہ روس کے M135 ہیلی کاپٹروں کی کھیپ پاکستان پہنچ چکی ہے۔ اس وقت امریکہ کا صرف اور صرف ایک ہی خواب ہے کہ افغانستان کی جنگ پاکستان منتقل کی جائے تاکہ پاکستان ایک مسلسل بدامنی کا شکار رہے جبکہ روس اور چین کا مفاد پاکستان میں مستقل امن کا ہے۔ پچھتر سال کے بعد دشمن دوست اور دوست دشمنوں میں بدل رہے ہیں۔ عوام کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، وہ تو امن اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ لیکن سیاسی اشرافیہ کی نیندیں حرام ہیں جن کی جائیدادیں یورپ و امریکہ میں ہیں، بچے وہاں رہتے اور پڑھتے ہیں، انہیں سرپرستی بھی انہی کی حاصل ہے۔ دیکھیں جیت کس کی ہوتی ہے امن و خوشحالی کی یا بد امنی و بدحالی کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں