اصغر خان کیس اور خلائی مخلوق

Hamid-Mir
ائیر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان اس دنیا سے چلے گئے لیکن ان کا نام آج بھی سپریم کورٹ آف پاکستان میں گونج رہا ہے۔ اصغر خان بنام جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ کے نام سے ایک مقدمہ 16سال تک سپریم کورٹ میں چلتا رہا۔ 2012ءمیں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین نے اس مقدمے کا فیصلہ سنا دیا۔ چھ سال گزر چکے۔ اصغر خان کیس میں پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ اس فیصلے کیخلاف اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی نے نظر ثانی کی اپیلیں دائر کر رکھی تھیں۔ ان اپیلوں پر آج سماعت ہو گی اور ایک دفعہ پھر یہ سوال اٹھایا جائے گا کہ چھ سال قبل سپریم کورٹ نے یہ حکم دیا تھا کہ جن سیاستدانوں نے 1990ء کے انتخابات میں آئی ایس آئی سے رقوم لیں ان کے خلاف ایف آئی اے کے ذریعہ انکوائری کر کے کارروائی کی جائے لیکن یہ کارروائی کہاں پہنچی؟2012ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی لیکن وہ یہ کارروائی مکمل نہ کرا سکی۔ 2013ء میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت آ گئی۔ آج مسلم لیگ (ن) والے سیاست میں کسی خلائی مخلوق کے کردار کا بڑا ذکر کرتے ہیں۔ وہ چاہتے تو اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کروا کر سیاست میں خلائی مخلوق کا راستہ ہمیشہ کیلئے بند کر سکتے تھے لیکن مسلم لیگ (ن) نے اس عدالتی فیصلے کو نظر انداز کئے رکھا کیونکہ جن سیاستدانوں پر آئی ایس آئی سے پیسے لینے کا الزام تھا ان میں نواز شریف بھی شامل تھے۔ اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر اسلم بیگ اور اسد درانی نے نظر ثانی کی اپیلیں اسلئے دائر کیں کیونکہ عدالت نے صاف صاف کہا کہ صدر غلام اسحاق خان، جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی نے 1990ء کے انتخابات میں دھاندلی کر کے آئین کی خلاف ورزی کی۔ عدالت نے رشوت دینے والوں کو مجرم قرار دیدیا البتہ جن کو رشوت دی گئی ان کے خلاف مزید انکوائری کا حکم دیا اور ان کو دی گئی رقم برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کرنے کی ہدایت کی گئی۔ یہ کیس اس لحاظ سے بھی بڑا اہم ہے کہ نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان میں اختلافات کی طویل داستان میں اصغر خان کیس بھی بڑا اہم ہے۔
2012ء میں سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس کا فیصلہ سنایا تو اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے اعلان کیا کہ ایف آئی اے سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں اپنی کارروائی جلد از جلد مکمل کرنے کی کوشش کریگی۔ چوہدری نثار علی خان قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تھے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ مسلم لیگ (ن)آیف آئی اے کی انکوائری کو قبول نہیں کریگی کیونکہ ایف آئی اے رحمان ملک کے کنٹرول میں ہے۔ نواز شریف کو ان کے ایک قانونی مشیر نے بتایا کہ ایف آئی اے کو انکوائری کا حکم وزیر داخلہ نےنہیں بلکہ سپریم کورٹ نے دیا ہے ایف آئی اے کی انکوائری سے انکار توہین عدالت کے مترادف ہے لہٰذا آپ ایف آئی اے کی انکوائری سے انکار نہیں کر سکتے۔ میں نے جیو نیوز پر کیپیٹل ٹاک میں یہ سوال اٹھایا کہ اگر مسلم لیگ (ن) ایف آئی اے کی انکوائری قبول نہیں کرتی تو عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کیسے ہو گا؟ انہی دنوں مجھے نواز شریف صاحب کا پیغام ملا کہ اس مسئلے پر مسلم لیگ (ن) کا موقف خواجہ محمد آصف دیں گے آپ انہیں کیپیٹل ٹاک میں بلا لیں۔ ہم نے خواجہ صاحب کو کیپیٹل ٹاک میں بلا لیا۔ انہوں نے چوہدری نثار علی خان کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو ایف آئی اے کی انکوائری پر کوئی اعتراض نہیں۔ چوہدری نثار علی خان نے مجھ سے شکوہ کیا اور کہا کہ وہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں انہوں نے اپوزیشن کا موقف پیش کر دیا تھا خواجہ محمد آصف کو اپوزیشن کے ترجمان کے طور پر کیوں لایا گیا؟ میں انہیں کیا بتاتا کہ وہ اپنی پارٹی کے ترجمان نہیں رہے۔ اگلے ہی دن نواز شریف صاحب نے اس مسئلے پر خود بات کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے ٹیلی فون کال پر کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف کے موقف کی تصدیق کر دی۔ اب چوہدری نثار علی خان پر واضح ہو گیا کہ میں نےخواجہ محمد آصف کے ساتھ مل کر ان کے ساتھ کوئی شرارت نہیں کی بلکہ خواجہ صاحب نے وہی کہا جو نواز شریف کا موقف تھا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ ایک لمبی کہانی ہے۔ چوہدری صاحب بغاوت پر آمادہ تھے اور کیپیٹل ٹاک میں دھماکہ کرنا چاہتے تھے۔ ان کے ساتھ انٹرویو کا وقت بھی طے ہو چکا تھا لیکن شہباز شریف بھاگے بھاگے آئے اور چوہدری صاحب کو اپنے جہاز میں بٹھا کر لاہور لےگئے اور یوں چوہدری صاحب کی بغاوت میں پانچ سال کی تاخیر ہو گئی۔
اشتہارات



نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے تعلقات میں اتار چڑھائو کا سلسلہ 1999ءسے جاری ہے بہت کم لوگوں کو یاد ہو گا کہ جب 1988ءمیں جنرل ضیاء نے محمد خان جونیجو کی حکومت کو برطرف کیا تو چوہدری نثار نے جنرل ضیاء کے اقدام کی مذمت کی تاہم نواز شریف نے انہیں جنرل ضیاءکی حمایت پر راضی کر لیا۔1990ءمیں بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد نواز شریف نے صدر غلام اسحاق خان کو پنجاب کی نگراں وزارت اعلیٰ کے لئے چوہدری نثار کا نام دیا تھا لیکن بعد ازاں نواز شریف خود ہی نگران وزیر اعلیٰ بن گئے۔ 1996 میں صدر فاروق لغاری کے ذریعہ بے نظیر حکومت کو برطرف کرانے کے لئے جوڑ توڑ میں چوہدری نثار کا اہم کردار تھا۔ 1998میں جنرل مشرف کو آرمی چیف بنوانے میں کچھ دیگر افراد کے علاوہ چوہدری نثار کا بھی کردار تھا۔
1999ء کی فوجی بغاوت کے بعد نواز شریف جدہ چلے گئے تو چوہدری نثار کے ساتھ غلط فہمیاں اتنی بڑھیں کہ چوہدری نثار نے پیپلز پارٹی میں شمولیت پر غور شروع کر دیا اور آمنہ پراچہ کے ذریعہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ان کا رابطہ بھی ہو گیا لیکن شہباز شریف نے نثار کو اس ’’سانحے‘‘ سے بچا لیا۔ 2008ء میں چوہدری نثار نے نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر کو راولپنڈی میں اپنے حلقے این اے 52 کے ضمنی الیکشن میں کامیاب کرایا۔عام خیال یہ تھا کہ چوہدری صاحب کسی نہ کسی طریقے سے نواز شریف اور ان کی اہلیہ کے دل میں اپنے لئے موجود غلط فہمیاں دور کرنا چاہتے تھے لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے ۔ نواز شریف کے ایک قریبی ساتھی نے مجھے بتایا کہ چوہدری صاحب نے کیپٹن صفدر کو اپنے علاقے سے اس لئے ایم این اے بنوایا کیونکہ ان کےبہت قریبی عزیز یہاں سے ایم این اے بننا چاہتے تھے اور چوہدری صاحب اپنے اس بہت قریبی عزیز کو انکار نہیں کر سکتے تھے لہٰذا انہوں نے کیپٹن صفدر کو زبردستی اپنے علاقے سے الیکشن لڑا کر شیلڈ کے طور پر استعمال کیا۔ اب جبکہ نواز شریف نا اہل ہو چکے ہیں اور چوہدری صاحب کے قریبی دوست شہباز شریف پارٹی صدر بن چکے ہیں تو چوہدری صاحب نے نواز شریف کے خلاف باقاعدہ اعلان بغاوت کر دیا ہے اور کہا ہے کہ نواز شریف خلائی مخلوق کے نام پر ریاستی اداروں کو بدنام کر رہے ہیں۔ چوہدری صاحب اگر اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کروا دیتے تو ریاستی اداروں کی بدنامی کے تمام راستے ہمیشہ کے لئے بند ہو جاتے لیکن بطور وزیر داخلہ وہ یہ کام نہیں کرا سکے۔
اصغر خان کیس صرف عدلیہ کیلئے نہیں بلکہ ان سب کے لئے بھی ایک چیلنج ہے جو ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ لگاتے ہیں۔ اس کیس کے فیصلے کو پڑھیں اس میں فوج اور خفیہ اداروں کی ملک و قوم کیلئے قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان قومی اداروں کو سیاست سے دور رہنا چاہئے۔ انتخابات میں کسی خلائی مخلوق کی مداخلت کا راستہ ہمیشہ کیلئے بند کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اصغر خان کیس کے فیصلے پر آئندہ انتخابات سے قبل عملدرآمد کروا دیا جائے۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں