Orya-Maqbool-Jan

آگ سے کھیلنا بند کرو

orya-maqbool-jan-column
پاکستان کے میڈیا میں کچھ قوتیں، لکھاری، اینکر پرسن اور پس پردہ پروڈیوسر حضرات، مشرف دور میں پل کر جوان ہونے والی این جی اوز اور سول سوسائٹی، قیام پاکستان کے روز ازل سے اس کی تخلیق کے دشمن اور اس کے نظریہ کے مخالف، میاں محمد نواز شریف اور ان کی نون لیگ کو صرف ایک ہی روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ سب سے پہلے اپنے گزشتہ پچیس سالہ ماضی میں جو اسلام اور نظریہ پاکستان کا راگ الاپتے رہے ہیں، اس سے دور ہو جائیں بلکہ اپنا ایک ایسا چہرہ لوگوں کے سامنے پیش کریں کہ ان کے پرانے ’’پاپ‘‘ دھل جائیں۔ ان قوتوں نے گزشتہ چالیس سالوں میں اپنے اس مشن میں کافی حد تک کامیابی حاصل کر لی تھی۔ میاں محمد نواز شریف کا گزشتہ دس سال کا بیانیہ (جب سے وہ جلاوطنی سے واپس آئے ہیں) ایک سیکولر، لبرل اور بھارت دوست بیانیہ بن چکا ہے اور وہ اس کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں۔ نواز شریف کا جلا وطنی سے واپسی کے بعد کا دور جو ان قوتوں کو بہت پسند ہے وہ ایک باغی کا ہے۔ باغی بھی ایسا کہ جس کی بغاوت خود اپنے ہی گھر کو آگ لگا دے۔ یہ بغاوت ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ نامی بلا کے خلاف ہے۔ کیوں کہ میاں صاحب کا ماضی اس گناہ سے لتھڑا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ’’لیبر روم‘‘ میں جنم لینے کے بعد اس کے ’’انوکھے لاڈلے‘‘ تھے جو ہمیشہ ’’چاند‘‘ کی تمنا کرتا رہا اور اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ اس کے ناز اٹھاتی رہی۔ ان قوتوں کی خواہش ہے کہ جیسے شاہنامہ فردوسی کے اہم کردار ’’رستم وسہراب‘‘ میں باپ اور بیٹے کے درمیان پہلوانی کا مقابلہ ہوا تھا ایسے ہی ایک دن اسٹیبلشمنٹ اور چالیس سالوں سے انکا لاڈلا آپس میں مدمقابل ہوں۔ انہوں نے اس مقابلے میں میاں محمد نواز شریف کو یہ یقین دلا رکھا ہے کہ فتح یقینا آپ کی ہوگی۔ لیکن باپ بیٹے کی جنگ میں نہ فتح جہانگیر کو اکبر پر ہوئی اور نہ ہی فردوسی کے سہراب کو اپنے باپ رستم پر برتری حاصل ہوئی، بلکہ سہراب اپنے باپ کے ہاتھوں قتل ہوا۔ یہ لوگ شاید یہ چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے ’’رستم’’ کے ہاتھوں ان کے بیٹے سہراب یعنی نواز شریف کی موت واقع ہو اور پھر جس طرح فردوسی نے سہراب کی ماں ’’تہمینہ‘‘ کی گریہ وزاری کو نوحے لکھ کر امر کیا ہے ایسے ہی کلثوم یا مریم نواز اس گریہ کا پرچم بنا کر نکلیں ؎
بہ مادر خبر شد کہ سہراب گرد
ز تیغ پدر خستہ گشت و بمرد
خروشید و جوشید و جامہ درید
بہ زاری بر آن کود ک نارسید
(جب ماں کو خبر دی گئی کہ اس کا دلاور سہراب اپنے باپ رستم کے ہاتھوں مارا گیا ہے، تو سنتے ہی اس نے روتے ہوئے فریاد بلند کی، اپنا لباس پھاڑا اور بلند آواز میں چیخیں ماریں)۔ سہراب کی ماں کا یہ نوحہ فارسی ادب کا عطر اور معراج ہے۔ نواز شریف کے حاشیہ برداروں میں بہت سے ایسے ہیں جو اسی طرح کا نوحہ تحریر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن انہیں اندازہ نہیں کہ کہانی میں بھی رستم صرف اپنے ایک ہی بیٹے کو قتل کرتا ہے اور یہاں بھی اسٹیبلشمنٹ کی گود میں 1958ء میں پیدا ہونے والے ذوالفقار علی بھٹو کا قتل جب اسی باپ کے ہاتھوں ہوا تو ملک بھر میں اس قدر نوحہ وگریہ شروع ہوا کہ آج تک جاری ہے۔ اب اسٹیبلشمنٹ کا رستم کسی سہراب کا خون کر کے آرام سے بیٹھی ’’تہمینہ‘‘ کے ہاتھ میں بیٹے کی لاش نہیں دینا چاہتا۔ اس لیے وہ قلم کار اور شاعر جو اس ’’خلائی مخلوق‘‘ سے معرکے کے بعد ’’شاہنامہ فردوسی‘‘ تحریر کرنے کے انتظار میں ہیں، انہیں سخت مایوسی ہوگی۔ تیسری خواہش یہ ہے اور اس خواہش پر وہ قیام پاکستان سے بڑی جانفشانی سے کام کر رہے ہیں کہ کیسے اس ملک میں بسنے والے ہر طبقے کو آپس میں لڑایا جائے اور خصوصاً مسلمانوں میں موجود کئی سوسالہ مسلکی اختلاف کو منافرت اور خانہ جنگی تک لایا جائے۔



لیکن مسلکی اختلاف سے بالاتر ایک اور حساس اور نازک معاملہ ہے جسے ’’ناموس رسالت‘‘ کہتے ہیں اور اس امت کے تمام فرقے متحد و متفق ہیں کہ قادیانیت کا پودا ناموس رسالت پر حملہ ہے۔ یہ واحد معاملہ ہے جس کے لیے اس امت نے شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث اور دیگر نے اپنے اختلافات بھلا کر ہمیشہ خون دیا ہے۔ قادیانیت کی مخالفت اتحاد امت کی علامت ہے اور یہ اتحاد ان طاقتوں کو بلکہ دنیا بھر کی اسلام دشمن طاقتوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ یہی وجہ ہے کہ میرے دوست اور ایک سچے مسلمان جسے میں اکثر نسیم انور بیگ کے گھر سرکار دوعالم ﷺ کی مدحت کو بہ چشم نم سنتے اور گفتگو کرتے دیکھا ہے، یعنی احسن اقبال، اس پر حملے سے صرف دو روز پہلے نون لیگ نے ایک ایسا قدم اٹھایا تھا کہ جو اس کے چہرے سے قادیانیت کے بارے میں انتخابی قوانین کی تبدیلی کا داغ مکمل طور پر دھو سکتا تھا، اگر اسے میڈیا پر ایک بہت بڑی تبدیلی کے طور پر دکھایا جاتا۔ لیکن میڈیا پر بیٹھے ہوئے یہ لوگ جو صرف اس ملک میں انتشار دیکھنا چاہتے ہیں وہ تبدیلی پر آج کیپٹن صفدر کو گالیاں دے رہے ہیں کہ اس نے اسمبلی میں یہ قرارداد پیش کی کہ قائداعظم یونیورسٹی کے نیشنل سنٹر فار فزکس کا نام ڈاکٹر عبدالسلام سے بدل کر ’’ ابوالفتح عبدالرحمٰن منصور الخزینی‘‘ کے نام سے منسوب کر کے ’الخزینی ڈیپارٹمنٹ‘ رکھا جائے اور اسمبلی نے یہ قرارداد منظور کرکے 4 دسمبر 2016 کے اس داغ کو دھو ڈالا جو کیپٹن صفدر کے سسر وزیراعظم نواز شریف نے اس سنٹر کا نام عبد السلام کے نام پر رکھ کر مسلم لیگ (نواز) کے دامن پر ڈالا تھا۔ نون لیگ اور کیپٹن صفدر کے اس اقدام کو نہ تو ایک اہم خبر کے طور پر پیش کیا گیا اور نہ ہی پاکستان کے میڈیا نے اسے کوئی مثبت قدم بتایا بلکہ اسے خوف کے تحت کیا جانے والا اقدام بنا کر پیش کیا۔ اس لئے کہ یہ سب چاہتے ہیں کہ اس ملک میں یہ نفرت کا پودا پھولتا پھلتا رہے۔ اگر وہ نون لیگ کے اس اقدام کو اپنے ٹاک شوز اور نیوز کی ویسے ہی زینت بناتے جیسے دوسرے ایشوز پر کرتے ہیں اور یہی احسن اقبال جس کی دین سے محبت کا میں ذاتی طور پر گواہ ہوں، ان پروگراموں میں موجود ہوتا تو شاید یہ ملک اس سانحہ سے بچ جاتا۔ لیکن یہ سب کے سب اسی بات پر تلے ہوئے ہیں کہ دنیا بھر میں پاکستان کے اس منفی تصور کو مزید اجاگر کیا جائے جیسا کہ مغرب اور اس کا گماشتہ میڈیا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیویارک ٹائمز نے احسن اقبال کی خبر کی یہ سرخی لگائی “Champions of minorities, is shot” ’’اقلیتوں کے چیمپئن پر قاتلانہ حملہ‘‘ شکر ہے اس نے احسن اقبال کو قادیانی وزیر نہیں تحریر کردیا۔
یہ لوگ جو میڈیا پر بیٹھے ہیں یہ بہت چالاک، ہوشیار اور کائیاں ہیں، ان کو خوب پتہ ہے کہ مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے ناموس رسالت اور قادیانیت کے حوالے سے صرف اشارہ کافی ہے۔ پھر اس قوم کو کسی لیڈر اور رہنما کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، یہ ان کے لیے حساس ترین موضوع ہے۔ میں کل کانپ گیا جب ایک اینکر نے خواجہ آصف سے سوال کیا کہ آپ بسم اللہ کریں اور کیپٹن صفدر کو اپنی پارٹی سے نکالیں، وہ تو خواجہ آصف کی خاموشی تھی جو انہیں بچا گئی۔ مسلم لیگ (نون) کے نئے نئے خیر خواہوں میں سے بھی کوئی خلائی مخلوق کی بات کر رہا ہے تو کوئی اس سانحے کو پی ٹی آئی سے جوڑ رہا ہے۔ ایک اور اینکر جو سیکولرز کے ’’شاہد مسعود‘‘ بننا چاہتے ہیں وہ سازشی تھیوری جوڑنے کے لیے شیخ رشید کا پرانا کلپ اٹھا کر لائے اور یہ تھیوری پیش کی کہ اس حملہ آور کو اب پاگل قرار دے کر چھوڑا جا رہا ہے۔ لیکن کوئی قادیانیوں کے بارے نون لیگ کے موقف میں تبدیلی بلکہ یو ٹرن اور اپنے ہی لیڈر کے رکھے ہوئے فزکس سنٹر کے نام کو ختم کرنے والے اقدام کو بتا کر آگ کو ٹھنڈا نہیں کرنا چاہتا۔ نام رکھنے کی ایک احتیاط ہوتی ہے۔ نام خواہ اولاد کا ہو، گھر کا یا ادارے کا ہے وہ محبت کی بنیاد پر رکھے جاتے ہیں۔ دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں جہاں کسی شخص سے لوگوں کی اکثریت نفرت کرتی ہو تو وہاں صرف اقلیت کو خوش کرنے کے لئے سڑک یا ادارے کا نام رکھ دیا جائے۔ ہٹلر کی نازی پارٹی کے ہمدرد آج بھی جرمنی میں موجود ہیں لیکن چونکہ اکثریت پسند نہیں کرتی، اس لیے کوئی اپنے کیفے کا نام تک ہٹلر کے نام پر نہیں رکھتا۔ یزید عربی زبان کا بہت مشہور اور بڑا شاعر تھا۔ دیوان حافظ کا پہلا مصرعہ ’’الا یا ایھا الساقی ادر کاسا وناو لھا‘‘۔ یزید کے دیوان سے لیا گیا ہے۔ کیا پوری عرب دنیا میں کسی نے اپنی یونیورسٹی کے عربی زبان کے شعبے یا ادارے کا نام یزید بن معاویہ کے نام پر رکھا۔ پاکستان کے میڈیا کے سیکولروں جیسی جرآت تو بھارت کے متعصب ہندوؤں نے بھی نہیں کی کہ غازی علم دین نے جس کتاب پر راجپال ملعون کو قتل کیا تھا یعنی ’’رنگیلا رسول‘‘ کے مصنف کرشن پرشاد پرتاب کے نام پر کوئی ایک گلی ہی بنا دیتے۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ اس معاملے میں مسلمان اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے۔ دکھ اس بات کا ہے، المیہ یہ ہے کہ یہ تمام میڈیا منیجر، اینکر پرسنز، این جی اوز اور سول سوسائٹی اور قیام پاکستان کے روز ازل سے مخالف اس مسئلے کی حساسیت کو جانتے ہیں اور جان بوجھ کر اس آگ کو سلگا کر فساد برپا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ منافق ہیں جو سوات اور قبائلی علاقہ جات کے آپریشن کے لیے دہائیاں دیتے تھے اور جب اس کے نتیجے میں منظور پشتین برآمد ہوا تو سب اسے ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔ لیکن انہیں اندازہ نہیں، یہ معاملہ بہت حساس ہے، نازک ہے، دہکتی آگ ہے اس کو سلگائو مت ، ٹھنڈا کرو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں