سندھ۔ بلوچستان


آج کل سیاسی بیان بازی معمول سے بھی کچھ زیادہ زوروں پر ہے کہ موجودہ حکومت31مئی کو اپنی معیاد اقتدار مکمل کر کے رخصت ہو رہی ہے اور اس کے بعد 60 دنوں کے اندر اندر ہمیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی تشکیل نو کے لیے انتخابات کے مرحلے سے گزرنا ہے۔

کاغذ پر تو یہ باتیں بڑی صاف اور واضح ہیں کہ ساری مہذب اور ترقی یافتہ دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں یہ کام خاموشی سے اور طے شدہ قواعد کے مطابق عام شہریوں کی زندگی کو بے ترتیب کیے بغیر ہوتا ہے اور ہمارے جیسے ملکوں میں یہ سونامی کی طرح آتا‘ توڑ پھوڑ کرتا اور اپنے پیچھے بہت سا ملبہ چھوڑ جاتا ہے جسے سمیٹے سمیٹے پانچ برس جوں توں کر کے گزرتے ہیں اور پھر اسی طرح کے عمل کا ایکشن ری پلے شروع ہو جاتا ہے۔

گزشتہ ہفتے کے دوران مجھے سندھ اور بلوچستان میں دو علمی اور ادبی نوعیت کی تقریبات میں شامل ہونے کا موقع ملا مگر یہ محفل اور گفتگو میں تان گھوم پھر کر ’’کیا ہو رہا ہے اور کیا ہو گا؟‘‘ پر ہی آ کر ٹوٹتی رہی۔ سیاسی لیڈروں کے بیانات جلسوں اور پریس کانفرنسوں کا ہنگامہ خوب گرم رہا اور خلائی مخلوق کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی ذات اور رویے پر تنقید اور تحسین کا سلسلہ بھی جاری رہا مگر دو خبریں ایسی تھیں جو اپنی نوعیت اور سنسنی خیزی کی وجہ سے دو تین دن تک شہ سرخی اور ہمارے عمومی رویوں کی شدت اور مختلف النوع احتمالات کا مرکز بنی رہیں۔
میرا اشارہ احسن اقبال پر ہونے والے قاتلانہ حملے اور لندن میں نعیم بخاری کے ایک حادثے میں زخمی ہونے کی طرف ہے۔ اتفاق سے دونوں متذکرہ شخصیات سے میرا تقریباً چار دہائیوں سے زیادہ کا ذاتی تعلق اور واسطہ ہے اس لیے میری تشویش کا دائرہ نسبتاً زیادہ وسیع تھا۔ احسن اقبال کو میں اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے طالب علم اور وہاں کی طلبہ یونین کے اہم اور پر جوش لیڈر ہوا کرتے تھے۔

ان کی خاندانی شرافت اور ذہانت اس وقت بھی ان کے چہرے پر نمایاں تھی۔ آگے چل کر سیاست کی پر پیچ راہداریوں میں وہ بوجوہ کچھ متنازعہ اور قدرے مختلف اور بلند آہنگ تو ضرور ہوئے مگر ذاتی اور مجلسی سطح پر میں نے انھیں ہمیشہ ایک وضع دار‘ مہذب اور حیا دار انسان کے روپ میں ہی دیکھا۔ یعنی ان کی سیاست اور سیاسی نظریات اور وابستگیوں سے تو اختلاف ممکن ہے مگر بطور انسان ان کی شخصیت کی تہذیب‘ وقار اور پسندیدگی ہمیشہ قائم رہی۔ ان کے ساتھ یہ حادثہ کیوں اور کیسے ہوا اس پر طرح طرح کی باتیں ہو رہی ہیں اور آیندہ بھی ہوتی رہیں گی مگر یہ اس وقت میرا موضوع نہیں۔ سو ان کے لیے صحت اور خیر کی دعا ہی ہم سب پر واجب ہے کہ کسی کے اعمال کا حساب نہ ہمارا منصب ہے اور نہ ہم اس کے اہل ہیں کہ یہ معاملہ جس علم‘ حلم اور عظمت کا متقاضی ہے وہ کسی مخلوق کے بس کا کام نہیں۔ کم و بیش یہی صورت حال برادر عزیز نعیم بخاری کو پیش آمدہ حادثے کے ضمن میں بھی ہے۔

ہمارے مشترکہ دوست موسیقی والے برادرم ارشد محمود نے بتایا کہ وہ ان کی فیملی سے مسلسل رابطے میں ہیں جو حادثے کے وقت بھی ان کے ساتھ تھی اور یہ کہ اب ان کی حالت مسلسل بہتر ہو رہی ہے۔ فیس بک اور سوشل میڈیا میں ان کے اور اس حادثے کے بارے میں جو طرح طرح کے ’’انکشافات‘‘ سامنے آئے ہیں ان پر صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے کہ ایسی غیرذمے داری اور افواہ پردازی افسوس ناک بھی ہے اور لمحہ فکریہ بھی۔ نعیم بخاری کو میں اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ صرف ڈاکٹر الطاف بخاری کے بڑے بیٹے سلیم الطاف کی طرح کرکٹ کا ایک ابھرتا ہوا کھلاڑی اور قانون کا طالب علم تھا۔ وہ ایک پکا لاہوریا‘ یاروں کا یار اور ایک غیرمعمولی طور پر ذہین اور ہر دلعزیز شخصیت ہے۔
اشتہارات



ہر آدمی کی طرح اس کی بھی ایک ذاتی زندگی اور وابستگیاں ہیں جو اس کا حق ہیں اور جس کی بنیاد پر اس کی ذات کو ہدف تنقید بنانا ایک انتہائی غلط اور غیرمہذب رویہ ہے۔ اس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا فیصلہ بھی ہمارا کام نہیں‘ البتہ اس کی حس مزاح‘ برجستگی‘ زندگی سے کشید کی ہوئی دانش اور خوب صورت اور دوستانہ مسکراہٹ ایسی چیزیں ہیں کہ جن کے حامل انسان کم کم ملتے ہیں۔ اور یہ وہ نعیم بخاری ہے جس سے محبت اور جس کا احترام ان سب لوگوں پر واجب ہے جن کو اس سے ملنے کا موقع ملا ہے۔ رب کریم اسے صحت کاملہ عاجلہ عطا فرمائے کہ اس معاشرے میں ہمیں ایسے زندہ دل اور ہمہ جہت انسانوں کی بے حد ضرورت ہے۔

لیجیے بات چلی تھی سندھ اور بلوچستان کے ذکر سے کہ فی زمانہ ان دونوں صوبوں کے نام پر سب سے زیادہ سیاست کی جا رہی ہے جو بقول ایک انگریزی محاورے کے کالم کی حد تک میرا چائے کا کپ بنی ہے مگر ہوا یوں کہ جب میں ایک مشاعرے کی دعوت پر کراچی پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس کے منتظمین بھائی مصطفے کمال اور ان کے احباب کی قائم کردہ پاک سرزمین پارٹی کے ادبی ونگ سے ہے جو بزم ثقافت کے نام سے قائم کیا گیا ہے‘ اس پر یاد آیا کہ پرانی ایم کیو ایم نے بھی ’’گہوارہ ادب‘‘کے نام سے ایسی ہی ایک تنظیم بنا رکھی تھی جس کے چند برس قبل کراچی ہی میں منعقدہ ایک ایسے مشاعرے میں مجھے شرکت کا موقع ملا تھا جس میں تقریباً پانچ گھنٹے تک الطاف حسین ٹیلی فون لائن پر شامل اور موجود رہے تھے۔

پی ایس پی کے اس مشاعرے میں پارٹی قیادت بھرپور طریقے سے موجود تھی۔ مصطفے کمال‘ انیس قائم خانی اور رضا کاروں سمیت بہت سے احباب سے ملاقات رہی۔ گورنر سندھ زبیر عمر صاحب بھی کچھ دیر کے لیے آئے اور حسب معمول بہت محبت سے ملے اور مختصر مگر مزے کی باتیں کیں۔ واپسی پر کسی نے بتایا کہ یہ مشاعرہ گاہ وہی نشتر پارک تھا جہاں کچھ عرصہ قبل تخریب کاری کی ایک بہت بڑی واردات ہوئی تھی۔ اس مقام پر سامعین کی اتنی بڑی تعداد کا جمع ہو جانا پارٹی کی مقبولیت کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی ترجمان تھا کہ اب کراچی کی رونقیں بہت حد تک واپس آ چکی ہیں۔

Buitemsدراصل Bolochistan University Information, Techology,Engineering & Management Secinces کا مختصر کردہ نام ہے جو 2002ء میں قائم ہوئی لیکن16برس کے اندر اندر اس نے ہر اعتبار سے جو ترقی کی ہے وہ بلاشبہ لائق تحسین ہے۔ اس شورس زدگی‘ تخریب کاری‘ جہالت اور لسانی اور نسلی فسادات کی فضا میں اس نوع کے کسی تعلیمی ادارے کا قیام ہی اپنا جگہ پر ایک مسئلہ تھا لیکن یہاں کی عمارتیں‘ ماحول‘ طالبات کی تعداد اور طلبہ کی تعلیم اور شعر و ادب کے ساتھ دلچسپی دیکھ کر اپنی آنکھوں پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

وائس چانسلر احمد فاروق بازئی اور ان کے رفقا نے جس محنت‘ محبت اور معیار کے ساتھ اس یونیورسٹی کی تعمیر‘ تشکیل اور حفاظت کی ہے وہ بلاشبہ لائق تحسین ہے کہ یہاں سو سے زیادہ استاد پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حامل ہیں اور کم و بیش اتنے ہی دنیا بھر کی اعلیٰ یونیورسٹیوں سے یہ ڈگری لے کر واپس آنے والے ہیں۔ اس بار انھوں نے کتاب میلے کے ساتھ ساتھ ایک لٹریچر فیسٹیول کا بھی اہتمام کیا تھا جس میں مشاعرے کے علاوہ بہت سے عمدہ اجلاس بھی شامل تھے جو یقیناً ایک نئے پرسکون‘ مبنی بر انصاف اور ہر طرح کے تعصب سے پاک محبت کرنے والے بلوچستان کے پیغام بر ہیں جس سے ہم سب محبت کرتے ہیں۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں