متوازن خوراک


ظیرؔ اکبر آبادی کی مشہور نظم ’’روٹی نامہ کا ایک بند کچھ اس طرح سے ہے:

پوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سے

یہ مہرو ماہ، حق نے بنائے ہیں، کاہے کے!
وہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دے

ہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتے

بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں

بھوک، خوراک اور اخلاقیات کے موضوعات اور ان کے باہمی تعلق پر دنیا بھر کے ادب میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ اب دیکھا جائے تو اخلاقیات کے عنصر سے قطع نظر بھوک اور خوراک دو ایسے عناصر ہیں جو انسانوں سمیت تمام جاندار مخلوقات میں مشترک ہیں کہ کسی بھی جاندار مخلوق کی بقا کا سب سے پہلا اور گہرا تعلق اس خوراک سے ہے جو اس کے وجود کو نہ صرف قائم رکھتی ہے بلکہ اس کی جسمانی استعداد اور نشوونما کا بھی اس سے لازم و ملزوم کا سا تعلق ہے۔

اچھی، متوازن، بروقت اور میسر خوراک کی فراہمی ہوا اور پانی کے بعد شاید کرہ ارض پر زندگی کے ظہور، قیام اور فروغ کے لیے باقی ہر چیز سے زیادہ اہم اور ناگزیر ہیں۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے 34 برس قبل جب میں پہلی بار کینیڈا گیا تھا تو ہمیں ونی پیگ نامی ایک شہر میں بھی لے جایا گیا تھا جو ٹورانٹو اور وینکوور کے تقریباً درمیان میں واقع ہے کہ ہر دو شہروں سے اس کا فاصلہ دو ہزار کلو میٹر کے لگ بھگ ہے۔

ہمیں بتایا گیا کہ اس وسیع برفستان میں جہاں درجہ حرارت عموماً پندرہ منفی سے اوپر ہی رہتا ہے ہزاروں برس قبل بھی لوگ آباد اور زندگی موجود تھی جب کہ دور دور تک سوائے برف کی ایک سفید چادر کے کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ شہر اس قدیم ترین تجارتی گزرگاہ پر واقع ہے جو اس زمانے میں کینیڈا کو ان انسانی آبادیوں سے ملاتی تھی جہاں سورج چمکتا، دریا بہتے، اناج اگتا اور پھول کھلتے تھے۔

یہ اسکیمو لوگ برف کے گھروں میں کیسے رہتے، کیا پہنتے اور کیا کھاتے پیتے تھے اور ان کے جسم کسی مصنوعی حرارت کے ذریعے کے بغیر کیسے بڑھتے اور محفوظ رہتے تھے کہ وہاں تو دور دور تک برفوں کی وجہ سے کسی قسم کی روئیدگی کا نام و نشان ہی نہیں تھا۔

مشاہدے اور مطالعے کے بعد کچھ سوالوں کے آدھے پونے جواب تو مل گئے مگر یہ بات پھر بھی سمجھ میں نہ آسکی کہ اس فضا اور ماحول میں نومولود بچے کیسے زندہ اور محفوظ رہتے تھے کہ وہاں متوازن تو کیا سرے سے ان کے استعمال کے قابل کوئی خوراک ہی موجود نہیں تھی۔

بعدازاں مختلف النوع موسمی شدائد کے ساتھ ساتھ خوراک کی شدید قلت اور کمیابی کے باوجود بہت سی انسانی آبادیوں میں نسل انسانی کی بقا اور فروغ کے عجیب و غریب اور ناقابل یقین مظاہر دیکھے تو سمجھ میں آیا کہ انسان کا بچہ سخت جانی اور اپنی خوراک کی گو ناگونی کے حوالے سے شاید کسی بھی جاندار مخلوق کے بچے سے زیادہ سخت جان اور باہمت ہے کہ آج خوراک کی اتنی افراط، ترسیل کے ذرائع اور معاشرتی ترقی کے باوجود 50% سے زیادہ بچے ان علاقوں اور ماحول میں جنم لیتے ہیں جو غربت کی عالمی تسلیم شدہ سطح سے نہ صرف نیچے ہیں بلکہ ان کی آبادی کی شرح نمو بھی باقی کی ترقی یافتہ دنیا سے کہیں زیادہ ہے۔
اشتہارات



یہ بچے خوراک کی کمی اور متوازن خوراک کی کمیابی کی وجہ سے طرح طرح کے مسائل کے شکار ہیں۔ ان کی جسمانی نشوونما اور قد کی افزائش فطری معمول سے کم اور بیماریوں کی روک تھام سے متعلق حفاظتی اقدامات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے بالخصوص ماؤں کا دودھ پینے کی عمر کا دورانیہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے کہ بیشتر مائیں بوجوہ بچوں کو اپنا دودھ نہیں پلاتیں اور بازار یا ڈبے کا دودھ غیر صحت مند اور مہنگا ہونے کے باعث ان کو صحیح مقدار اور مناسب معیار کے ساتھ مہیا نہیں ہوپاتا جب کہ دو سے پانچ سال کی عمر کا عرصہ جو بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے حوالے سے بے حد اہمیت کا حامل ہے ، متوازن اور صحت بخش غذا کا شعور اور فراہمی کے وسائل اور ذرائع اس عرصے کے دوران اور زیادہ محدود ہوجاتے ہیں۔

’’WHO یعنی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق Convention on the Rights of the Child کے تحت اچھی غذائیت پر ہر بچے کا حق ہے لہٰذا مقوی خوراک بروقت دی جانے کا مطلب یہ ہے کہ تمام بچوں کو چھ ماہ کے اندر دودھ کی اشیاء کے علاوہ کھانے کی دیگر اشیاء کھلانی شروع کردینی چاہئیں بعدازاں اس کی تعداد میں اضافہ کرتے رہنا چاہیے بچے کی غذائیت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے غذا میں micronutrients مائیکرونیوٹرنٹ اور مختلف اقسام کی غذا کا استعمال کرنا چاہیے۔ بہت سے ممالک میں مقوی خوراک کم قیمت میں دستیاب ہیں اور سادہ سی حکمت عملی کے تحت لوگوں کی وسیع تعداد تک پہنچائی جاتی ہیں۔ اس مقوی خوراک نے بچوں میں مائیکرو نیوٹرینٹ (Micronutrient) کی کمی کی شدت کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستانی بچوں میں اور چھوٹے بچوں میں مائیکرو نیوٹرینٹ کی شدید کمی ہے اس ضمن میں حکومت اور نجی شعبے کی جانب سے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے اور بچوں کو قابل خرید قیمت پر خوراک کی دستیابی کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ماؤں کو بھی اپنے بچوں کی روزمرہ غذا میں حقیقی مصنوعات ملنے کی اہمیت سے آگاہ ہونا چاہیے۔‘‘

اب عملی صورتحال یہ ہے کہ اس طرح کی رپورٹوں میں مسئلے اور اس کے ممکنہ حل کی نشاندہی تو کردی جاتی ہے مگر جن لوگوں کے ہاتھ میں اس کو عملی شکل دینے کی طاقت ہوتی ہے ان کی آگاہی، تربیت یا احساس ذمے داری کی بیداری کے ضمن میں جو ضروریات ہیں ان کی طرف یہ لوگ صرف اس حد تک توجہ دیتے ہیں کہ غریب اور پسماندہ ملکوں کے امیر اور طاقتور لوگوں کے بچوں تک مغرب میں تیار کردہ مہنگی متوازن خوراک کی فروخت کے راستے کھلے رہیں باقی خلق خدا کے لیے ان کا مشورہ ہی کافی ہے۔ چلیے یوں ہی سہی، آئیے اس صائب مشورے کا اطلاق اپنے بچوں پر کرنے کے لیے مل کر عملی راستے تلاش کریں تاکہ اس شعر کو مستقبل کے بجائے ماضی کا حصہ بنایا جاسکے کہ

خدا کا رزق تو ہرگز زمیں پر کم نہیں یارو
مگر یہ کاٹنے والے! مگر یہ بانٹنے والے!

کمی متوازن خوراک کی نہیں متوازن اور انصاف پر مبنی انسان دوست سوچ کی ہے، آئیے اس کی آبیاری کریں باقی کام آپ سے آپ ٹھیک ہوتے چلے جائیں گے۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں