آؤ کشمیر چلیں


آزاد کشمیر کے علاقوں راولا کوٹ اور میر پور میں تو مختلف حوالوں سے آنا جانا رہتا ہے لیکن اس کے صدر مقام یعنی مظفر آباد میں گئے ہوئے ایک مدت ہو چلی تھی۔

ایسے ہی جب عزیزی احمد عطااللہ نے (جو ہمارے مرتضیٰ برلاس صاحب کی طرح شاعروں میں افسر اور افسروں میں شاعر ہونے کے عمل سے دوچار ہیں) بتایا کہ وہ موسم بہار کے حوالے سے ایک نیم سرکاری قسم کی سرپرستی میں ایک ایسے مشاعرے کا اہتمام کررہے ہیں جو گزشتہ چند برسوں میں جدا ہونیوالی آزاد کشمیر کی دو بڑی ادبی شخصیتوں ڈاکٹر افتخار مغل اور ڈاکٹر صابر آفاقی کے نام کیا جا ئے گا اور جسکی مجھے صدارت بھی کرنی ہے تو مصروفیات کے باوجود وعدہ کرنا پڑا۔

طے پایا کہ رات اسلام آباد رک کر باقی سفر اگلے یعنی مشاعرے کے روز کیا جائے تین گھنٹے کی اس مسافت میں (اسلام آباد تا مظفر آباد) برادرم محبوب ظفر بھی ساتھ تھے، سو سفر کا لطف سہ آتشہ ہوگیا۔
اسلام آباد سے مری تک ایکسپریس وے والی سڑک بہت اچھی تھی، کوہالہ سے آگے مظفر آباد تک بھی معاملہ ٹھیک ٹھاک تھا مگر درمیانی ایک ڈیڑھ گھنٹے کا سفر رستوں کے پیچ و خم اور ٹریفک کی بے ترتیبی کے باعث اردگرد کے مناظر کی بے پناہ خوبصورتی کے باوجود بہت تھکانے اور جھنجھلانے والا تھا کہ نوے فیصد ڈرائیوروں کی مشترک خوبی ان کی ناتجربہ کاری اور ہٹ دھرمی تھی کہ نہ وہ خود ڈھنگ سے گاڑی چلاتے تھے اور نہ دوسروں کو اس کا موقع دے رہے تھے۔

مجھے یقین ہے کہ اگر راستوں کو محفوظ، آرام دہ اور درمیان میں رک کر فریش ہونے کے لیے اچھی اور صاف ستھری جگہیں بنادی جائیں تو پاکستانی بجٹ کا بیشتر خسارہ صرف ٹورازم سے پورا کیا جا سکتا ہے۔ مشاعرہ مقامی پوسٹ گریجوایٹ کالج کے ہال میں تھا جب کہ بیشتر سامعین داد دینے کے اعتبار سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریوں کے حقدار تھے کہ ایسا بھر پور گرمجوش اور بقول شوکت فہمی منہ زور مشاعرہ کم ہی دیکھا تھا لیکن اچھی بات یہ تھی کہ لڑکوں نے بے ساختہ اور انتہائی پرجوش اور شور انگیز داد دینے کے دوران بھی ہال میں موجود خواتین کے تقدس کا خیال رکھا اور کوئی ایک جملہ بھی ایسا سننے میں نہیں آیا جو طبیعت یا کانوں کو ناگوار گزرے، آغاز میں چند مقامی شعرا نے اپنا کلام سنایا اور تقریباً ہر شاعر نے کوئی نہ کوئی یاد رہ جانیوالا شعر سنایا جو ایک بہت خوش کن اور حوصلہ افزا بات تھی کہ شعر و ادب اور کتاب کے اس زوال کے دور میں بھی ہماری نئی نسل نہ صرف خود امید کا چراغ جلائے ہوئے ہے بلکہ اس عدو شعری روایت کو بھی محنت اور خوش اسلوبی سے آگے بڑھا رہی ہے جس کا ایک اہم مظہر مشاعروں کی یہی محفلیں ہوتی ہیں۔

مقامی سینئر شعرا میں سے ایاز عباسی کی غزلوں اور یامین صاحب کی نظموں نے بہت رنگ جمایا جب کہ وہاں پر سرکاری طور پر متعین سول سرونٹ شاعر عزیزی احمد عطا اللہ نے اپنی شاعری کے بارے میں اس خوش رنگ تاثر کو مزید مضبوط کیا جس کی ابتدائی جھلکیاں ہم نے اس کی طالبعلمی کے دنوں میں دیکھی تھیں۔ جس محبت، توجہ اور سلیقے سے اس نے مہمانوں کی آمدورفت، رہائش اور خاطر داری کا اہتمام اپنی ذاتی نگرانی میں کیا وہ بلاشبہ لائق تحسین و تقلید ہے کہ سرکاری افسری کا سریا اکثر بہت اچھی گردنوں کو بھی ٹیڑھا اور بدوضع کر دیتا ہے۔

کالج ہذا کے شعبہ اردو کے سربراہ ڈاکٹر اعجاز نعمانی نے نہ صرف بہت مہارت اور خوش اسلوبی سے اس پرشور مشاعرے کو آخر تک قابو میں رکھا بلکہ اگلے روز تمام مہمانوں کے لیے اپنے گھر پر ایک ایسے پر لطف اور بھرپور ناشتے کا بھی اہتمام کیا جس کے ایک ایک رنگ سے ان کا خلوص اور محبت چھلک رہے تھے۔ واپسی کے سفر میں محبوب ظفر اسلام آباد تک اور برادرم عباس تابش لاہور تک ہم سفر رہے۔

عزیزی مستقیم نوشاہی اس مشاعرے کا سب سے لمبا سفر کرکے آنے والا شاعر تھا کہ وہ لیاقت پور سے رحیم یار خان، وہاں سے اسلام آباد اور بعدازاں مظفر آباد تک تقریباً چودہ گھنٹے کا مسلسل سفر کرکے یہاں پہنچا تھا۔ عزیزہ آمنہ بہار سے مشاعرے اور ناشتے دونوں جگہ ملاقات رہی۔ بیس برس قبل وہ اپنے والد کا ہاتھ پکڑ کر چلنے والی ایک شرمیلی سی لڑکی اور ابھرتی ہوئی شاعرہ تھی۔ لیکن اس مشاعرے کی سب سے زیادہ یاد رہ جانے والی بات ڈاکٹر افتخار مغل مرحوم کا شعری مجموعہ ’’انکشاف‘‘ ہے جس کی ایک کاپی اس کے بچے میرے لیے لے کر آئے تھے اور جو گزشتہ دو دنوں سے مسلسل میرے زیر مطالبہ ہے۔

اس کے بہت اچھا شاعر ہونے کا اندازہ تو مجھے پہلے بھی تھا مگر اس کتاب کے مطالعے سے اس کے کمال فن کی جو تصویر بنتی ہے وہ ایسی ہے کہ اس کی جواں مرگی کا دکھ نہ صرف تازہ ہوا ہے بلکہ یہ احساس بھی بہت شدت اختیار کرگیا ہے کہ ادبی دنیا نے اس بہت تازہ فکر اور خوش گو شاعر کی وہ پذیرائی نہیں کی جس کا وہ صحیح معنوں میں حق دار تھا۔ اس بات کی تفصیل میں جائے بغیر میں اس کتاب سے لیے ہوئے چند جستہ جستہ اشعار درج کررہا ہوں کہ ان پر بھی فرازؔ کے اس مشہور مصرعے کا عکس روشن ہے کہ ’’آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے‘‘

یہ دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی

کہ میں نے ہاتھ بھی پھیلا دیا، مرا بھی نہیں

ہمیں تباہ تو ہونا تھا اپنی اپنی جگہ

طویل جنگ تھی اور جنگ بھی انا کی تھی

بے محبت بھی جی تو لوں لیکن

ایسے جینے کا فائدہ کیا ہے!

خون کی گونگی گواہی سے بچو، یہ مٹ کے بھی

وقت کے محضر پہ اپنی بے کسی لکھ جائے گا

اس قدر سہم گئے دیکھ کے مقتل کو جو تم

تم نے شاید مرا کشمیر نہیں دیکھا ہے

یہ آگ پہنچ جائے گی خود ان کے گھروں تک

وہ لوگ، جلاتے ہیں جو گھر، روز کسی کا

ہوا چلی تو دریچے سے آ کے خوشبو نے

کوئی چراغ سا جیسے جلا دیا مجھ میں

گزر گہوں کو اجڑنے نہیں دیا تو نے

کبھی یہاں سے گزرتی تھی تو، اور اب تری یاد

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں