اب نہیں تو کب!


ابھی ابھی مشہور باڈی بلڈر، فلم اسٹار اور لاس اینجلس کے سابق گورنر آرنلڈ شوازنگر کی ایک ویڈیو دیکھنے کا موقع ملا جس میں اس نے زندگی میں کامیابی کے پانچ ایسے گر بتائے ہیں جو خود اس کے زیر استعمال رہے ہیں۔

ذہن فوراً 34 برس پیچھے کے ایک واقعے کی طرف منتقل ہوگیا جب ہالی وڈ کے یونیورسل اسٹوڈیوز میں ہم (میں، جمیل الدین عالی مرحوم اور پروین شاکر مرحومہ) چند برس قبل بننے والی ایک فلم کونان دی بار بیرین کے محفوظ کردہ سیٹ پر کھڑے تھے جسکے ہیرو آرنلڈ شوازنگر کی ایک حالیہ فلم ٹرمینیٹرII چند روز قبل ہم ایک سینما گھر میں بھی دیکھ چکے تھے جو ایک سائنس فکشن تھی اور جس میں اس نے کسی دوسرے سیارے سے آئی ہوئی ایک ایسی مخلوق کا کردار ادا کیا تھا جو اپنی کمپیوٹرائزڈ غیر معمولی قوت کی وجہ سے ناقابل فنا اور ناقابل یقین تخریبی قوتوں کی مالک تھی۔

آرنلڈ شوازنگر کے اس کردار کے لیے انتخاب کی ایک وجہ غالباً اس کی جسمانی ساخت اور غیر معمولی بڑے اور توانا مسلز بھی تھے کہ وہ ایک سے زیادہ بار مسٹر یونیورس بھی رہ چکا تھا اور اس کے جسمانی ڈیل ڈول کا دیکھنے والوں پر ایک غیر معمولی تاثر قائم ہوتا تھا کہ اس کی کمپیوٹرائزڈ صلاحیتوں سے ’’قطع نظر‘‘ عام حالات میں بھی ایسی طاقت کے حامل شخص کا مقابلہ ممکن نہیں تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ کونان دی باربرین کے قدیم تاریخی کردار کے لیے اس کے انتخاب کی وجہ بھی اس کی یہی غیر معمولی جسمانی ساخت اور طاقت تھی کہ وہ دیکھنے میں ہی باقیوں سے بہت زیادہ طاقتور نظر آتا تھا۔
یعنی ماضی کے وحشیانہ دور کی تاریخ اور مستقبل کے تصوراتی سائنس بنیاد معاشرے، دونوں میں جسمانی اور نظر آنے والی طاقت کا سہارا لیا گیا تھا کہ اس کا تعلق فطرت انسانی سے بہت گہرا ہے۔ ان دو فلموں کے علاوہ ہم میں سے کسی کو بھی آرنلڈ شوازنگر کے بارے میں کچھ زیادہ علم نہیں تھا کہ وہ کون ہے؟ کہاں کا ہے؟ فلموں میں کیسے آیا؟ اور اس کی دیگر مشہور فلمیں کون کون سی ہیں؟

بعد کے برسوں میں مختلف حوالوں سے اس کے آسٹرین نژاد ہونے، باڈی بلڈنگ میں نام کمانے اور پھر سیاست میں آکر LA کے گورنر بننے کا پتہ تو چلتا رہا مگر اس کی ذاتی زندگی، ذہنی رجحانات اور نظریات کے بارے میں معاملہ ہنوز روز اول جیسا ہی تھا کہ اس کے نام کے ساتھ فوراً ایک غیرمعمولی مسل پاور والے انسان کا تصور ذہن میں ابھر آتا تھا اور بس۔

What is the Secret to Success نامی اس مختصر ویڈیو میں آرنلڈ شوازنگر نے اپنی کامیابی کے پانچ بنیادی اصولوں یا گُروں سے دنیا کو آگاہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں تباہ شدہ آسٹریا میں پیدا ہونے والے ایک بچے نے کس طرح اپنے لیے ترقی کے راستوں کا انتخاب کیا اور کس قدر شدید اور مسلسل محنت کے بعد اس شہرت اور ناموری کو حاصل کیا جو آج اس کے نام کے ساتھ نتھی ہے لیکن اس سارے معاملے میں اصل اور قابل تقلید بات وہ سبق ہیں جو آرنلڈ شوارنگر نے خود سیکھے اور اس مختصر گفتگو میں بعد میں آنیوالوں سے شیئر کیے ہیں کہ کسی بھی میدان میں کامیابی فطری یعنی وہبی صلاحیت صحیح اور بروقت فیصلوں اور مسلسل محنت اور مضبوط ارادے کے بغیر ممکن نہیں اور یہ کہ؎

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

اور اسی بات کو ایک مختلف شاعرانہ پیرائے میں یوں بھی کہا گیا ہے کہ

خشک سیروں تن شاعر کا لہو ہوتا ہے

تب نظر آتی ہے ایک مصرعہ تر کی صورت

آرنلڈ شوازنگر کے طے اور اختیار کردہ پانچ اصول یہ ہیں کہ

(1 وژن قائم کرو اور اس کے پیچھے لگ جاؤ۔

(2 ہمیشہ بڑا اور آگے کا سوچو۔

(3 اپنی محنت اور صلاحیت پر بھروسہ کرو۔

(4 مسلسل اور غیر معمولی محنت سے ہی غیر معمولی نتائج پیدا ہوتے ہیں۔

(5 زندگی سے صرف لینا ہی نہیں واپس کرنا بھی سیکھو۔
اشتہارات



وہ بتاتا ہے کہ کس طرح دوسری جنگ عظیم سے تباہ شدہ آسٹریا کے ایک اسکول میں پڑھنے کے دوران ان دنوں ترقی کا راستہ صرف امریکا کو ہجرت نظر آتا تھا لیکن اس کے لیے وسائل کسی کے پاس نہیں تھے۔ اس دوران میں اس کی نظر ایک باڈی بلڈنگ رسالے پر پڑی جس میں اس نے برطانوی باڈی بلڈر رج پارک کے بارے میں جانا کہ کس طرح روزانہ پانچ گھنٹے بلاناغہ محنت اور مسلسل کوشش سے وہ پہلے مسٹر برطانیہ پھر مسٹر یونیورس اور پھر ہرکولس کے کردار پر مبنی فلموں کا ہیرو بنا۔

یہ اس کے اس وژن کا آغاز تھا کہ اسے بھی ایک باڈی بلڈر اور ایکٹر بننا ہے اور بقول اس کے جب آپ کا وژن واضح ہوجائے تو باقی سب کچھ خود بخود ہونے لگ جاتا ہے۔ دوسری بات جو اس نے سیکھی وہ یہ تھی کہ ہمیشہ بڑا سوچنا چاہیے اور اس کے حصول کے لیے جی جان سے محنت کرنی چاہیے۔

اس نے جان وین کی طرح بڑا مشہور اور مالدار ایکٹر بننے کا سوچا، سب نے اس کے جسم کی ساخت اور جرمن/ آسٹرین لہجے کا مذاق اڑاتے ہوئے اسے بتایا کہ یہ اس کے لیے ممکن نہیں ہو گا مگر اس نے جسمانی محنت اور مشقت کے ساتھ ساتھ کالج کی پڑھائی اور رات کو ایکٹنگ کی تربیت کی کلاسیں بیک وقت جاری رکھیں اور بالآخر چھوٹے چھوٹے رولز سے ہوتا ہوا کونان دی باربیرین تک پہنچا جس کے بعد رستے کھلتے چلے گئے اور وہی جرمن لہجہ جو اس کے رستے کی رکاوٹ تھا اس کا سب سے اہم اور مؤثر تعارف اور ہتھیار بن گیا۔

مسلسل محنت اور اپنے اوپر یقین کے اس رویے نے ٹرمینیٹر کے ذریعے اسے ایک لافانی اور عالمی پہچان عطا کی اور بقول عظیم ہدایت کار جیمز کیمرون اس کا وہی غیر مانوس اور مشینی آسٹرین لہجہ اس کا محرک بنا کہ اس کردار کے لیے جس مشینی لہجے کی ضرورت تھی وہ اسی سے پوری ہوئی۔

مسلسل محنت، صلاحیت اور بدلتے حالات نے اس کے وہ سارے خواب پورے کردیئے جنھیں لے کر وہ گھر سے نکلا تھا لیکن یہاں وہ آخری اصول سامنے آیا جو ساری بات کا حاصل اور لب لباب ہے کہ Don’t Just Take, Give Back صرف لینا ہی نہیں واپس کرنا بھی سیکھو۔ وہ اب یہی کچھ کر رہا ہے اور اس ضمن میں اس کا یہ جملہ سنہرے حرفوں سے لکھے جانے کے قابل ہے کہ ’’اب نہیں تو کب اور ہم نہیں تو کون؟‘‘

آرنلڈ شوازنگر ایک غیر معمولی اور سیلف میڈ انسان ہے اور اس کے یہ بیان کردہ اصول چونکہ خود اس کی اپنی زندگی سے کشید کردہ ہیں اس لیے ان کی صداقت بھی شک و شبے سے بالاتر ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو نہ صرف ان باتوں سے آگاہ کریں بلکہ خود بھی ان سے سیکھنے کی کوشش کریں کہ عملی مثال سے بہتر کوئی مثال نہیں ہوتی۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں