کتابوں کے میلے میں


کتابوں کے میلوں یعنی بک فیسٹیویلز کا رواج ہمارے علاقوں کی حد تک کوئی زیادہ پرانا نہیں لیکن کتاب کے حوالے سے یہ واحد چیز ہے جس میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے کہ عمومی سطح پر یہ تصور عام ہے کہ لائبریریاں ہوں یا کتاب خریدنے اور پڑھنے کی عادت۔ ہر طرف ایک زوال اور انتشار کا سا منظر ہے بالخصوص گزشتہ دو دہائیوں میں جب سے ساری دنیا سمٹ کر موبائل فون کی ایک کلک پر آن ٹھہری ہے۔

کتاب کی وہ صورت جس سے ہم اور ہماری کئی گزشتہ نسلیں مانوس تھیں اور جس کا آغاز پرنٹنگ پریس کی ایجاد کے ساتھ اور اس کے باعث ہوا تھا آیندہ چند برسوں میں شاید ایک ماضی کی یاد گار بن کر رہ جائے کہ اب کتاب کا متن ہو یا اس کی جلد‘ سرورق اور اندرونی صفحات یا اس کو رکھنے کے لیے میز‘ دراز اور لائبریری کی الماریوں کے شیلف‘ مستقبل کے پڑھنے والوں کو ان سب چیزوں کی ضرورت ہی نہیں رہے گی کہ مطلوبہ کتاب اور اس سے منسلک ہر طرح کی معلومات نہ صرف ہمہ وقت آپ کی دسترس میں رہتی ہیں بلکہ آپ اس کا جو حصہ ’باب‘ صفحہ یا ریفرنس ڈھونڈنا چاہیں اس کے لیے بھی صرف آپ کی انگلی کی حرکت ہی کافی ہے اور اگر آپ اپنی آنکھوں کو تھکائے بغیر اس سے استفادہ کرنا چاہیں تو بہت عمدہ طرز ادا کے حامل خدمت گار بھی اسی ایک پل میں مہیا کیے جا سکتے ہیں اور یہ سب ابھی ابتدا ہے، آگے چل کر کتاب‘ قاری اور مطالعے کی یہ تکون کیا شکل اختیار کر سکتی ہے اس کا شاید اس وقت ہم ٹھیک سے اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔

اس تبدیلی کا بظاہر سب سے زیادہ اثر سوشل سائنسز یعنی عمرانیات اور شعر و ادب سے متعلق کتابوں کی اشاعت اور تعداد فروخت پر پڑا ہے (جس کی ایک وجہ کتابوں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی بتائی جاتی ہیں جو اس لیے بہت کمزور ہے کہ قیمتیں ایمان اور انسانیت کے علاوہ ہر چیز کی بڑھ رہی ہیں) کتابوں کی دکانیں تیزی سے کم ہو رہی ہیں یا یہ گفٹ شاپس کا حصہ بنتی جا رہی ہیں کہ اب صرف کتابوں کی فروخت سے متعلقہ دکانداروں کا گزارہ نہیں ہوتا کسی حد تک یہ عمل ترقی یافتہ ممالک اور وہاں کی بک انڈسٹری اور بک شاپس پر بھی ہوا ہے کہ وہاں بھی کئی اشاعتی ادارے بند اور کتابوں کی دکانوں کی مشہور Chains اور سلسلے کاروباری مندے کے شکار ہیں لیکن غور سے دیکھا جائے تو ان سب معاملات کا تعلق کتاب کی روایتی ہیئت اور مطالعے کے ایک مخصوص انداز اور طریق کار کی تبدیلی سے ہی جا کر ملتا ہے یعنی بدلی ہوئی شکلوں سے قطع نظر اب بھی کتابیں تقریباً پہلے ہی کی طرح لکھی‘ پڑھی‘ بیچی اور خریدی جا رہی ہیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق سائنس ٹیکنالوجی علوم اور تدریس سے متعلق کتب اب بھی بہت حد تک اپنی پرانی شکل کو قائم رکھے ہوئے ہیں کہ ان کا براہ راست تعلق مستقبل کے ان معاشی فوائد سے ہے جن کی تحصیل کے لیے ان سے رابطہ ضروری ہے جب کہ تاریخ‘ سوشل سائنسز یا شعر و ادب سے متعلق کتابوں کا تعلق چونکہ ذوق اور شخصیت کی اندرونی تربیت سے ہونے کی وجہ سے نسبتاً اور بظاہر کم منافع بخش ہے اس لیے یہ ترجیحات میں نیچے کے نمبروں پر چلی گئی ہیں، البتہ ہمارے ملک میں روحانیات اور مذہبی عقائد اور مسالک سے متعلق کتابوں پر اس تبدیلی کا اثر غالباً اس لیے کم پڑا ہے کہ ان کے ساتھ ’’آخرت کے فوائد‘‘ اپنے اپنے انداز میں جڑے ہوئے ہیں۔
اشتہارات



6سے 9 اپریل تک اسلام آباد میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کے زیراہتمام منعقد کیے جانے والے نویں کتاب میلے میں اور بہت سی باتوں کے ساتھ اس صورت حال پر بھی رسمی اور غیررسمی دونوں حوالوں سے بہت گفتگو رہی، چاروں طرف کتابوں کے اسٹالز‘ ان کی خریدوفروخت‘ موضوعات کی ورائٹی اور بہت بڑے ہجوم اور شائقین کتب کی دلچسپی کو دیکھ کر سچی بات ہے نہ صرف بہت خوشی ہوئی بلکہ یہ احساس بھی مزید گہرا ہوا کہ اور بہت سے معاملات کی طرح یہاں بھی ہم سب نے مل کر بہت جلد اور بغیر لڑے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ اگر واقعی روایتی کتاب کا زمانہ لد گیا ہے تو اس بڑے میلے سمیت ملک بھر میں یونیورسٹیوں اور دیگر اداروں کے زیراہتمام لگائے جانے والے یہ بے شمار میلے کس طرح سے نہ صرف قائم ہیں بلکہ ایک روایت اور تحریک کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں اور ٹیکنالوجی کی ہم سے کئی گنا زیادہ ترقی کے باوجود دنیا بھر میں ان کو کیوں اور کیسے فروغ مل رہا ہے۔

جہانگیر بکس کے عزیزی نواز اور سنگ میل پبلی کیشنز کے برادرم افضال احمد جب بھی کسی عالمی کتاب میلے میں شرکت کے بعد آتے ہیں، یہی بتاتے ہیں کہ وہاں کتاب کی صنعت‘ ضرورت اور اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ کہ کتاب کا سب سے پہلا اور بنیادی تعلق شرح خواندگی اور اس کے بعد نظام تعلیم اور انسان کے معاشرتی حقوق سے ہے، جہاں جہاں ان کی صورت حال بہتر ہو گی وہاں کتاب اور مطالعے کی عادت کو فروغ ہو گا کہ کولڈ پرنٹ میں اور کاغذ پر چھپی ہوئی کتاب کی جگہ اگر کسی حد تک کمپیوٹر اور جدید ٹیکنالوجی لے بھی لے تب بھی اس کی موجودہ حیثیت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا کہ اصل مسئلہ قاری کی دلچسپی‘ ذوق و شوق اور رابطہ ہے۔ یہ تینوں چیزیں اگر قائم اور برقرار رہیں گی تو ’’کل اور کسی روپ میں آ جائیں گے ہم لوگ‘‘ کے مصداق کتاب بھی زندہ اور موجود رہے گی۔

اس بہت عمدگی اور سلیقے سے ترتیب دیے گئے کتاب میلے میں کتاب سے متعلق متعدد نشستوں اور تقریبات میں شرکت کے ساتھ ساتھ کئی اشاعتی اداروں کے اسٹالز اور ان میں رکھی ہوئی طرح طرح کی خوب صورت اور خیال افروز کتابوں کو دیکھنے کا موقع ملا۔ بک کارنر جہلم کے برادران امر اور گگن شاہد سمیت بہت سے احباب نے اتنی کتابیں تحفے میں دیں کہ اٹھانا مشکل ہو گیا۔ برادرم عرفان صدیقی کی سرپرستی میں ڈاکٹر انعام الحق جاوید اور ان کی ٹیم نے چار دن کے لیے اس میلے کو شہر کے سب سے توجہ طلب اور مثبت اثرات کے حامل واقعے کی شکل دے دی جس کے لیے یہ سب اور کتاب سے محبت اور تعلق رکھنے والے وہ سب لوگ بھی مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے کسی بھی طرح سے اس میں حصہ لیا کہ کتاب کلچر کا فروغ اور مطالعے کی عادت وہ سدا بہار پھول ہیں جو ہر موسم کو موسم بہار اور ہر آنکھ کو وہ ’’ذوق نظر‘‘ فراہم کرتے ہیں جو بات کے اندر کی بات کا ادراک کر سکتا ہے۔

کتاب میلے کی یہ ’’حکایت لذیذ‘‘ اتنی بڑھ گئی کہ پی ٹی سی ایل کے برادران سید مظہر حسین اور احمد جلال کی سجائی ہوئی محفل مشاعرہ اور فاطمہ جناح یونیورسٹی برائے خواتین کی اس تقریب کا حال بیچ میں ہی رہ گیا جہاں مجھے نئی نسل سے پرانے لوگوں کی کچھ ہمیشہ نئی رہنے والی باتیں پھر سے شیئر کرنے کا موقع ملا ۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم نے مکالمے‘ مذاکرے اور کتاب میلے کا یہ سلسلہ تسلسل اور ذمے داری سے جاری رکھا تو انشاء اللہ کتاب بھی زندہ رہے گی اور اس سے کسب فیض کرنے والے قاری اور صاحبان ذوق بھی۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں