مٹی اور سونا


سونا مٹی اور مٹی سونا کیسے بنتے یا بن سکتے ہیں۔ اتفاق سے دونوں منظروں کی جھلک ایک ہی دن میں چند گھنٹوں کے دوران دیکھنے کا موقع ملا تو جی چاہا کہ آپ کو بھی اس تجربے‘ مشاہدے‘ تجزیے یا لطیفے میں شامل کیا جائے کہ ’’عذر گناہ بدتر از گناہ‘‘ کی طرح اس مٹی اور سونے کے ملاپ کی بھی کوئی بامعنی عملی شکل یا مثالی شکل ہی سے ملتی ہے۔

یہ صورت حال گزشتہ دنوں نتھیا گلی براستہ سرگودھا‘ ڈی جی خان‘ ملتان اور اسلام آباد ایک مشاعراتی قسم کے سفر کے دوران پیش آئی جو بیک وقت حوصلہ افزا بھی ہے اور افسوسناک بھی، اس کی تفصیل میں جانے سے قبل ہم ’’عذر گناہ بدتر از گناہ‘‘ کے ریفرنس کی بات کرتے ہیں کہ دونوں باتوں میں ایک ربط فنی بہرحال موجود ہے جسے سمجھنا اس واقعہ نما لطیفے سے گزرنے کے بعد نسبتاً آسان اور زیادہ دلچسپ ہو جائے گا۔

کہتے ہیں کہ مغل اعظم جلال الدین اکبر کی درسی تعلیم تو بہت واجبی سی تھی مگر اس کا ذہن بہت تیز اور تجزیاتی قسم کا تھا، ہوا یوں کہ ایک بار اس کے دربار میں کسی نے گفتگو میں ’’عذر گناہ بدتر از گناہ‘‘ کا محاوراتی جملہ استعمال کیا۔ بادشاہ نے کہا مثال دے کر اس کی وضاحت کرو کہ ’’عذر گناہ‘‘ گناہ سے زیادہ بڑا کیسے ہو سکتا ہے۔ متعلقہ شخص سمیت کئی عالم فاضل درباریوں نے مختلف مثالیں دیں مگر ہر مثال میں گناہ بہرحال عذر گناہ سے کم تر ثابت نہیں ہوتا تھا۔ بادشاہ نے یہی سوال اپنے نورتنوں سے بھی کیا۔
ان میں سے بھی آٹھ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے البتہ بیربل نے ایک دن کی مہلت طلب کی جو اسے دے دی گئی۔ شام کے وقت بادشاہ حمام کر رہا تھا کہ بیربل خادموں کے روکنے کے باوجود حمام گاہ کے اندر داخل ہو گیا، بادشاہ نے جلدی سے اپنے ستر کو ڈھانپا اور غصے سے کہا ارے بدبخت‘ اندھا ہے کیا‘ کہاں منہ اٹھا کر گھسا آتا ہے؟ بیربل نے عاجزی سے دونوں ہاتھ جوڑے اور کہا ’’معافی چاہتا ہوں ظل الٰہی میں سمجھا شاید ملکہ عالیہ غسل فرما رہی ہیں۔ اس پر تو بادشاہ کو آگ ہی لگ گئی اس نے گرج کر کہا یہ کیا بکواس کر رہے ہو؟ بیربل نے دوبارہ ہاتھ جوڑے اور عرض کیا‘ حضور اسی کو عذر گناہ بدتر از گناہ کہتے ہیں۔

اس واقعے‘ لطیفے یا گھڑے ہوئے قصے میں دیکھنے اور سمجھنے والی بات اس کی تاویل برجستگی‘ حاضر دماغی یا بدتہذیبی سمیت اور بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے لیکن یہاں اس کے بیان کی اصل وجہ ایک ہی صورت حال کے وہ دو متضاد پہلو ہیں جو کسی ایک لمحے میں اکٹھے ہو گئے ہیں۔ اب ہوا یوں کہ ہمیں سرگودھا سے ڈی جی خان براستہ سڑک اور وہاں سے ملتان جا کر پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے (نتھیا گلی جانے کے لیے) اسلام آباد تک کا سفر کرنا تھا جب کہ حل طلب معاملہ سفر کا روٹ طے کرنا تھا۔ دوران سفر ڈاکٹر نجمہ کے شوہر فرید صاحب کے موبائل کی گھنٹی بجی اور ان کے چہرے پر فکر مندی اور تشویش کے آثار نمودار ہونا شروع ہو گئے۔

معلوم ہوا کہ فون پی آئی اے کے آفس سے تھا اور اطلاع یہ ہے کہ ہماری اگلے دن کی ملتان تا لاہور فلائٹ آپریشنل وجوہات کی بنا پر کینسل ہو گئی ہے اور اس کے بعد کی واحد پرواز وہاں شام ساڑھے سات بجے لینڈ کرے گی اور اگر کوئی مزید تاخیر نہ ہوئی تب بھی ہم ساڑھے دس بجے رات سے پہلے کسی طرح مشاعرہ گاہ میں نہیں پہنچ سکے جب کہ پروگرام کے مطابق مشاعرہ آٹھ بجے شروع ہو کر ساڑھے نو بجے ختم ہونا تھا کہ یہ میرے علاوہ کل دو شاعروں خالد مسعود اور انور مسعود پر مشتمل تھا۔
اشتہارات



سڑک کے ذریعے یہ سفر اس سے بھی زیادہ لمبا بنتا تھا یعنی کسی طرح کی بھی جمع تفریق سے میرا وہاں وقت پرپہنچ سکنا ممکن نہیں تھا، سو وہاں کے میزبان ڈاکٹر عدنان کو یہ بدخبری سنانے کے بعد ہم لوگ یہ طے کر کے مشاعرہ گاہ کی طرف روانہ ہو گئے کہ چونکہ اب بارہ بجے دوپہر تک ملتان کے ہوائی اڈے پر پہنچنے کی پابندی درمیان سے نکل گئی ہے۔

اس لیے ہم صبح سے نو سے دس تک ڈاکٹر نجمہ کے گھر پر ناشتہ کرنے کے بعد بذریعہ سڑک واپس لاہور جائیں گے۔ ایک بجے رات مشاعرہ ختم ہوا، پرنسپل ڈاکٹر سعید صاحب کے یہاں چائے کافی پیتے پلاتے تین بج گئے۔ نئی جگہ‘ سفر کی بوریت اور پروگرام کی تبدیلی سے پیدا ہونے والی بدمزگی کے باعث دیر تک نیند سے بھی آنکھ مچولی جاری رہی۔

صبح پونے نو بجے کے قریب برادرم فرید کھوسہ کا فون آیا بولے کہ میں ناشتے کے لیے آپ کو لینے تو آ رہا ہوں مگر ابھی ابھی پی آئی اے کی طرف سے فون آیا ہے کہ رات والی اطلاع ایک غلط فہمی کا نتیجہ تھی جس کے لیے ہم معذرت خواہ ہیں۔ اصل میں متعلقہ فلائٹ برقرار ہے اور اپنے مقررہ وقت یعنی بارہ پچاس پر ملتان سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گی۔

اب کسی طرح بحث مباحثے کے بعد یہ چانس لینے کا فیصلہ ہوا‘ کیسے ہم نے عزیزہ نجمہ شاہین کے اتنی محبت اور محنت سے تیار کیے ہوئے ناشتے کے ساتھ بے انصافی کی اور کس طرح مظفر گڑھ والے رستے کے بجائے تونسہ بیراج کے راستے سے ملتان پہنچے اور نتھیا گلی سے لے کر اسلام آباد اور ملتان ایئرپورٹس پر موجود دوستوں نے ہم سے قدم قدم پر رابطہ رکھا اور شوکت فہمی نے کس مہارت اور چابک دستی سے ہمیں فلائٹ کے ٹیک آف ٹائم سے تقریباً 15 منٹ قبل ایئرپورٹ تک پہنچایا، یہ اپنی جگہ پر ایک کھلی داستان ہے مگر جس آسانی اور بے نیازی سے پی آئی اے کے متعلقہ عملے نے اس نام نہاد ’’غلط فہمی‘‘ کی وضاحت کی اس نے ’’عذر گناہ‘‘ کی تشریح سے متعلق ایسے نئے ریکارڈ قائم کیے جو بیربل کو بھی لاجواب کرنے کے لیے کافی تھے۔

مظفر گڑھ‘ ڈی جی خان سڑک کی تکلیف تو اس اعتبار سے ایک مثبت پہلو رکھتی تھی کہ اس کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد جنوبی پنجاب میں لوگوں کی زندگی آسان اور بہتر ہو گی مگر اتنے بڑے اور ایک زمانے تک قابل فخر رہنے والے ادارے کے اس افسوسناک زوال نے بے حد دل گرفتہ بھی کیا کہ آخر ہم کب سمجھیں اور سنبھلیں گے۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں