جنوبی پنجاب اور بہاولپور کا کھیل


کوئی بیوقوف ہی اس رائے سے اختلاف کرسکتا ہے کہ پاکستان میں انتظامی بنیادوں پر مزید صوبے بننے چاہئیں۔ اس میں بھی دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ پنجاب کی آبادی کے حجم کی وجہ سے پاکستان کی فیڈریشن عدم توازن کا شکار ہے اور اس میں توازن لانے کے لئے اسے تقسیم کرنا عقل کا تقاضا ہے ۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ جنوبی پنجاب اور بہاولپور کی محرومیاں بہت بڑھ گئی ہیں جبکہ وسطی پنجاب کو مرکز نگاہ رکھنے والے میاں نوازشریف کے دور میں تو یہاں کے ساتھ ان علاقوں کا تفاوت آخری حدوں کو چھو جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کے محروم عوام عرصہ دراز سے جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے صوبوں کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں۔ اسی لئے ان کے نام پر کبھی ایک جماعت اور کبھی دوسری جماعت سیاست چمکاتی رہتی ہے لیکن یہ نعرہ کبھی نعرے سے آگے نہ بڑھ سکا ۔جنوبی پنجاب کی محرومیوں کی ذمہ دار مسلم لیگ(ن) کی قیادت بھی ہے اور پیپلز پارٹی کی قیادت بھی ،مرحوم فاروق لغاری اور سید یوسف رضاگیلانی جیسی شخصیات بھی ہیں اور پاکستان کے اصل مختار اور مالک بھی ۔ لیکن یہاں کے عوام کے ساتھ سب سے زیادہ ظلم کے مرتکب یہاں کی محرومیوں اور الگ صوبے کے نام پر وقتا ً فوقتاً اپنے لئے سیاسی پناہ گاہیں تلاش کرنے والے جنوبی پنجاب کے الیکٹیبلز ہوئے ہیں اور ہورہے ہیں ۔ یہ ٹولہ جوبنیادی طور پر جنوبی پنجاب کے غریب کسان کا خون چوس کراپنے جبراور استبداد کے قلعے تعمیر کرنے والے شوگر مافیا کے سرغنے اور بڑے بڑے وڈیرے پر مشتمل ہے۔جو بوقت ضرورت بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے کارڈ کو استعمال کرکے اپنے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں جگہ ڈھونڈ لیتے ہیں اور سیٹ یا اقتدار ملتے ہی پھر سب کچھ بھول جاتے ہیں ۔ اب کی بار یہ ڈرامہ خسرو بختیار صاحب کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی چھوڑنے والے بعض اراکین قومی وصوبائی اسمبلی نے رچا رکھا ہے ۔ حالانکہ خسروبختیار صاحب اور ان کا خاندان کسی زمانے میں وہاں کے عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے بہاولپور صوبے کی بحالی کا کارڈ بھی کھیل چکے ہیں ۔ پھر وہ جنرل مشرف کے دور میں بھی وزارت تک پہنچے اور اب پونے پانچ سال میاں نوازشریف کے ساتھ تھے ۔ا س پورے عرصے میں انہوںنے کبھی بھی جنوبی پنجاب یا بہاولپور صوبے کے لئے آواز نہیں اٹھائی ۔ وہ اور ان کے ساتھی اس پورے عرصے میں نوازشریف کے اقتدار میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کے چکر میں مگن رہے لیکن اب جبکہ انتخابات کا وقت آیا تو مسلم لیگ(ن) سے بے وفائی کرکے انہوں نے پی ٹی آئی میں جانا ضروری سمجھا ۔ لیکن سیدھا سادہ راستہ استعمال کرنے کی بجائے انہوں نے بہاولپور اور جنوبی پنجاب کا کیس خراب کیا۔ کیس یو ں خراب کیا کہ اس وقت جو بندہ دو کی بجائے ایک نئے صوبے (خواہ وہ بہاولپور ہو یا جنوبی پنجاب) کی با ت کرتا ہے وہ اس جائز کاز کے ساتھ بددیانتی کا مرتکب ہورہا ہے ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے لئے جنوبی پنجاب کے لوگوں کا مکمل اتفاق ضروری ہے جو صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ بہاولپور والوں کو اپنا صوبہ دیا جائے اور جنوبی پنجا ب والوں کو اپنا ۔ سردست بہاولپور بھی جنوبی پنجاب کا حصہ سمجھا جاتا ہے لیکن وہاں کے لوگوں کی اکثریت قطعاً اس تجویز کی حمایت نہیں کرے گی جس میں ان کے صوبہ بہاولپور کا مطالبہ بھی شامل نہ ہو ۔ یوں جنوبی پنجاب میں جب اختلاف ہوگا تو وسطی پنجاب والوں کو دلیل مل سکے گی کہ جو کچھ آپ چاہتے ہیں ،اس پر تو خود جنوبی پنجاب متفق نہیں ۔ اسی طرح اخلاقی طور پر بھی یہ بات ضروری قرار پاتی ہے کہ ملتان والے جو حق اپنے لئے لاہور سے چھیننا چاہتے ہیں ، وہ وہی حق بہاولپور کو کیوں نہیں دینا چاہتے ۔ لیکن ہم جیسے سیاست کے طالب علموں اور جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ2012 میں پنجاب کی اسمبلی متفقہ طور پر بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے صوبوں کے لئے الگ الگ قراردادیں پاس کرچکی ہے اور جب تک اس کے اوپر نئی قرارداد نہیں آتی ،تب تک اسے ہی پنجاب (بشمول جنوبی پنجاب و بہاولپور ) کے عوام کی رائے کا آئینہ دار سمجھا جائے گا ۔ میرے کالم گواہ ہیں کہ میں نے پختونخوا صوبے کے لئے اس نام کی حمایت اس بنیاد پر نہیں کی تھی کہ میں پختون ہیں بلکہ میری دلیل یہ تھی کہ صوبائی اسمبلی پختونخوا نام رکھنے کے حق میں قرارداد پاس کر چکی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس کے ساتھ خیبر کا لفظ لگایا گیا (حالانکہ خیبر قبائلی علاقے میں ہے ) تومیں نے قبائلی ہوکر بھی اس کی مخالفت کی کیونکہ میری دلیل یہ تھی کہ صوبے کی اسمبلی نے صرف پختونخوا کے لفظ کے حق میں قرارداد پاس کی ہے ۔ اسی طرح آئینی لحاظ سے نئے صوبے کے قیام کے لئے متعلقہ صوبائی اسمبلی اور پھر سینیٹ و قومی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کا ووٹ ضروری ہے ۔ ظاہر ہے یہ مقصد تینوں بڑی پارٹیوں کی حمایت کے بغیر نہیں ہوسکتا ۔ اب وہی لوگ اس کاز کے ساتھ مخلص تصو ر ہوں گے کہ جو دو صوبوں کے کاز کو لے کر تینوں بڑی جماعتوں کی حمایت کے حصول کی کوشش کرلیں ۔ لیکن اب جبکہ جنوبی پنجاب کے نام نہاد علمبردار سرائیکی اجرکوں کے ساتھ بنی گالہ کو سدھار گئے تو پھر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو کیا پڑی ہے کہ ان کی حمایت کریں ۔ ان لوگوں نے اگر وہاں جانا ہی تھا تو جنوبی پنجاب کے کاز کو کیوں خراب کرنا ضروری سمجھا۔



سب سے اہم سوال یہ ہے کہ نئی بات اور نئے انداز میں مطالبہ کرنے کی بجائے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ نے بات وہاں سے آگے کیوں نہیں بڑھائی جہاں تک پہلے پہنچ چکی ہے ۔ اگر جنوبی پنجاب کے سادہ لوح اور مظلوم عوام نہیں جانتے تو کم از کم خسرو بختیار جیسے پڑھے لکھے اور تجربہ کار سیاستدان تو بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان کے آئین میں نئے صوبے بنانے کا طریق کار کیا ہے ۔ طریق کار یوں ہے کہ متعلقہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت جبکہ متعلقہ صوبے میں دو تہائی اکثریت کی حمایت ضروری ہے ۔اگر متعلقہ صوبہ کی اسمبلی حمایت نہ کرے تو سینیٹ اور قومی اسمبلی سے دوتہائی اکثریت کے ساتھ ترمیم کے باوجود نیا صوبہ نہیں بن سکتا ۔ اب2012ء میں پنجاب اسمبلی بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے صوبوں کے حق میں متفقہ قرارداد منظور کرچکی ہے اور اس کی بنیاد پر اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے 30 مئی2012ء کو کمیشن بھی قائم کیا۔ گویا ایک مرحلہ طے ہوچکا ہے اور اب جو کوئی بھی جنوبی پنجاب سے مخلص ہوگا تو نیا پنڈورا باکس کھولنے کی بجائے معاملے کو اسے وہاں سے آگے بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ لیکن اب جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کا ڈرامہ رچانے والوں نے بہاولپور کی بجائے صرف ایک صوبے کا مطالبہ کردیا۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک صوبے کے مطالبے پر دوبارہ پنجاب اسمبلی سے متفقہ قرارداد پاس کرائی جائے اور جب تک ایسا نہیں ہوتا تب تک آئینی لحاظ سے پراسس ہی شروع نہیں ہوسکتا۔ اگر پی ٹی آئی کو مرکز میں حکومت مل بھی گئی تو پنجاب میں اسے دو تہائی اکثریت ملنا تو ناممکنات میں سے ہے ۔ پھر صوبہ کیوں اور کیسے بنے گا ؟۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جنوبی پنجاب کے صوبے کا مطالبہ محض بہانہ اور اصل مقصد کچھ اور تھا ۔ جو لوگ دو کی بجائے ایک صوبے پر اصرار کررہے ہیں ، وہ ایک لمحے کے لئے رک کر پنجاب اسمبلی کی متفقہ قراردادوں کا متن ملاحظہ کرلیں جو مسلم لیگ (ن) کے رانا ثناء اللہ نے پیش کی تھیں۔ پہلی قرارداد بہاولپور صوبے سے متعلق ہے جس کے الفاظ یہ ہیں :
قرارداد نمبر 160: صوبائی اسمبلی پنجاب کے اس ایوان کی رائے ہے کہ بہاولپور کے عوام جو ایک طویل عرصہ سے بہاولپور صوبے کی بحالی کی جدوجہد کررہے ہیں ، یہ مطالبہ نیا صوبہ بنانے کا نہیں بلکہ سابقہ صوبے کو بحال کرنے کا ہے ، جس کی بنیاد انتظامی، جغرافیائی، تاریخی، آئینی اور سیاسی حقائق ہیں ۔ ان حقائق کی بنیاد پر اس ایوان کی رائے ہے کہ سابقہ صوبہ بہاولپور کو بلاتاخیر بحال ہونا چاہئے اور وفاقی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ فی الفور ایک قومی کمیشن تشکیل دیا جائے جو نئے صوبوںسے متعلق تمام کلیدی معاملات (پانی و دیگر معاملات کی منصفانہ تقسیم ، جغرافیائی حد بندی سمیت تمام آئینی ، قانونی ، انتظامی معاملات ) پر فوری فیصلہ دے اور نئے صوبوں کی تشکیل کے عمل کو جلد مکمل کرے۔
جنوبی پنجاب صوبہ سے متعلق قرارداد نمبر161 کا متن یہ ہے :
صوبائی اسمبلی پنجاب کا یہ نمائندہ ایوان ، وفاقی حکومت سے صوبہ جنوبی پنجاب کی تشکیل کا مطالبہ کرتا ہے اور اس نئے صوبے کی تشکیل کو عملی جامہ پہنانے کے لئے وفاقی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ فی الفور ایک قومی کمیشن تشکیل دیا جائے جو نئے صوبوںسے متعلق تمام کلیدی معاملات (پانی و دیگر وسائل کی منصفانہ تقسیم ، جغرافیائی حد بندی سمیت تمام آئینی، قانونی ، انتظامی معاملات ) پر فوری فیصلہ دے اور نئے صوبوں کی تشکیل کے عمل کو جلد مکمل کرے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں