کتاب کا عالمی دن


گزشتہ بدھ کے روز یعنی 9 مئی کو مجھے تازہ تازہ یونیورسٹی کا درجہ حاصل کرنیوالے تعلیمی ادارے کامیسٹس کی ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا جس کا انعقاد عالمی یوم کتاب کے حوالے سے وہاں کی لائبریری کمیٹی نے کیا تھا اور جس میں میری شرکت کی بنیادی وجہ اس کے موضوع یعنی ’’کتاب‘‘ کے علاوہ برادر عزیز سہیل ریاض کا مسلسل اور پرزور اصرار تھا جو گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے میرا پیچھا کرتا رہا تھا۔ اصولاً یہ تقریب مقرر کردہ دن یعنی 23 اپریل کو یا اس سے ایک دو دن آگے پیچھے ہونا چاہیے تھی مگر گوناگوں انتظامی وجوہات کی بنا پر ایسا نہ ہوسکا۔

Better Late than Never پر عمل کرتے ہوئے بات 9 مئی تک جاپہنچی۔ یہاں ازراہ تفنن رومی کنجاہی کا مشہور مصرعہ ’’حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی‘‘ بھی دہرایا جاسکتا تھا مگر یہ اس لیے مناسب نہیں کہ جن چیزوں سے واقعی ہم پر اور ہماری زندگی پر اثر پڑتا ہے ان میں سے ’’کتاب‘‘ کا مقام پہلی صف میں آتا ہے البتہ یہ بات دلچسپ تھی کہ ساری دنیا اور اقوام متحدہ کے اعلان کے برخلاف امریکا و برطانیہ میں یوم کتاب چار مارچ کو منایا جاتا ہے۔ ان کی تفصیل اور وجہ تو معلوم نہیں ہوسکی البتہ انور مسعود کا ایک شعر اس حوالے سے بہت یاد آیا کہ

مذمت کاریوں سے تم ہمارا کیا بگاڑو گے
تمہارے ووٹ کیا ہوتے ہیں جب ویٹو ہمارا ہے

تقریب کے مقررین میں میرے علاوہ صاحبۂ صدر محترمہ ناصرہ جاوید اقبال کے ساتھ ساتھ ٹی وی اینکر عمران خان، سلمان غنی، ڈاکٹر اسلم ڈوگر اور بلال احمد شامل تھے جب کہ سامعین میں یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ و طالبات تھے جن کی تعداد اور انہماک دونوں دیدنی تھے۔ مجھے اس سے قبل برارم ڈاکٹر شاہنواز زیدی کے ترتیب دیے ہوئے مشاعروں کے حوالے سے یہاں کئی بار حاضری کا موقع ملا ہے مگر وہ تقریبات رات کے وقت کیمپس کے ایک مخصوص حصے میں ہوئیں۔

اب جو میں نے دن کے وقت (غالباً) 26 ایکڑ پر پھیلی ہوئی اس یونیورسٹی کی مختلف عمارات راستوں اور باغات کو دیکھا ہے تو دل و دماغ دونوں کو ایک نئی فرحت کا احساس ہوا ہے کہ حقیقت میں یونیورسٹیوں کو ایسا ہی کشادہ، خوبصورت اور آباد ہونا چاہیے نہ کہ تعلیم کے نام پر روبوٹ بنانے والی فیکٹریاں کہ یہاں افراد کو اعداد کی شکل میں دیکھا اور دکھایا جاتا ہے۔ افراد سے یاد آیا کہ اس تقریب میں اپنی صدارتی تقریر کے دوران محترمہ ناصرہ جاوید اقبال نے قومی زندگی کے دھارے میں خواتین کی موجودگی اور شمولیت کے اظہار کے لیے ’’مردم شماری‘‘ کی جگہ ’’فردم شماری‘‘ کی ترکیب وضع کرنے کا مشورہ دیا جو بہت خوبصورت اور خیال افروز تھا۔

کتاب کی تعریف تاریخ اکادیت اور مستقبل کے حوالے سے تمام مقررین نے اپنے اپنے انداز میں بہت خوبصورت اور اہم باتیں کیں جن میں علامہ اقبال کا ذکر مختلف حوالوں سے بار بار آیا کہ اس کی ایک اضافی وجہ ان کی بہو کی وہاں موجودگی بھی تھی جو بلاشبہ اپنی ذاتی صلاحیتوں کی وجہ سے وطن عزیز کی اہم اور لائق ترین خواتین کی پہلی صف میں شمار ہوتی ہیں۔ میں نے بھی اسی حوالے سے علامہ صاحب کی مشہور نظم ’’خطاب بہ جوانان اسلام‘‘ کے دو ایسے شعر سامعین کو سنائے جن میں ’’کتاب‘‘ کے موضوع کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور خیال انگیز بات کی کی گئی تھی۔

حکومت کا تو کیا غم ہے کہ وہ اک عارضی شے تھی

نہیں دنیا کے آئین مسلم سے کوئی چارا

مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی

جو دیکھیں ان کو یورپ میں دل ہوتا ہے سی پارا

اپنی گفتگو کے آخر میں میں نے ’’کتاب‘‘ کے حوالے اور عنوان سے لکھی ہوئی ایک نظم سنائی جسے قارئین سے شیئر کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ آنیوالا زمانہ ’’کتاب‘‘ کی روح سے نہ سہی اس کی موجودہ شکل سے یقینا دور ہوتا چلا جائے گا۔ سو عین ممکن ہے کہ چند برس بعد آنیوالے قارئین ’’کتاب‘‘ کو کسی اور رنگ میں دیکھیں، پڑھیں اور اس نظم کی ’’کتاب‘‘ ان کے لیے طوطا، مینا کی کہانی سی کوئی شکل اختیار کر جائے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کا ایک بہت عجیب پہلو یہ بھی ہے کہ یہ کسی بھی خبر کو زیادہ دیر تک تازہ نہیں رہنے دیتی۔ یہ کوئی بہت زیادہ پرانی بات نہیں کہ ویڈیو کیسٹ اور وی سی آر وغیرہ ہماری روزمرہ گفتگو کا حصہ ہوا کرتے تھے لیکن اب تاریخ کا حصہ ہیں۔

کتاب

جس طرح ساز مل کر ایک سمفنی بنائیں

کورکس میں جیسے پنچھی نغمہ کوئی سنائیں

بالکل اسی طرح سے

حرفوں کی آہٹوں پر لفظوں کی بخت جاگیں

جاگیں تو ساتھ اپنے ہر چیز کو جگائیں

افکار کے چمن میں مہکیں گلاب صورت

مثل شعور چمکیں، برسیں سماب صورت

ہے بہترین اسی کی، لیکن کتاب صورت!

ہر اک ورق میں جس کے دنیا نئی نئی ہے

مندر ہے جس میں ہر دم گھنٹی سی بج رہی ہے

رہتی اسی طرح ہے، جس طرح کوئی چاہے

سینے پہ ہو کبھی یہ، تکیے تلے ہو گاہے

لیکن یہ جب کبھی بھی آنکھوں کے روبرو ہو

حرفوں میں اور دلوں میں خاموش گفتگو ہو

جتنے ہیں شش جہت کے، سب تار یہ ہلا دے

ہاتھوں میں پھول بھردے، پوروں کو جگمگادے

مانگیں گے جو بھی اس سے، سب کچھ کتاب دے گی

جتنے سوال اب تک ذہنوں میں اٹھ چکے ہیں

اور جو ہیں اٹھنے والے- سب کا جواب دے گی

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں