نیلم وادی میں پل ٹوٹنے سے 40 سیاح دریا میں بہہ گئے


آزاد کشمیر: وادی نیلم میں نالا جاگراں‌ میں کنڈل شاہی پل ٹوٹنے سے 40 سے زائد سیاح‌دریا میں بہہ گئے.
ریسکیوں زرائع کے مطابق 5 افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں اور 13 افراد کو زندہ بچالیا گیا ہے جب کہ باقی کی تلاش جاری ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پل پر خواتین اور بچوں سمیت 40 سے زائد سیاح کھڑے تھے کہ اچانک پل ٹوٹ گیا اور تمام لوگ نالے میں بہہ گئے۔ نالہ جاگراں بلندی سے نیچے اترنے والا انتہائی تیز رفتار نالہ ہے جس میں پانی بہت تیز رفتاری سے بہتا ہے لہٰذا گرنے والے سیاحوں کےبچنے کی امید بہت کم ہے۔ ڈپٹی کمشنر نیلم راجہ شاہد محمود کا کہنا ہے کہ خستہ حال پل گنجائش سے زیادہ افراد کا بوجھ برداشت نہ کرسکا اور ٹوٹ گیا۔
نیلم حادثے میں متاثرہ افراد کی اکثریت کا تعلق فیصل آباد، لاہور اور سرگودھا سے ہے۔ دریا میں گرنے والے سیاحوں میں فیصل آباد کے نجی کالج کے طلبہ و طالبات بھی شامل ہیں جن میں سے 3 طالبعلموں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جب کہ دو طالبات اور ایک طالبعلم کو زندہ بچالیا گیا ہے۔ ڈوب کر ہلاک ہونے والوں کی شناخت شہزاد، عبدالرحمان، محمد ندیم، حماد اور معظم کے نام سے ہوئی ہے۔

جاں بحق افراد میں شہزاد اور عبدالرحمن کا تعلق فیصل آباد اور محمد ندیم کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔ زخمیوں میں فیصل آباد سے 18 سالہ حمزہ، 19 سالہ عدیل، 21 سالہ ولید، 21 سالہ زبیر، 18 سالہ انعم اور ثنا منیر، ساہیوال سے 22 سالہ اقرا، 28 سالہ علینا، بورے والا سے 22 سالہ ابرار، جھنگ سے 18 سالہ لاریب شامل ہیں۔ زخمیوں میں فیصل آباد کے ولید اور زبیر کی حالت تشویشناک ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نیلم حادثے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے فوجی دستوں کو امدادی سرگرمیوں میں سول انتظامیہ کی بھرپور مدد کی ہدایت کی ہے۔ پاک فوج کے خصوصی ایس ایس جی غوطہ خوروں کی ٹیم سرچ آپریشن کیلئے روانہ ہوگئی ہے۔ 4 لاشوں اور 11 زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے شاہکوٹ سے مظفر آباد منتقل کردیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں