نواز شریف اور پاک فوج۔ ملکی سالمیت کا خیال رکھیں؟


نواز شریف لڑائی میں اصول اور قواعد و ضوابط کا خیال نہیں کر رہے۔ کیا غصہ اور اضطراب ان پر اس حد تک غالب آگیا ہے کہ انھیں حدود کا خیال ہی نہیں رہا ہے۔ نواز شریف یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ وہ پاک فوج کے خلاف الیکشن نہیں لڑ رہے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ اس وقت پاک فوج کی ہمدردیاں ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ لیکن پاک فوج انتخابات میں ان کی حریف نہیں ہے۔

عجیب بات ہے کہ وہ اپنے حریفوں کے بجائے پاک فوج کو ٹارگٹ کر رہے ہیں۔پتہ نہیں انھیں کس نے سبق پڑھا دیا ہے کہ وہ پاک فوج کے خلاف بیان بازی کر کے کوئی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ جس نے بھی انھیں یہ سبق دیا ہے وہ ان کا دوست نہیں دشمن ہے۔

پاکستان کی سیاست میں مظلومیت کا ایک ووٹ بینک ہے۔ لوگ مظلوم کے ساتھ ہمدردیاں رکھتے ہیں۔ بھٹو مظلوم ہوئے تو ان کے ساتھ ہمدردیاں ہوئیں۔حالانکہ بھٹو کی ظلم کی داستانیں کوئی جھوٹی نہیں تھیں جن میں دلائی کیمپ اور ایف ایس ایف شامل ہیں۔ کسی کو یاد نہیں کہ وہ پاکستان کے پہلے سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے۔ تاہم ان کی پھانسی نے ان کے تمام سیاسی داغ دھو دیے اور وہ مظلوم بن گئے۔ اسی طرح اس وقت مجھے کیوں نکالا سے نواز شریف بھی مظلوم بنے ہیں۔ وہ عوام کو یہ احساس دلانے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔
لیکن مظلومیت کا یہ ووٹ بینک صرف تب تک ہے جب تک نواز شریف پاکستان کی سیاست کی ریڈلائنز عبور نہیں کرتے۔ انھیں غصہ پر قابو رکھنا ہو گاورنہ مظلومیت بھی ہاتھ سے نکل جائے گی اور سیاست بھی ختم ہو جائے گی۔ الطاف حسین کی مثال ان کے سامنے ہے۔ نواز شریف کی سیاست اور سیاسی جماعت میں الطاف حسین جیسا دم خم بھی نہیں ہے۔ ویسے تو اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔

عمران خان بھی 2013ء کے انتخاب میں پاک فوج کی جانب سے نواز شریف کی مدد کا الزام لگا کر کوئی فوج سے محبت کا ثبوت نہیں دے رہے ہیں۔ اور زرداری کا اینٹ سے اینٹ بجا دینے والا بیان بھی سب کے سامنے ہے۔ وہ بھی ریڈ لائن عبورکرنے کی مثال تھا۔

نواز شریف اور فوج کے تعلقات کی بھی عجیب کہانی ہے۔ اس میں دوستی اور پیار کے بھی اٹوٹ رنگ ہیں۔ اور دوستی کے ٹوٹنے کی بھی داستانیں ہیں۔ لیکن خوبصورت بات یہ ہے کہ دوستی ٹوٹ کر دوبارہ بھی بنتی نظر آتی ہے۔ اگر جنر ل وحید کاکڑ والے رنگ ہیں تودوبارہ اقتدار ملنے کی داستان بھی ہے۔ اگر جنرل مشرف کی جانب سے اقتدار سے نکالنے کی داستان ہے تو دوبارہ وزیر اعظم بننے کی بھی داستان ہے۔ لیکن نواز شریف کی ایک خوبصورت بات یہی رہی تھی کہ لڑائی میں بھی انھوں نے کبھی ریڈ لائن عبور نہیں کی تھی۔

اسی لیے دوبارہ دوستی ہو جاتی تھی۔ حتیٰ کے جنرل مشرف کی جانب سے اقتدار پر قبضہ کرنے کے باوجود بھی نواز شریف نے مفاہمت کے راستے کا ہی انتخاب کیا تھا۔ اسی وجہ سے وہ تیسری دفعہ وزیر اعظم بن گئے۔ ایک نرم گوشہ موجود تھا۔ لیکن اب وہ ریڈ لائن عبور کر رہے ہیں۔ پتہ نہیں کیوں وہ بھٹو بننا چاہ رہے ہیں حالانکہ بھٹو کے وارثوں کو بھی بھٹو بننے کا کوئی شوق نہیں ہے۔
اشتہارات



پاکستان کی اقتدار کی کہانی کی بھی عجیب ستم ظریفی ہے۔ یہاں سویلین اور جمہوری حکمران ا قتدار میں آ کر ایک فوجی آمر بننے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور ہر وقت فوجی آمر جیسے اقتدار اور طاقت کی خواہش کرتے ہیں۔دوسری طرف فوجی آمر اقتدار میں آکر جمہوری بننے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ ان کے پیٹ میں جمہوریت کا درد اٹھ جاتا ہے۔ وہ جمہوریت کو آوازیں دینے لگتے ہیں۔ اسی لیے دونوں ہی ناکام ہو جاتے ہیں۔

اگر فوجی آمر فوجی آمر کے انداز میں ہی حکومت چلائے اور اپنی مدت ختم ہونے پر اگلے فوجی سربراہ کو حکومت سونپ دے تو شاید فوجی نظام ہی چل جاتا۔ اور دوسری طرف اگر سویلین اقتدار میں آنے والے سویلین اقتدار کے تقاضے ہی پورے کرتے تو شاید سویلین نظام اقتدار ہی کامیاب ہو جاتا۔ دونوں اپنی اپنی بنیاد کھو دیتے ہیں۔ اور ایک دوسرے کے حسد میں گرفتار رہتے ہیں اس لیے ناکام ہو جاتے ہیں۔

نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ ملک میں سترہ وزراء عظم کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی اور انھیں نکال دیا گیا۔ جب کہ دوسری طرف کوئی فوجی آمر بھی تو عزت سے نہیں گیا ہے ان کی رسوائی کی داستانیں بھی کم نہیں ہیں۔ ایوب کو دیکھ لیں۔ یحییٰ کو دیکھ لیں۔ ضیاء الحق کے انجام کو دیکھ لیں۔ مشرف کے انجام کو دیکھ لیں۔ پاکستان میں اقتدار کا کھیل ہے ہی اتنا گندا کہ چاہے فوجی آمر ہو یا سویلین دونوں کا انجام ہی ایک جیسا ہوا ہے۔

نواز شریف آج کل خلائی مخلوق اور دیگر استعاروں سے فوج کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ میرے سینے میں کئی راز ہیں، مجھے تنگ نہ کرو میں راز افشا کر دوں گا۔ یہ ایک عجیب حکمت عملی ہے۔ یہ ایک خطرناک کھیل ہے۔ وہ ریڈ لائن عبور کر رہے ہیں۔ ویسے تو وہ ماضی میں بھی ایسا کر چکے ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ وہ کارگل پر کمیشن بنائیں گے۔ کارگل کے ذمے داران کو کٹہرے میں لائیں گے لیکن پھر جب انھیں اقتدار کی ہڈی ملی وہ سب بھول گئے۔ اور انھوں نے کبھی کارگل کمیشن کا نام بھی نہیں لیا۔

شاید اب بھی وہ ایسے ہی کرنا چاہتے ہیں۔ دوبارہ اقتدار کا راستہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس بار وہ ریڈ لائن عبور کر رہے ہیں۔ ان کا ممبئی حملوں کا والا بیان پاکستان کے لیے خطرناک ہے۔ انھیں یاد رکھنا ہو گا کہ ایسا کرنے سے وہ اپنی مظلومیت بھی کھو دیں گے۔ اپنا ووٹ بینک بھی کھو دیں گے اور حق سیاست بھی کھو دیں گے۔ جب عوام یہ سمجھیں گے کہ نواز شریف پاکستان کی اساس اور سالمیت کونقصان پہنچا رہے ہیں تو عوام نواز شریف سے محبت ختم کر دیں گے۔

ویسے تو حافظ سعید سیاست میں آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نواز شریف کے حا می نواز شریف کو ووٹ ڈالتے رہے ہیں۔ نواز شریف یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ حافظ سعید ان کے بہت بڑے حامی رہے ہیں۔ 2013ء کے انتخاب میں بھی حافظ سعید نواز شریف کی جیت کے لیے کوشاں تھے۔ لیکن اب حافظ سعید خود سیاست میں آرہے ہیں۔ ایک عام تاثر یہی ہے حافظ سعید نواز شریف کے ووٹ بینک کو نقصان پہنچا ئیں گے۔

حلقہ 120کے انتخاب میں حافظ سعید کی جماعت ملی مسلم لیگ کے امیدوار کو مناسب ووٹ مل گئے تھے۔ اس کے بعد نواز شریف کی موجودہ حکومت حافظ سعید کی سیاسی جماعت کی رجسٹریشن میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ وزارت داخلہ این او سی جاری نہیں کر رہی۔ ان کے خلاف قانون سازی کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے لیے زندگی تنگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسے میں نواز شریف کا ممبئی حملوں میں نان ا اسٹیٹ ایکٹرز کے ملوث ہونے کا بیان، کہیں وہ بھارت کی زبان تو نہیں بول رہے۔ انھیں قومی مفاد کا خیال رکھنا ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں