ظلم و دہشت اور دو مختلف روئیے

orya-maqbool-jan-column
گیارہ ستمبر کا واقعہ اور اس کے بعد گزرنے والے ماہ و سال اور ان سالوں میں ہونے والے واقعات یوں لگتا ہے امریکی عوام اور مسلم امہ دونوں کے اجتماعی لاشعور کا حصہ بن چکے ہیں۔ اجتماعی لاشعور کا تصور اپنے زمانے کے مشہور نفسیات دان کارل ینگ (Carl yung ) نے دیا تھا۔ یہ شخص علم نفسیات کی بنیاد رکھنے والے تین نفسیات دانوں فرائیڈ اور ایڈلر کا تیسرا ساتھی تھا۔ باقی دو تو یہ کہتے ہیں کہ انسانی زندگی کی کچھ دبی ہوئی خواہشات یا ایسے تلخ تجربے جنہیں وہ بھول جانا یا چھپانا چاہتا ہے انسانی ذہن کے تاریک ترین کمرے “لاشعور” میں دبے رہتے ہیں۔ البتہ وہ خوابوں کی صورت میں ایک نیم روشن کمرے “تحت الشعور” میں بھیس بدل کر رقص کرتے ہیں۔ جبکہ ینگ نے کہا کہ ہر قوم کا ایک اجتماعی لاشعور بھی ہوتا ہے جو نسل در نسل انسانوں میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔ مدتوں غلام رہنے والوں کی نسلوں کا اجتماعی لاشعور آزاد اور حریت پسند نسلوں سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ یہ ان تمام تجربات، تلخ و خوبصورت یادوں سے مل کر بنتا ہے جو انسانوں پر اجتماعی طور پر بیتتی ہوتی ہیں۔ وہ ایسے بے شمار واقعات تحریر کرتا ہے جن میں یہ اجتماعی لاشعور کئی نسلوں بعد بھی انسانوں کی راہنمائی کرتا ہے، انہیں خوفزدہ کرتا ہے یا حسرت سے ہمکنار کرتا ہے۔یوں لگتا ہے کہ اب یہ اجتماعی لاشعور عالمی سطح پر ترتیب پارہا ہے۔ انسانوں کے ذاتی تجربے، شہروں کے المیے، ملکوں کی تباہی اب صرف ان قوموں تک محدود نہیں رہ گئی بلکہ میڈیا کی دنیا نے اسے مکمل انسانیت کے لیے ایک اجتماعی تجربہ بنا دیا ہے۔ ہر شخص جو جنگ کے مناظر دیکھتا ہے، اجڑے شہر، سروں پر سامان رکھ کر بھاگتے لوگ، روتے ہوئے یتیم بچے، لاشوں سے لپٹ کر روتی ہوئی مائیں، عقوبت خانوں سے نکل کر آنے والے قیدیوں کی داستانیں، اور ایسے کئی مناظر دیکھتا ہے، کتابیں، کہانیاں، انٹرویو سب کے سب جدید انسان کی نفسیات پر گہرا اثر مرتب کر رہے ہیں۔ جو جس قدر حساس ہو گا اس کا شعور اتنا ہی متاثر ہوگا۔ یہ تو ان لوگوں کا حال ہے جنہوں نے ٹیلی ویژن سکرین پر، کسی یوٹیوب کی ویڈیو پر یا کسی ڈاکومنٹری میں اس جنگ کے منظر دیکھے ہیں۔ لیکن وہ جو براہ راست اس جنگ میں ملوث تھے یا جو اس جنگ کا شکار ہوئے ان پر کیا بیتی ہو گی اس کا اندازہ، ایک ہنستا بستا اور مسکراتا ہوا شخص بالکل نہیں لگا سکتا۔ ذاتی طور پر کسی ظلم کا گواہ یا ظلم میں شریک شخص جب ایک سیکنڈ کے لئے بھی اس واقعہ کا تصور کرتا ہے تو اپنی اپنی حساسیت کی سطح پر وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے۔ اسے نفسیات کی زبان میں Trauma کہا جاتا ہے، یعنی وہ ذہنی حالت جو اچانک کسی قتل، ظلم، تشدد وغیرہ کو دیکھنے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کیفیت سے جنم لینے والی نفسیاتی بیماری کو ’’PTSD” کہتے ہیں۔ Post Traumatic Stress Disorderکسی حادثاتی تجربے سے جنم لینے والی نفسیاتی بیماریاں یا دباؤ۔ یہ بہت تکلیف دہ حالت ہوتی ہے۔ آدمی اس المیے کو بھول نہیں پاتا۔ راتوں کی نیند ختم ہو جاتی ہے، دنوں کا چین برباد ہو جاتا ہے، یہاں تک آدمی اس حالت تک جا پہنچتا ہے کہ خود کشی کر لیتا ہے۔ یہ اس بیماری کا بھیانک انجام ہوتا ہے۔



گیارہ ستمبر کے بعد جنم لینے والی افغانستان اور عراق کی جنگ میں حصہ لینے والے امریکی سپاہیوں میں سے روزانہ بائیس 22 افراد خودکشی کرتے ہیں اور یہ اعداد و شمار ان کے سرکاری محکمے Department of Veterans Affairs کے ہیں، جبکہ 14 نومبر 2003 کے سی این این کی رپورٹ کہتی ہے کہ یہ تعداد بائیس سے کہیں زیادہ ہے، کیوں کہ آج تک امریکی سپاہی جو اس نفسیاتی بیماری کا شکار ہوئے ہیں ان میں سے تقریبا 60 ہزار بے گھر ہو چکے ہیں جو راتوں کو سڑکوں پر گھومتے، فٹ پاتھوں پر سوتے یا کسی ٹھکانے کی تلاش میں رہتے ہیں، جن کی موت کی وجوہات کا علم نہیں ہو پاتا۔ جبکہ امریکہ کے اسی ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت افغانستان اور عراق کی جنگ میں حصہ لینے والے سپاہیوں میں اندازاً (4,60,000) چار لاکھ ساٹھ ہزار اس نفسیاتی عارضے کا شکار ہیں۔ یہ تعداد 10 جنوری 2014 تک کی ہے اور ان میں سے 1,18,829 وہ ہیں جن کی شدید ذہنی مریض کے زمرے میں تشخیص ہو چکی ہے۔ امریکی تاریخ کی یہ اب تک کی سب سے بڑی اجتماعی نفسیاتی بیماری ہے۔ یہ بیماری نہیں ذہنی عذاب ہے۔ ہر کوئی اب اس بیماری اور عذاب سے چھٹکارا پانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے ہی ایک امریکی سپاہی جان ٹرنر Jon Turnerواشنگٹن میں ان 55 امریکی سپاہیوں کے ساتھ لوگوں کے ایک ہجوم کے سامنے آیا۔ ان پچپن سپاہیوں نے بتایا کہ انہوں نے کونسے ایسے ظلم دیکھے اور ان میں حصہ لیا تھا کہ اب وہ ان کے ذہنوں پر سائے کی طرح مسلط ہو چکے ہیں۔ ہر ایک کی کہانی ایک خوفناک فلم کی کہانی لگتی ہے۔ جان ٹرنر جو ایک خوبصورت سفید فام نوجوان ہے، ایک عمومی امریکی سپاہی کی طرح دیوہیکل اور دیوقامت بھی نہیں، بلکہ چہرے سے معصوم لگتا ہے۔ اس نے ان امریکیوں کے اس ہجوم میں گفتگو کرتے ہوئے سب سے پہلے امریکی محاورا بلکہ عالمی فوجی محاورہ بولا کہ “ایک فوجی عمر بھر فوجی ہی رہتا ہے”، لیکن پھر اس نے دوسرا محاورہ بولا Eat the apple, eff the corps یعنی “تم سیب کھاؤ اور پولیس پر لعنت بھیجو” اور پھر اس نے اس ہجوم کے سامنے اپنے سینے پر لگے ہوئے وہ میڈل اتار کر نفرت سے پھینکے جو اسے عراق جنگ میں بہادری پر ملے تھے اور اپنی کہانیاں سنانا شروع کیں۔ اس نے کہا “میں نے پہلا قتل اپریل 2016 کو کیا۔ یہ شخص اپنے باپ اور دوست کے ساتھ اپنے گھر جا رہا تھا، میں نے روکا، وہ نہیں رکا، میں نے گولی چلائی جو اس کی گردن میں پیوست ہو گئی۔ اس نے چیخنا شروع کیا اور اپنی آنکھوں میں رحم کی درخواست کے ساتھ مجھے دیکھا، میں نے اپنے ساتھی سپاہی کی جانب دیکھا اور پھر خود سے کہا کہ میں یہ سب برداشت نہیں کر سکتا اور پھر میں نے اس کے سر کے قریب بندوق رکھ کر فائر کردیا۔ اس کے گھر سے سات لوگ آئے اور خاموشی سے اس کی لاش اٹھا کر لے گئے۔ ہم میں سے جو کوئی بھی قتل کرتا اسے مبارک دی جاتی ہے اور مجھے بھی میرے کمانڈر نے ذاتی طور پر مبارک دی۔ فوج کا قانون تھا کہ جو شخص ایک قتل کرے گا اسے عراق سے گھر جانے کے لیے چار دن کی چھٹی ملے گی” دوسرا واقعہ یہ تھا کہ عراق کے حکومتی مرکز کے جنوب میں تقریباً دو ہزار گز کے فاصلے پر فائرنگ کی جارہی تھی، ہمیں نہیں خبر تھی کہ کس جانب سے فائر ہو رہا ہے، ہم نے اس جانب 84 ایم ایم کا راکٹ فائر کیا، جو ایک گھر کو لگا، ہمیں نہیں معلوم کہ وہاں کوئی تھا یا نہیں تھا لیکن جیسے ہی فائرنگ بند ہوئی تو ہم اس جانب چلے گئے، میرے ساتھ دو سپاہی اور تھے، میں نے اس جانب سے موٹرسائیکل پر آتے ہوئے ایک شخص کو فائر کرکے مار دیا، یہ عراق میں میرا تیسرا قتل تھا۔ اس کی لاش وہاں پڑی تھی، ہم نے اس قتل کو چھپانے کے لیے، اس کی لاش کو گھسیٹا اور اس کی موٹر سائیکل اس کے اوپر پھینک دی۔ ہم اکثر گھروں کی تلاشی کے لیے جاتے، صبح کے تین بجے گھروں کے دروازوں کو ٹھڈے مار کر کھولتے”۔ اس نے اپنی رات کو دیکھنے والی عینک سے بنایا ہوا ایک منظر دکھایا جس میں بچوں اور عورتوں کو علیحدہ کیا گیا تھا۔ اگر گھر کے مرد ذرا احتجاج کرتے تو ہم ان کے سروں پر بٹ مارتے، گلا دباتے، انہیں دیواروں سے پٹختے۔ اس کے بعد اس نے ایک مسجد پر بمباری کا منظر دکھایا اور بتایا کہ اس مسجد سے کوئی فائر نہیں ہوا تھا لیکن ہم نے اپنا غصہ اس مسجد اور اس کے اندر خاموش نمازیوں پر بم برسا کر نکالا۔ اسی طرح ایک دوسرے سپاہی جیمز گیلی گان James Gilliganنے روتے ہوئے بتایا کہ اس نے کس طرح افغانستان میں طالبان کی بجائے عام شہریوں کا قتل عام کیا۔۔۔” یہ اور ایسی لاتعداد کہانیاں چار دن تک سنائی گئیں جن میں معصوموں کا قتل تھا، اجتماعی آبروریزی تھی۔یہ سب جو اب اس عالمی اجتماعی لاشعور کا حصہ بن چکی ہیں۔
لیکن ان سب سے مختلف، پاکستانی سیکولر، لبرل اور امریکی حمایت یافتہ میڈیا اور شام و عراق میں ظلم کے خلاف ایرانی میڈیا کا بھی ایک رویہ ہے۔ وہ لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے اسے ایک افسانہ قرار دیتے ہیں۔شام میں سات لاکھ لوگ مر گئے اور ایرانی اور بیشتر مغربی میڈیا ان سب مرنے والوں کو دہشت گرد ہی بتا رہا ہے۔ جیسے امریکی میڈیا عراق اور افغانستان میں مرنے والے سب لوگوں کو بتاتا ہے۔ یہ لوگ بلا کے مضبوط اعصاب والے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر مشتمل ایک تنظیم “ایگل اپ” Eagle up واشنگٹن میں ان امریکی سپاہیوں کے خلاف مظاہرہ کر رہی تھی جو کہتی پھرتی تھی کہ یہ سب فوجی نہیں ہیں بلکہ ہالی ووڈ کے تربیت یافتہ ایکٹر ہیں۔ انسانی المیے پر ہر دور میں کچھ اذیت پسند مسکرانے والے بھی ہوتے ہیں۔ یہ لوگ بہت سخت جان ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کل کوئی بشار الاسد کی فوج کا سپاہی،ایرانی پاسداران، حزب اللہ اور داعش کارکن اسی طرح اپنی کہانی بیان کرے۔لیکن شاید ایسا کبھی نہ ہو۔ اس لئے کہ جو ظلم مسلک کے نام پر ہوتا ہے اسے کبھی زبان نہیں ملتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں