شہباز شریف سے ایک سوال


مادر وطن کی مٹی کو اپنے پاک لہو سے سیراب کرنے والے سرفروش محسنوں کے لئے ’’خلائی مخلوق‘‘ جیسی مجنونانہ اصطلاحیں استعمال کرنے والے شخص کے لئے ایک جملہ اور ایک مصرعہ پیش کرنا چاہتا ہوں شہید کرنل سہیل عابد کی شہادت پر آرمی چیف جنرل باجوہ نے کہامیرا سپاہی شہید ہو تو لگتا ہے جسم کا حصہ جدا ہو گیا ۔ سپاہی کی شہادت کی رات سو نہیں سکتا۔مصرعہ کرنل سہیل عابد شہید کی ذاتی نظم سے ہے جو ان کی شہادت کے بعد خون میں ڈوب چکا۔ اس پر غور کریں۔’’مری وفا کا تقاضا کہ جاں نثار کروں‘‘سوچ رہا ہوں کہ کرنل سہیل شہید نے جب یہ مصرعہ لکھا ہوگا تو اس کی ذہنی ، جسمانی، جذباتی اور روحانی کیفیت کیا ہو گی، اس کے لاشعور میں کیا ہو گا؟ اور جب یہ جواں سال جاں باز دھرتی کی حفاظت کے لئے لڑتے لڑتے آخری سانسیں لے رہا ہو گا تو چند آخری خیال کیسے ہوں گے؟کیا ہوں گے؟والدین کے دھندلے دھندلے چہرے دکھائی دئیے ہوں گےکمسن بچے یاد آئے ہوں گےشریک حیات کی بیوگی کی طرف دھیان پلٹا ہوگاشہید ہو چکے ساتھیوں کا سوچا ہوگااپنی نظم کے مصرعے کا سوچ کر مسکرایا ہوگاجاں جان آفریں کے سپرد کرتے وقت یہ سرفروش کیا سوچ رہا ہوگا؟کیا محسوس کر رہا ہوگا؟میری خواہش ہے کہ نواز شریف ولد محمد شریف نامی یہ صاحب جو تین بار اس ملک کے وزیر اعظم رہ چکے اور ڈالروں میں ارب پتی ہیں ، کبھی حسن نواز حسین نواز کے ساتھ ساتھ کرنل سہیل شہید بارے بھی سوچیں جو پاکستانی کم اور برطانوی شہری زیاد ہ ہیں……..شاید ان کی فکری لکنت دور ہو سکے……..یہ سوچ کر کچھ سکون ملے کہ جانے اب تک کتنے بانکے سجیلے سہیل جاتی امروں، پاناما ئوں ، پارک لینوں ، پچاس پچاس گاڑیوں کے قافلے ، پروٹوکولوں، استحقاقوں، مراعاتوں، کمیشنوں، کک بیکوں پر ہنستے کھیلتے قربان ہو گئے۔احسان فراموش ہے ہر وہ شخص جوان لازوال قربانیوں کو فراموش کر کے ہوش کھو بیٹھے اور ملکی استحکام کی آڑ میں اپنی تیزدھار زبان سے پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی ناکام کوشش کرے۔ یہ بیانیہ نہیں شیطانیہ ہے۔شہباز شریف کا ہر بیان ہر وضاحت قبول مثلاً’’نواز شریف سے زیادہ محب وطن کوئی نہیں۔ ارکان کے تحفظات بتا کر بیانیہ نرم کرنے کا کہوں گا‘‘’’انٹرویو کرانے والا پارٹی کا دشمن ہے‘‘’’غداری کے فتوے لگانے والے گریبانوں میں جھانکیں‘‘چلیں ہم مبارزت پر معذرت کو ترجیح دیتے ہوئے اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکتے ہوئے بغیر کسی وجہ کے معذرت خواہ ہیں کہ ایک محب وطن کی شان میں گستاخی ہو گئی لیکن اس سوال کا جواب کون دے گا جو ہر محب وطن کی زبان پر ہے کہ کیا کبھی ہندوستان کے وزیر اعظم نے بھی قتل عام کے مجرم کلبھوشن کا الزام اپنے اداروں پر دھرا؟اور حضور!یہ کیسی وضاحت ہے کہ ’’انٹرویو کرانے والا پارٹی کا دشمن ہے‘‘۔ حضور!پارٹی نہیں وہ وطن کا دشمن ہے کیونکہ پارٹیاں آتی جاتی اور بنتی بگڑتی رہتی ہیں کوئی پارٹی پاکستان کیسے ہو سکتی ہے اوریہ تو یوں بھی مسلم لیگ نہیں، نواز لیگ ہے ورنہ سیاسی مہم جوئی کا سفر تحریک استقلال کی بجائے کسی ’’مسلم لیگ‘‘ سے شروع کرتے جو مدتوں سے تھوک کے بھائو سیاسی منڈی میں موجود ہیں۔



رہ گیا’’انٹرویو کرانے والا‘‘ تو وہ زیادہ سے زیادہ کوئی درباری حواری ہو گا جس نے یقیناً یہ کارنامہ گن پوائنٹ پر سر انجام نہیں دیا اور اس سے بھی کہیں اہم اور نازک سوال یہ کہ یہ سب کچھ اچانک، چشم زدن میں تو نہیں ہوگیا۔ منصوبہ بنا ہوگا، اس پر گفتگو برین سٹارمنگ ہوئی ہو گی، اخبار اور اس کے رپورٹر کا نام فائنل ہوا ہو گا،پھر ان سے رابطہ کیا گیا ہو گا۔ انٹرویو کا وقت اور مقام طے کیا گیا ہو گا پھر رپورٹر کی آمد کے انتظامات کئے گئے ہوں گے یعنی ایک لمباپراسیس تو اس طویل پراسیس میں تیس پینتیس سال سے سیاست میں موجودہ، تجربہ کار، محب وطن، تین بار وزیر اعظم رہ چکے، ترقی کے سمبل، ایٹمی دھماکوں کے دعویدار، شیر ساہ سوری ثانی، سیاسی جینئیس اور ایک واری فیرشیر کو اک واری بھی یہ خیال نہیں آیا کہ وہ کن حالات میں کیا کہنے اور کیا کرنے جا رہا ہے؟ہر قسم کی واردات کے بعد یہ پوچھنا کہ ’’میں نے کیا کیا ہے؟‘‘ میاں صاحب کا وطیرہ بن چکا ہے تو ضروری ہے کہ ان کا منت ترلا کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اعلیٰ درجہ کے ماہرین نفسیات کے سپرد کیا جائے تاکہ ان کا تسلی بخش علاج ہو سکے کیونکہ آج یہ تو کل کوئی او رگل بھی کھلا سکتے ہیں کیونکہ آپ مسلسل سینے میں چھپے رازوں اور ان کو افشا کرنے کی دھمکیوں میں مصروف ہیں جسے سادہ زبان میں ’’بلیک میلنگ‘‘ بھی کہا جا سکتا ہےباقی سب ٹھیک لیکن کوئی یہ تو پوچھے کہ چلو بڑے بھائی کے سامنے تو ہاتھ بندھے، حد ادب لازم لیکن بطور پارٹی صدر آپ ان عناصر سے جان کیوں نہیں چھڑا سکتے جو آپ کے بھائی اور پارٹی کے خلاف سازشیں ، شرارتیں اور دشمنیاں کر رہے ہیں ؟شہباز صاحب!پانی سر سے گزر چکا اب بھی پرواز سے انکاری ہےتو نہ عوام معاف کریں گے نہ تاریخ نہ پارٹی۔ جو سوال میں نے پوچھا آپ اپنے سے بھی ضرور پوچھئے ورنہ…….. لکھا ہے دیوار چمن پہ پھول نہ توڑو…….. لیکن تیز ہوا اندھی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں