یوم حساب


جب سے غیر ملکی دوروں سے جان چھوٹی ہے، مجھے غیر ملکی کرنسی کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قیمت کا اندازہ ہی نہ رہاکیونکہ خواہ مخواہ اپنے آپ کو کسی پریشانی میں مبتلا کرنے کا مجھے کوئی شوق نہیں لیکن گزشتہ دنوں ایک بچے کی غیر ملک روانگی کی وجہ سے مجھے اپنے روپے کی بے قدری کا علم ہوا حالانکہ میں تو یہ سمجھتا تھا کہ ہمارے حکمران اور ہمارے سابق وزیر خزانہ جس طرح ملکی خزانہ ڈالروں سے بھرنے کے دعوے کرتے تھے اس حساب سے تو ہمارا روپیہ مضبوط ہونا چاہیے تھا لیکن ہوا اس کے الٹ اور جیسے ہمارے وزیر خزانہ مصنوعی طور پر لندن کے ایک اسپتال میں جا کر لیٹ گئے ایسے ہی ہماری معیشت کو دیا جانے والا مصنوعی استحکام بھی دھڑام سے زمین بوس ہو گیا جس کے ساتھ ہی حکومت کو اپنی کرنسی کی قیمت میں کمی کرنی پڑ گئی اور غیر ملکی قرضوں کے بوجھ میں اربوں کا اضافہ ہوگیا۔

موجودہ غیر منتخب وزیر خزانہ جو کہ پی آئی اے کے ساتھ پاکستان اسٹیل مل بھی مفت بیچنے کو چلے تھے وہ فر ماتے ہیں کہ پاکستانی کرنسی کی قدر میں موجودہ کمی کچھ ماہ کے لیے کافی ہو گی لیکن بعد میں اس میں مزید کمی کرنی پڑے گی یعنی ابھی ایک ڈالر ایک سو اٹھار ہ روپے کا مل رہا ہے تو مزید کمی کے بعد ایک سو پچیس تک پہنچ جائے گا۔ مجھے اپنے سکے کی اس قدر بے قدری پر جو غصہ تو آیا سو آیا لیکن میں اسے ہر پاکستانی کی توہین سمجھتا ہوں اور یہ توہین نہ کسی امریکی نے کی اور نہ انگریزوں نے یہ سب کچھ ہم نے خود کیا ہے۔

ہمارے ان بڑے لوگوں نے کیا جو ڈالر اور پونڈ کے بغیر اپنی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے اور جب پاکستانی روپے کی قیمت گھٹتی ہے اور ان کی بیرون ملک بینکوں میں پڑی دولت خود بخود بڑھ جاتی ہے تو ان کے چہروں پر خوشی کی لہردوڑ جاتی ہے لیکن ہم عام پاکستانیوں کے چہروں پر شرمندگی کی۔ بس یہی ان کے اور ہمارے درمیان وہ فرق ہے جو ہر قیمت پر ڈالر حاصل کرنے کی کوششوں کا اصل سبب ہے۔ خواہ اس کے لیے ہم اپنا ملک ہی کیوں نہ مزید گروی رکھ دیں اور گروی رکھنے کو اور کچھ نہ ہو تو اپنا ایٹم بم ہی بیچ دیں۔
اپنی واحد متاع جس نے ہمیں دنیا میں جھکا ہوا سر اٹھانے کی ہمت دی ہے۔ ہمارے بڑے ستر برسوں سے بیرونی امدادکا ڈالر کھا رہے ہیں اور جب اس بیرونی امداد میں کمی ہوئی ہے تو انھوں نے پاکستانیوں کی جیبوں پر پہلے ایک دفعہ ڈالر کھا کر ڈاکہ مارا اور اب روپے کی قدر میں کمی کر کے ان ڈالروں میں اضافہ کر لیا اور جب اس پر بھی ان کی بھوک ختم نہیں ہوئی تو ڈالروں میں ملک پر اتنے قرضے چڑھا لیے جن کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

مجھے یاد آتا ہے جب آج سے کئی برس ایک امریکی وکیل نے کہا تھا کہ پاکستانی تو لالچ میں آکر اپنی ماں بھی بیچ دینے پر تیارہوجاتا ہے تو ہم بہت چیخے چلائے تھے ۔ آج میں سوچتا ہوں کہ کیا امریکی وکیل نے جھوٹ بولا تھا لیکن کیا میں اپنی وہ چیخ واپس لے سکتا ہوں۔کیا میں اپنی اس قومی غیرت اور حمیت کو آواز دے سکتا ہوں جو اس امریکی کے طعنے پر جاگ اٹھی تھی۔
میں کسی علم و حکمت اور دانش کا مالک نہیں ہوں، ایک عام سا پاکستانی ہوں اور ایک پاکستانی ذہن سے ہی سوچتے ہوئے ساری عمر گزر گئی ۔ ایک پاکستانی ذہن نے اس معاملے پر غور کیا ہے اور اسے یوں لگا ہے کہ ڈالروں کے کھاتے میں کنگال ہوجانے کی وجہ سے ہمارے ان لوگوں کو فکر پڑ گئی ہے جن کے بیرونی ملکوں میں اپنے پاکستانی ڈالر موجود ہیں۔ بقول ایک سابق امریکی سفیر کے کہ اگر یہ پاکستانی اپنا یہ پاکستان سے لوٹا ہوا زر مبادلہ واپس پاکستان لے آئیں تو وہ پاکستان کے بیرونی قرضوں سے بہت زیادہ ہے۔
اشتہارات



کئی پاکستانیوں کی زبانوں پر یہ بات آتی رہی اور ہر پاکستانی کے دل میں تو یہ موجود ہے ہی کہ ملک کی اس قدر بدحال معاشی حالت کے باوجود کسی ایک پاکستانی نے بھی یہ نہیں کہا کہ وہ اپنا بیرون میں پڑا ہوا سرمایہ واپس لا رہا ہے تا کہ ملک کو اس بحران سے نکالنے میں کچھ مدد کر سکے۔ یہ وہ پاکستانی ہیں جواقتدار میں آتے جاتے رہتے ہیں اور اقتدار کی وجہ سے ہی انھوں نے پاکستان کو لوٹا ہے ۔ ہم آپ تو ہمیشہ لٹتے ہی رہے ہیں ۔ یہ پاکستانی جو بہت ہوشیار ہیں، ایک خطرے سے دوچار رہتے ہیں، انھیں ہر وقت یہ اندیشہ رہتا ہے کہ اگر باہر سے مزید ڈالروں کا بندوبست نہ ہوا اور معیشت دیوالیہ ہوگئی تو لوگ ان کے خلاف بپھر جائیں گے اور یوں یہ مطالبہ اور قوم کا واحد مطالبہ نہ بن جائے کہ انھیں پکڑو اور ان سے اپنی لوٹی ہوئی دولت واپس وصول کرو۔

عوام کا یہ مطالبہ عدالتوں میں نہیں جائے گا اور نہ کسی نیب کو سونپا جائے گا اس کی وصولی کا طریقہ کار دوسرا ہو گا ۔ خشک بھوسے کا ایک ڈھیر ہے ذرا سی آگ لگانے کی دیر ہے اور کیا معلوم کون سر پھرا جیب میں ماچس لے کر کسی ایسے وقت کا انتظار کر رہا ہے۔ چونکہ چنانچہ اور اگر مگر کی اب کوئی گنجائش نہیں رہ گئی ۔ بات صاف کہنے کا وقت آگیا ہے، ہمارے ساتھ یہ ننگا ظلم کیوں ہو رہا ہے کہ ہمیں روزی روٹی اور بھاری بلوں میں الجھا کر حکمران خود عیاشیاں کر رہے ہیں۔

میں نے آپ نے کون سے قومی دولت ہضم کی ہے ، کون سی زیادتی کی ہے ،کون سی غداری کی ہے، کون سا گناہ کیا ہے، میں حال اور ماضی کے حکمرانوں سے پوچھتا ہوںکہ عالی مرتبت ہمیں بتاؤ کہ ہم نے کیا جرم کیا ہے جس کی یہ سزا مل رہی ہے ۔ ہمارے امیر ملک کو غریب کس نے بنایا ہے ۔ جواب میں اورحساب میں دیر کرو گے تو اندھیر ہو جائے گا لیکن اس بار اندھیر ہماری دنیا میں نہیں ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں