نواز شریف یا’’راز‘‘ شریف


نواز شریف کی سیاست جیسے شروع ہوئی تھی ویسے ہی ختم ہوتی دکھائی دیتی ہے یعنی’’ اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے‘‘ سے کچھ ملتی جلتی بات۔ جنرل ضیاء الحق کا یہ مفروضہ سو فیصد غلط بلکہ الٹا ثابت ہوا کہ بڑے بڑے پگڑوں، پیٹوںاور مونچھوں والے روایتی موروثی زمینداروں کے بجائے کسی نیم سرمایہ دار بی اے پاس شہری بابو کو’’آگے‘‘ لانے سے صوبہ، ملک آگے جائیں گے۔ ضیاء الحق بھول گیا کہ زمیندار کی تمام تر وفاداری کا محور و مرکز زمین ہوتی ہے چاہے وہ کتنا ہی برا کیوں نہ ہو جبکہ سرمایہ دار صرف اور صرف سرمائے کا وفادار ہوتا ہے اور سرمایہ کا رکا رویہ کال گرل جیسا ہوتا ہے یعنی نہ وفا نہ حیا۔ زمین کے برعکس سرمائے کا کوئی وطن نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ وفا جیسے دکھ پالتا ہے اور سہتا ہے۔ سرمایہ جہاں’’ توا پرات‘‘ دیکھتا ہے وہاں ساری رات ناچتا ہے اور پھر جونہی کھیل ختم پیسہ ہضم۔ زمین ٹیپو سلطان اور سراج الدولہ ہوتی ہے، سرمایہ میر جعفر، میر صادق اور لارڈ کلائیو یا سجن جندل ہوتا ہے۔ سرمائے کے سینے میں دل نہیں ہوتا جبکہ زمین کی کوکھ میں پانی، پھل، پھول، اناج اور معدنیات جیسے خزانے موجود ہوتے ہیں۔کتنی عجیب بات ہے کہ بقول نواز شریف اس کے سینہ شریف میں بہت سے ’’راز‘‘ دفن ہیں لیکن وہ یہ راز قوم کے ساتھ شیئر کرنے کو تیار نہیں کہ اس کے برخوردار بچپن میں ہی کھرب پتی کیسے بن گئے اور برخوردار بھی ایسے جو سی ایس ایس یا پی سی ایس تو کیا، پبلک سروس کمیشن میں بھی کوالیفائی نہیں کرسکتے۔ میرٹ پر پٹواری بھی بھرتی نہیں ہوسکتے لیکن دنیا بھر میں جائیدادوں کے مالک ہی نہیں، اس ملک سے مسلسل مفرور بھی ہیں جس میں ان کے ” I love you too”والد تین بار وزارت عظمیٰ’’چوس‘‘ چکے۔ ارب نہیں عرب بلکہ کھرب پتی نواز شریف جب بھوکے ننگے، لٹے پٹے معصوم مظلوم ہانکا کئے گئے عوام کو”I love you too”کہہ کر بے وقوف بناتا ہے تو مجھے منیر نیازی یاد آتا ہے جس نے کہا تھا……..’’میں جس سے پیار کرتا ہوں اسی کو مار دیتا ہوں‘‘آج کہتے ہیں’’ میں نے سرجھکا کر نوکری کرنے سے انکار کردیا‘‘ تو میں سوچتا ہوں کہ کیا یہ وہی گیسو دراز سر نہیں جس پر گورنر ہائوس پنجاب میں گورنر غلام جیلانی نے سرعام بیرے کی پگڑی پہنا کر پنجاب کی اشرافیہ کو یہ پیغام دیا تھا کہ عنقریب’’اتفاق‘‘ والوں کا یہ تابعدار سا لڑکا پنجاب کا چیف منسٹر ہوگا….پھر یہ چیف منسٹر چمڑے کے سکے چلاتے چلاتے پرائم منسٹر ہوگیا، پھر پرائم منسٹر ہوگیا اورپھر تیسری بار پرائم منسٹر ہونے کے بعد مزید پروموٹ ہوکر’’مونسٹر‘‘ بننے کے جنون میں مبتلا ہوگیا تو کہانی وہی پرانی دہرائی جانے لگی لیکن ذرا مختلف انداز میں’’میں جس سے پیار کرتا ہوں اسی کو مار دیتا ہوں‘‘اس بار شکار خودکش بمبار ہو کر نکلا ہےچند ماہ پہلے میں نے اس’’شیر شاہ سوری ثانی‘‘ کو گوالمنڈی کا چی گویرا لکھا تھا۔ آج کل یہ اصطلاح بہت مقبول ہورہی ہے جس پر مجھے وہ گیڈر یاد آرہا ہے جس نے اپنی والدہ سے کہا’’ماں جی ! بظاہر تو مجھ میں اور بھیڑئیے میں کوئی فرق نہیں، کوئی فرق ہے تو بس اتنا کہ بھیڑیا بارہ سنگھے پر حملہ آور ہوتے وقت اپنی آنکھیں سرخ کرلیتا ہے، دم گول کرلیتا ہے اور اس کی زبان لپلپانے لگتی ہے۔ اب بارہ سنگھا دکھائی دینے پر میں بھی یہ سارے کام کروں گا اور تمہارےOKکرتے ہی میں بارہ سنگھے پر جھپٹ کر اس کا کام تمام کردوں گا‘‘۔ ممتا کی ماری ماں نے پہلے تو سمجھایا لیکن بالآخر مان گئی۔ شام ڈھلے دور سے اک بارہ سنگھا آتا دکھائی دیا تو گیڈر نے ماں کو ریڈ الرٹ کرکے’’تیاری‘‘ شروع کرتے ہوئے ماں سے پوچھا’’ماں جی! دیکھنا میری آنکھیں سرخ ہوگئیں؟‘‘’’بالکل ہوگئیں‘‘ ماں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا’’ماں جی! غور سے دیکھنا میری دم گول ہوئی کہ نہیں؟‘‘ماں نےOKکردیا تو گیڈر نے آخری کلیئرنس لیتے ہوئے پوچھا’’دیکھنا میری زبان ٹھیک سے لپلپا رہی ہے یا نہیں؟‘‘ماں نے اس پر بھی مہر تصدیق ثبت کردی۔ اتنی دیر میں بارہ سنگھا گیڈر کی رینج میں آچکا تھا سو اس نے ’’جے ہند‘‘ کا نعرہ بلند کیا اور بارہ سنگھے پر کود گیا۔ چشم زدن میں بارہ سنگھے کے بیشتر سینگ گیڈر کے پیٹ میں پیوست ہوگئے۔ گیڈر نے دلخراش چیخ ماری اور یہ الوداعی جملہ بولا’’ہائے ماں جی! مروا دیا‘‘.
اشتہارات



معاف کیجئے کالم کہانی کی طرف نکل گیا لیکن’’اک واری فیر شیر‘‘ کی طرف چلتے ہیں میاں نواز شریف کی ہر بات تسلیمیہ بھی تسلیم کہ ان کا جرم پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ تھایہ بھی تسلیم کہ دھرنے سپانسرڈ تھےیہ بھی تسلیم کہ دھرنے کے دوران کسی ایجنسی کے سربراہ نے انہیں استعفیٰ دینے یا طویل رخصت پر جانے کا پیغام دیا، جسے آپ نے پائے حقارت اور دست جرأت سے ٹھکرا کر جدہ جانے سے انکار کردیایہ بھی تسلیم کہ آصف زرداری نے آپ سے پرویز مشرف کے مارشل لاء کی توثیق کے لئے کہایہ بھی تسلیم کہ آپ کو بھاری پتھر نہ اٹھانے کی دھمکی دی گئی جس کے جواب میں آپ جیسے’’نظریاتی‘‘ نے مائونٹ ایورسٹ اٹھا لینے کا انقلابی فیصلہ فرمایاحضور! آپ نے جو کہا تسلیم بلکہ جو نہیں کہا وہ بھی تسلیم اور جوآئندہ کبھی کہیں گے وہ بھی تسلیم لیکن جہاں اتنے ڈھیر سارے، دیر سے ہی سہی سنسنی خیز’’رازوں‘‘ سے پردے اٹھارہے ہیں…..’راز ‘‘ سے بھی تو پردہ اٹھادیں، قوم کے وسیع تر مفاد میں یہ’’راز‘‘ بھی تو افشا کردیں کہ اربوں ڈالرز کی جائیدادیں کہاں سے آئیں؟ اک ننھی منی ہلکی پھلکی منی ٹریل کا سوال ہے بابا! جس کے بعد ساری ’’سازشیں‘‘ دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ دشمنوں، حاسدوں کی توپوں میں کیڑے پڑجائیں گے۔ گلیاں ویران ہوجائیں اور مرزا یار تن تنہا پاناما سے پارک لین اور کوریا سے جاتی عمرا تک دندناتا نہیں……’دھن دھناتا‘‘ پھرے گا۔ مودی جائے گا سجن جندل آئے گا۔ بھارت ماتا کے ساتھ نارملائزیشن ہی نہیں کارٹلائزیشن بھی ہوجائے گی۔ لاہور اور امرتسر کے جاتی عمرے ٹچ بٹنوں کی جوڑی کی طرح آپس میں یوں مل جائیں گے جیسے گہری پیاس ا ور پانی لیکن….نواز شریف بن کے رہنا ہے تو اس’’راز‘‘ شریف سے پردہ اٹھانا ہوگا کہ…..کہاں سے لائی ہو یہ جھمکے؟کس نے دئیے ہیں یہ جھمکے؟کیا کہہ رے ہیں یہ جھمکے؟خود نہیں بتا سکتے تو مفرور بیٹوں کو حکم دو، حاضر ہوں اور حقائق بتا کر ایک ہی جھٹکے میں ساری’’سازشیں‘‘ ناکام بنادیں۔ ’’جھمکوں‘‘ کا جواب نہ ملا تو جلسوں کے ’’ٹھمکوں‘‘ کی قطعاً کوئی حیثیت ہے نہ اوقات۔ سہرا بندی ہوتے ہی طفیلیوں کی بارات ایسے تتر بتر ہوگی جیسے کبھی آئی ہی نہ ہو۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں