تبت کیا ہے

javed-ch
تبت میں بودھ مت سے پہلے بادشاہت ہوتی تھی‘ ملک میں Nyatri Tsenpoسے Langdarma تک 42 بادشاہ گزرے ہیں‘ ان میں تین بہت اہم ہیں‘ Songtsen Gampo(33 واں بادشاہ) Trisong Detsen( 38 واں بادشاہ) اور Ralpacan (41 واں بادشاہ)‘ تبت کا 33 واں بادشاہ بودھ مت کو علاقے میں لے کر آیا‘ یہ ہندوستان گیا‘ بودھ مت کا مطالعہ کیا اور ہندوستان کے بودھ مبلغین کو تبت کی دعوت دی‘ دنیا میں مہاتما بودھ کے تین اہم ترین مجسمے ہیں‘ یہ تینوں مجسمے بودھ کی زندگی میں بنائے گئے تھے‘ پہلے دو مجسمے بودھ کے والد نے ان کے بچپن میں تیار کرائے تھے۔

پہلا مجسمہ بودھ کی آٹھ سال کی عمر میں بنایا گیا‘ دوسرا بارہ سال اور تیسرا ان کی 80 سال کی عمر میں تیار کیا گیا‘ 12 سال کا مجسمہ نیپال اور 8 سال کا بت چین کے شاہی خاندان کے پاس تھا جب کہ 80 سال کا مجسمہ بودھ کے آبائی شہر بودھ گیا میں رکھا تھا‘ بادشاہ گمپو یہ مجسمے لہاسا لانا چاہتا تھا چنانچہ بادشاہ نے مجسموں کے لیے نیپال اور چین کے شاہی خاندانوں میں شادیاں کر لیں اور یوں دونوں ملکائیں جہیز میں دونوں مجسمے لے آئیں۔

بودھ گیا کا مجسمہ کسی شخص یا خاندان کی ملکیت نہیں تھا چنانچہ وہ تیسرا مجسمہ لہاسا نہیں لا سکا‘گمپونے دونوں مجسموں کے لیے الگ الگ عبادت گاہیں تعمیر کرائیں‘ پہلی اور سب سے مشہور عبادت گاہ کا نام جوکنگ ٹمپل ہے‘ یہ جگہ چین کی ملکہ نے منتخب کی ‘ وہ روحانی علوم کی ماہر تھی‘ اس کا کہنا تھا یہ دنیا انسانی بدن کی طرح ہے‘ اس بدن میں گیارہ ٹمپل ہیں‘ جوکنگ 12 واں ٹمپل ہو گا اور یہ دل کی جگہ بنے گا۔
ملکہ نے ان 12 ٹمپلز کے بدن کی تصویر بھی بنوائی‘ یہ تصویر آج بھی جوکنگ ٹمپل میں موجود ہے‘گمپو نے ملکہ کی ہدایت کے مطابق ٹمپل بنوایا اور پھر مہاتما بودھ کا مجسمہ ٹمپل کے اندر رکھوا دیا یوں جوکنگ ٹمپل بودھوں میں مقدس عبادت گاہ سمجھی جانے لگی‘ عبادت گاہ کے گرد تین سرکل ہیں‘ بیرونی سرکل‘ درمیانی سرکل اور اندرونی سرکل‘ بیرونی سرکل بارہ کلو میٹر طویل ہے‘ بودھ فجر کے وقت اس سرکل میں پیدل چلنا شروع کرتے ہیں اور دعائیں پڑھتے پڑھتے یہ سرکل مکمل کرتے ہیں‘ بعض بودھ بارہ کلو میٹر کا یہ فاصلہ زمین پر لیٹ کر سجدہ کرتے ہوئے بھی پورا کرتے ہیں‘ بودھ سجدہ بھی بہت دلچسپ ہے‘ یہ لوگ ہاتھ جوڑتے ہیں‘ جڑے ہوئے ہاتھ ماتھے‘ ہونٹوں اور سینے پر لگاتے ہیں اور منہ کے بل زمین پر لیٹ جاتے ہیں‘ ہاتھ سر کی طرف آگے بڑھاتے ہیں‘ دونوں کو گھما کر سائیڈوں پر لاتے ہیں اور پھر سیدھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

یہ ایک مشکل عمل ہوتا ہے لیکن یہ لوگ دن میں درجنوں مرتبہ یہ عمل کرتے ہیں‘ شدت پسند بودھ ان سجدوں میں بارہ بارہ کلومیٹر کا سفر بھی طے کر جاتے ہیں‘ درمیانی سرکل جوکنگ ٹمپل کی بیرونی دیواروں کے گرد ہے‘ یہ ایک کلو میٹر طویل ہے‘ یہ ڈیڑھ ہزار سال پرانی گلیوں اور دکانوں کے درمیان سے گزرتا ہے‘ ہزاروں لوگ روزانہ اس سرکل سے بھی گزرتے ہیں اور تیسرا سرکل ٹمپل کے اندر ہے۔

یہ مقدس ترین سرکل ہے‘ یہاں بہت کم لوگوں کو طواف کی سعادت نصیب ہوتی ہے‘ٹمپل کا صحن بھی اہم ہے‘ یہاں دلائی لامہ سینئر بھکشوؤں کا امتحان لیتا تھا اور انھیں لامہ کی ڈگری دیتا تھا‘ دلائی لامہ کا تخت آج بھی صحن کے کونے میں پڑا ہے‘ بادشاہ Trisong Detsen (38 واں بادشاہ) بھی بہت مشہور ہوا‘ تری سانگ نے تبتی زبان تخلیق کرائی اور بودھ مت کو ریاست کا سرکاری مذہب بنایا جب کہ 41 ویں بادشاہ رال پاکن نے بودھ لاموں کو ریاست کا مختار اور مالک بنا دیا‘ یہ بادشاہ بعد ازاں اپنے شہزادے کے ہاتھوں قتل ہو گیا جس کے بعد تبت میں خانہ جنگی شروع ہو گئی‘ وہ تاریخ کا سیاہ ترین دور تھا‘ اس دور کے آخر میں بادشاہت ختم ہو گئی اور دلائی لامہ ریاست کا وارث بن گیا۔

بادشاہ گمپو سے رال پاکن تک تبت میں بودھ مت کے چار فرقے پیدا ہوئے‘ پہلا فرقہ ریڈہیٹ (سرخ ٹوپی) تھا‘ یہ لوگ سر پر سرخ ٹوپی پہنتے تھے‘ یہ فاقہ کشی اور مراقبے پر یقین رکھتے تھے‘ ان کے بعد ’’بلیک ہیٹ‘‘ آئے‘ یہ سیاہ رنگ کی ٹوپی پہنتے تھے اور یہ مراقبے کے ساتھ علم پر یقین رکھتے تھے‘ خانہ جنگی کے دوران ’’وائیٹ ہیٹ‘‘ (سفید ٹوپی) کا فرقہ ظاہر ہوا‘ یہ لوگ امن کے لیے جنگ پر یقین رکھتے تھے اور خانہ جنگی کے آخر میں ییلو ہیٹ (پیلی ٹوپی) والے لوگ سامنے آئے‘ یہ مضبوط ترین فرقہ تھا‘ یہ اب تک موجود ہے۔
اشتہارات



دلائی لامہ اسی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں‘ یہ لوگ مراقبے کے ساتھ علم‘ مارشل آرٹ‘ آرام دہ پر آسائش زندگی اور حکومت سازی پر بھی یقین رکھتے ہیں‘ دلائی لامہ تبت کا سرکاری‘ روحانی اور مذہبی عہدہ ہوتا ہے‘ دلائی لامہ شادی نہیں کرتا چنانچہ یہ لوگ سمجھتے ہیں ایک دلائی لامہ اپنی جسمانی عمر پوری کرنے کے بعد کسی نئے بدن میں دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے لہٰذا انتقال کرتا ہوا دلائی لامہ انتقال سے قبل خط میں اگلے دلائی لامہ کا مقام پیدائش‘ والدین کا نام اور جسمانی نشانیاں بیان کر جاتا ہے۔

یہ لوگ نئے دلائی لامہ کے لیے مطلوبہ مقام اور گھر کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں‘ نیا دلائی لامہ پیدا ہوتا ہے‘ یہ اس میں مطلوبہ نشانیاں دیکھتے ہیں اور یہ پھر اسے پوٹالہ محل لے آتے ہیں‘ نئے دلائی لامہ کی ایک مذہبی رہنما اور بادشاہ کی طرح تربیت کی جاتی ہے‘ یہ جوان ہو کر عنان اقتدارسنبھال لیتا ہے‘ تبت کے 14 ویں دلائی لامہ 1959ء میں تبت میں شورش کے دوران بھارت چلے گئے‘ یہ اس وقت 24سال کے تھے‘ انھوں نے بھارت میں جلاوطن حکومت بنا رکھی ہے‘ نوبل کمیٹی نے انھیں 1989ء میں نوبل انعام سے نوازا‘ تبتی زبان میں لامہ گرو اور دلائی گیان کا سمندر ہوتا ہے‘ بودھوں کے تیسرے دلائی لامہ نے منگولوں کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کیے‘ منگولوں نے بودھ مت اختیار کر لیا‘ چوتھا دلائی لامہ منگولوں میں سے تھا‘ پانچواں اور چھٹا دونوں دلائی لامہ اہم تھے‘ پانچویں دلائی لامہ نے ملک میں چار بڑی مونٹیسوریز اور بودھوں کی دوسری مقدس ترین عبادت گاہ پوٹالہ محل (Potala Palace) بنوایا‘ پوٹالہ پہاڑ پر 13 منزلہ خوبصورت عمارت ہے‘ عمارت کے ہزار کمرے اور ہزار کھڑکیاں ہیں۔

9 منزلوں کا رنگ سفید اور چار کا سرخ ہے‘ سفید منزلوں میں حکومت کے دفاتر ہوتے تھے جب کہ چار منزلیں مذہبی ہیں‘ ان چار منزلوں میں 8 دلائی لامہ مدفون ہیں‘ یہ لوگ دلائی لامہ کی ممی بنا کر اس پر اسٹوپا یا سونے کا گنبد بنا دیتے ہیں‘ ایک ایک دلائی لامہ کے اسٹوپا پر دو دو ارب روپے کا سونا اور جواہرات لگے ہیں‘میں نے ایک دلائی لامہ کے اسٹوپا پر 3714 کلو گرام خالص سونے کا بورڈ پڑھا‘ آپ اس سے اسٹوپاز کی مالیت کا اندازہ لگا لیجیے۔

بودھ دلائی لامہ کے شاگردوں کی لاشیں جلا کر ان کی راکھ کا اسٹوپا بنا دیتے ہیں اور یہ ان سے کم تر درجے کے لاماؤں کی لاشیں چھوٹے چھوٹے حصوں میں کاٹ کر زائرین میں تقسیم کر دیتے ہیں اور زائرین لاشوں کے ٹکڑوں کو برکت کے لیے اپنے بدن پر مل لیتے ہیں‘ پانچویں دلائی لامہ نے پوٹالہ محل بھی بنوایا اور درس گاہیں بھی‘ یہ محل کی تعمیر کے دوران انتقال کر گیا‘ اس کے مرید خاص نے انتقال کی خبر چھپالی‘ اس کا خیال تھا خبر عام ہو گئی تو محل کی تعمیر رک جائے گی۔

دلائی لامہ کے انتقال کا اعلان ہوا تو چھٹا دلائی لامہ اس وقت تک بڑا بھی ہو چکا تھا اور یہ زندگی کی لذتوں سے بھی واقف ہو چکا تھا‘ یہ جب محل میں لایاگیا تو یہ دن کو زائرین کو زیارت کراتا اور رات کو محل سے نکل کر موج مستی میں مصروف ہو جاتا‘ دلائی لامہ کے استاد اسے روکتے رہے لیکن یہ باز نہ آیا یہاں تک کہ یہ ایک دن محل سے فرار ہو گیا‘ یہ بعد ازاں نیپال کے بارڈر کے قریب فوت ہوا اور وہیں دفن ہوا چنانچہ پوٹالہ محل میں چھٹے دلائی لامہ کا اسٹوپا یا مقبرہ موجود نہیں۔

تبت میں بودھوں کی چار عظیم درسگاہیں ہیں‘ درپنگ (Drepung) شہر کے مضافات میں ہے‘ اس میں کبھی دس ہزار بھکشو ہوتے تھے‘ 14ویں دلائی لامہ نے جلاوطنی کے بعد یہ درس گاہ بھارت میں بنا لی تاہم اصل درسگاہ آج بھی تبت میں موجود ہے‘ سیرا دوسری درسگاہ ہے‘ یہ بھی مضافات میں موجود ہے اور اس کی بھی دو شاخیں بھارت میں موجود ہیں۔

سیرا کے بھکشو روز تین بجے میدان میں بیٹھ کر لاجک کا مقابلہ کرتے ہیں جب کہ تاشی لمپو مونٹیسوری تبت کے دوسرے بڑے شہر شی گیٹسی (Shigatse) میں قائم ہے‘ یہ پہلے دلائی لامہ نے 1447ء میں بنائی تھی‘ بودھوں کی مذہبی کتاب Tipitakaدنیا کی طویل ترین مذہبی کتاب ہے‘ اس کی 225 جلدیں ہیں اور ہر جلد پانچ سو سے ہزار صفحوں پر مشتمل ہے‘ اس کی زبان مشکل اور مفہوم انتہائی مشکل ہے۔

یہ کتاب صرف لامہ سمجھ سکتے ہیں چنانچہ درسگاہوں میں شروع میں مذہبی کتاب کی زبان کی تعلیم دی جاتی ہے اور پھر اس کے مفہوم سمجھائے جاتے ہیں‘ بھکشوؤں کو یہ سمجھتے سمجھتے ستر سال لگ جاتے ہیں چنانچہ یہ اس لحاظ سے دنیا کی طویل ترین مذہبی تعلیم سمجھی جاتی ہے‘ یہ لوگ اپنے ٹمپلز میں دیسی گھی کے چراغ جلاتے ہیں‘ آپ کو ہر ٹمپل میں منوں کے حساب سے دیسی گھی ملتا ہے‘ یہ گھی زائرین لے کر آتے ہیں۔

ٹمپلز میں ہزاروں قیمتی مورتیاں ہیں‘ یہ لوگ زندگی سے بڑھ کر ان مورتیوں کی حفاظت کرتے ہیں‘ درسگاہوں میں زیر تعلیم بھکشو شادی نہیں کرتے‘ یہ اگر شادی کر لیں تو انھیں درسگاہ سے نکال دیا جاتا ہے تاہم یہ اگر اپنا تعلیمی سلسلہ دوبارہ جوڑنا چاہیں تو یہ گھر بار چھوڑ کر واپس آ سکتے ہیں‘ یہ عنابی رنگ کی دو چادریں پہنتے ہیں‘ ایک سے نچلا دھڑ ڈھانپتے ہیں اور دوسری سے اوپری بدن‘ یہ ہاتھ میں تسبیح رکھتے ہیں اور کندھے پر تھیلا‘ یہ خوشبو استعمال نہیں کرتے چنانچہ ان کے قریب سے ناگوار سی بو آتی ہے‘ یہ منہ ہی منہ میں وظیفے بھی کرتے رہتے ہیں۔

مجھے ان میں چھ دن گزارنے کا موقع ملا۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں