عمران ریحام شیرو اور میں ۔۔۔(4)


شیرو اچانک اچھلا‘ جیسے میری طرف لپک رہا ہو۔ عمران نے فوراً اس پر ہاتھ رکھا۔ ریحام نے عمران کی طرف دیکھا‘ جیسے کہہ رہی ہو‘ میں نہ کہتی تھی۔ ریحام نے ایک دفعہ پھر عمران خان کو کہا: اسے باہر بھیج دو۔ ریحام کو چوتھی دفعہ ناکامی ہوئی۔

اب عمران نے نیا حل نکالا۔ شیرو کو اپنی ٹانگ کے نیچے بٹھا دیا اور لات اٹھا کر سامنے پڑی میز پر رکھ دی‘ جہاں کھانے پینے کی چیزیں پڑی تھیں۔ اب صورتحال یہ تھی کہ شیرو عمران کی ٹانگ کے نیچے تھا جب کہ عمران کے جوگرز والا پاوں میز پر تھا اور ان جوگرز کا رخ میرے منہ کی طرف تھا۔

ریحام کو احساس ہوا کہ یہ آداب کے خلاف ہے۔ اس نے عمران کو دیکھا اور میز پر پڑے پاوں کی طرف آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا۔ عمران نے پاوں واپس کھینچ لیا۔

ریحام نے مجھے نظر انداز کرکے سیاسی گفتگو شروع کر دی۔ عمران اس کی گفتگو میں زیادہ دل چسپی نہیں لے رہا تھا۔ ریحام نے میرے سامنے پارٹی معاملات ڈسکس کرنے شروع کر دیے کہ کراچی‘ لاہور‘ پشاور‘ مردان سب جگہ کیا ہو رہا تھا۔ جب وہ جلسوں میں جاتی تھی تو وہاں کیا مناظر دیکھ رہی تھی۔ وہ پارٹی کے اجلاس کی اندورنی تفصیلات بھی بتا رہی تھی۔ عمران خان ہوں ہاں میں جواب دے رہا تھا۔ صاف لگ رہا تھا عمران کو ریحام کی ان باتوں میں دل چسپی نہیں ہے۔ عمران نے جب بھی بات کرنی چاہی‘ ریحام نے ٹوک دیا۔عمران کے چہرے پر بار بار ٹوکے جانے پر ناگواری کے اثرات نمودار ہوئے‘ لیکن وہ خاموش رہا۔ یہ واضح تھا کہ ریحام خان پارٹی کو کنٹرول میں لے چکی تھی‘ تمام سیاسی معاملات سنبھال رہی تھی اور عمران خان کو دوسروں کی موجودگی میں بولنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔ ریحام خان بولتی رہی اور تاثر دیتی رہی کہ وہ اب پارٹی کی نئی باس ہے اور عمران خان ایک بے وقوف اور سادہ بندہ ہے‘ جسے کچھ پتا نہیں۔ وہ عمران خان کو بھی سب کے سامنے ٹوک سکتی تھی۔ اس کے خیال میں وہ پارٹی کو بہتر لائن پر چلا سکتی تھی اور سب کو ہینڈل کر سکتی تھی۔ عمران خان یہ سب کچھ برداشت کرتا جب کہ میں سنتا اور سمجھنے کی کوشش کرتا رہا۔

اس کے بعد ریحام نے آخری کوشش کی کہ شیرو چلا جائے‘ لیکن عمران نے پھر انکار کر دیا۔ اس پر ریحام اچانک اٹھی اور ناگواری سے بولی: تو پھر میں جا رہی ہوں‘ پارٹی کی کچھ خواتین آئی ہیں۔

عمران نے جیسے ریحام خان کے جانے پر شکر کیا ہو۔ شیرو وہیں موجود رہا۔ میسج مل گیا تھا‘ ریحام باہر جا سکتی تھی شیرو نہیں۔ ریحام کے جاتے ہی عمران خان فوراً مطلب کی بات پر آ گیا۔ وہ آگے جھکا اور بولا: دیکھو روف تم سے ضروری بات کرنی ہے‘ مجھے بتایا گیا ہے کہ تم میری مدد کر سکتے ہو۔ ارشد شریف تمھارا دوست ہے؟

میں نے کہا: جی اٹھارہ برس پرانی دوستی ہے۔

عمران خان نے گہری سانس لی اور کہا: یار وہ کئی دنوں سے میرے اور ریحام کے خلاف مہم چلائے ہوئے ہے۔ عمران نے ارشد کی تعریف کی اور کہا: وہ زبردست جرنلسٹ ہے۔ وہ خود اس کے شوز میں جا چکا ہے۔ انٹرویوز دے چکا ہے۔ اب پتا نہیں اچانک اسے کیا ہو گیا ہے۔

عمران بولا: اس نے ٹی وی پر بھی پروگرام کیا‘ جس میں تم بھی موجود تھے۔ وہ ٹویٹر پر بھی روزانہ ٹویٹس ڈال رہا ہے۔ یہ سب کچھ میرے اور ریحام کے لیے پرابلم کا باعث ہے۔ ارشد سے کہو‘ اس نے جو کچھ لکھنا یا بولنا ہے‘ میرے خلاف کرے لیکن ریحام کو اٹیک نہ کرے۔

لگ رہا تھا ارشد شریف، عمران اور ریحام کے اعصاب پر سوار ہو گیا تھا۔ اسے کوئی سورس بنی گالا میں عمران اور ریحام کے بیڈ روم تک کی باتیں بھی بتا رہا تھا۔ ارشد شریف نے کہیں مذاقاً کہہ دیا تھا کہ اسے بیڈ روم کی خبریں چنیوٹ سے ایک رنگ دار روایتی پلنگ سے مل رہی ہیں‘ جو ایک بندے نے انھیں گفٹ کیا تھا۔ اس پلنگ میں ایسی ڈیوائس لگی ہوئی تھی جس سے سب کچھ رِکارڈ ہو کر باہر جا رہا تھا۔ ارشد کی بات کرنے کی دیر تھی کہ فوراً اس پلنگ کو چیک کیا گیا اور میٹریس تک کو گھر سے باہر پھینک دیا گیا کہ شاید اس میں لگی ڈیوائس ان کی بیڈ روم کی باتیں رِکارڈ کرکے باہر پہنچا رہی تھی۔
اب عمران خان شدید پریشان تھا کہ آخر ارشد کو کون یہ سب کچھ بتا رہا ہے‘ اور وہ باتیں ارشد شریف تک کیسے پہنچ رہی تھیں‘ جو بیڈ روم میں ہوتی تھیں؟ عمران سے زیادہ ریحام پریشان تھی کیونکہ ارشد شریف کے زیادہ تر جملوں یا ٹویٹس کا ٹارگٹ وہ تھی۔
اشتہارات



عمران کی یہ بات سن کر میں چند لمحے خاموش رہا۔ ارشد شریف ایک آزاد ذہن کا انسان ہے۔ کم ہی بات مانتا ہے۔ پورے شہر میں کسی کی بات مان لیتا تھا تو وہ میں تھا۔ مجھے امکانات کم ہی لگ رہے تھے کہ ارشد شریف میری بات مانے گا۔ عمران خان کو دباو میں دیکھ کر میں گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ مجھے معذرت کر لینی چاہیے کہ یہ میرے بس سے باہر ہے‘ بہتر ہو گا وہ (عمران) خود بات کر لیں۔ ارشد شریف کو منع کرنا اس لیے بھی مشکل لگ رہا تھا کہ وہ جب ٹویٹس کر رہا تھا تو تحریک انصاف کے میڈیا سیل کے ارکان اور حامی ارشد پر ذاتی حملے کر رہے تھے۔ ارشد بھی جواباً پیچھے ہٹنے کے بجائے روزانہ عمران اور ریحام کی نئی باتیں ٹویٹ کر رہا تھا۔ یوں بات ارشد اور عمران خان کے فینز میں جنگ لڑی جا رہی تھی‘ عمران اور ریحام کو یہ لگ رہا تھا کہ اس ٹویٹر لڑائی میں زیادہ نقصان انھی کا ہو رہا ہے اور اس کو رکوانے کے لیے انھوں نے میرا انتخاب کیا تھا۔

میں نے عمران خان سے پوچھا: آپ نے ارشد شریف سے خود بات کی ہے؟ عمران خان بولا: نہیں‘ میں نے سوچا‘ بہتر ہے تمہارے ذریعے اس کو اپروچ کیا جائے کیوں کہ سب کہتے ہیں‘ وہ آپ کا دوست ہے اور مان جائے گا۔

میں نے کہا: کوشش کر سکتا ہوں‘ کیوں کہ ارشد شریف ایک unpredictable بندہ ہے۔ مان جائے تو پوری دنیا آپ کے حوالے، انکاری ہو جائے تو پھر اسے چاہے لٹکا دیں‘ وہ بات نہیں مانے گا‘ بہرحال آپ کی بات میں وزن ہے‘ اسے آپ کی ذاتی زندگی کو ٹارگٹ نہیں کرنا چاہیے۔

عمران نے ایک گہری سانس لی۔ میں اٹھ کھڑا ہوا۔ عمران خان مجھے باہر گاڑی تک چھوڑنے آیا اور شکریہ ادا کیا۔ اچانک مجھے ایک خیال آیا‘ اور میں نے عمران خان سے پوچھ لیا: میں ارشد شریف کو اس ملاقات اور آپ کی ریکوسٹ کے بارے بتا سکتا ہوں؟ عمران نے فوراً کہا: ہاں‘ بتا سکتے ہو۔

میں بنی گالہ سے نکلا تو شام کے سائے گہرے ہو چکے تھے۔ میں نے ارشد شریف کو فون کیا۔ پوچھا: کہاں ہو۔ وہ بولا: دفتر میں ہوں۔ میں نے کہا: وہیں رکو میں آرہا ہوں۔ جب میں دفتر پہنچا تو عامر متین اور عدیل راجا بھی موجود تھے۔ میں نے بغیر تمہید باندھے ارشد شریف سے پوچھا: بھائی جان تم کیا چاہتے ہو؟

ارشد تھوڑا سا پزل ہو گیا اور بولا: کیا مطلب؟ میں نے کہا: اگر تم اس لیے یہ سب کچھ کر رہے ہو کہ ریحام اور عمران خان میں طلاق ہو جائے تو وہ تمھارے ہاتھ میں ہے۔ ارشد شریف کو جیسے کرنٹ لگا۔ بولا: میں کیوں چاہوں گا‘ میرا اس سے کیا لینا دینا؟ میں نے کہا: ارشد شریف تم بتاو‘ یہ طلاق اگلے تین ماہ میں کرانا چاہتے ہو یا چھے ماہ میں؟

ارشد شریف بولا: لگتا ہے عمران خان سے مل کر آرہے ہو۔ میں نے کہا: جی ہاں۔

میری اور ارشد شریف کی یہ پراسرار گفتگو سن کر عامر متین اور عدیل راجا بھی متوجہ ہو گئے۔ وہ حیران تھے کہ ابھی تو ہنی مون چل رہا ہے‘ اور میں طلاق تک کی خبر لے آیا ہوں۔ کیا عمران خان یا ریحام خان نے مجھے طلاق کی پیشگی خبر دے دی تھی؟

تینوں خاموشی سے مجھے تکنے لگے۔ میں نے دھیمے لہجے میں اپنی اس عجیب و غریب تھیوری یا پیش گوئی کی وضاحت شروع کی۔ کمرے میں واقعی اتنی خاموشی تھی کہ سوئی بھی گرتی تو لگتا بم گرا ہے۔ جب میں نے بات ختم کی تو ارشد شریف‘ عامر متین اور راجا عدیل کے منہ حیرت سے کھلے ہوئے تھے۔ تینوں کو تین سے چھے ماہ میں طلاق کا فرق سمجھ آ گیا تھا‘ اور اس وقت کا فیصلہ کرنے میں ارشد شریف کا کیا کردار تھا‘ اس کا بھی۔

تینوں نے سوچ میں ڈوبے انداز میں سر ہلائے کہ تم درست کہہ رہے ہو‘ اور میں ارشد شریف کے دفتر سے باہر نکل گیا!
(جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں