عمران ریحام شیرو اور میں ۔۔۔(7)


ومی شاہ کے لیے یہ زندگی کے مشکل دن تھے۔ اس کے عمران خان کے ساتھ تعلق کو بیس برس سے زائد عرصہ ہوگیا تھا۔ اب تو وہ باقاعدہ عمران کی پارٹی میں شامل تھا۔ عمران خان بھی اب نومی کو Bro کہتا تھا بلکہ اس کا نِک نیم نومی بادشاہ رکھا ہوا تھا۔

عمران خان کئی دنوں سے ریحام خان سے بہت اپ سیٹ تھا اور یہ بات قریبی دوستوں سے نہیں چھپ سکتی تھی۔ نومی کو علم تھا کہ اندرونِ خانہ بہت کچھ پک رہا ہے۔

عمران خان کو اندازہ ہوگیا تھا کہ ریحام سے شادی کر کے اس نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی۔ عمران خان نے اب اپنے دوستوں کے سامنے بھی تسلیم کرنا شروع کر دیا تھا۔ سرگوشیاں شروع ہوگئی تھیں کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔ سمجھ دار دوست ایسے موقعوں پر کوشش کرتے ہیں کہ دوستوں کے نجی معاملات سے دور رہیں‘ لیکن جب آپ کا دوست گھریلو معاملات ڈسکس کرنے بیٹھ جائے اور مدد کا خواہاں ہوتو کیا کیا جا سکتا ہے۔

عمران خان کو ریحام پر بہت بھروسا تھا اورعمران کو اس کے ماضی کے بارے میں زیادہ پتا نہ تھا۔ اسے عمران کی کم زوری کہیں یا خوبی کہ وہ بہت جلد لوگوں پر بھروسا کر لیتا ہے۔ وہ عمران خان کا انٹرویو لینے آئی تھی اور بات شادی تک پہنچ گئی۔ سیانے کہتے ہیں ڈھلتی عمر کا عشق بہت خطرناک ہوتا ہے۔ وہی اب ریحام اور عمران کے ساتھ ہورہا تھا۔

عمران خان ان دنوں دھرنوں کا ہیرو تھا اور اس کا موڈ اور مزاج اچھا تھا۔ نعرے لگاتا مجمع، ترانوں پر رقص کرتے نوجوانوں کو دیکھ کر عمران خان کا دل بھی جھوم جاتا۔ ٹی وی چینلز پر مسلسل کوریج نے عمران کو نیا جوش دے دیا تھا۔ نواز شریف عمران خان کے دھرنوں سے ڈر گئے تھے اور اس کے بعد عمران خان کا اعتماد آسمان کو چھو رہا تھا۔

عمران ان دنوں بہت خوش گوار موڈ میں رہتا تھا۔ وجہ واضح تھی۔ ایک طرف دھرنوں کی کامیابی اسے نظر آرہی تھی اوپر سے ریحام سے فلرٹ بھی چل رہا تھا۔ ریحام نے اچھے موڈ کا فائدہ اٹھایا۔ عمران نے خود کو ریلیکس رکھنے کے لیے ریحام کے ساتھ رابطہ رکھا جو وقت کے ساتھ ساتھ گہرا ہوتا چلا گیا۔ ریحام اپنی پہلی شادی کی ناکامی سے بہت کچھ سیکھ چکی تھی۔ اسے پتا تھا کہ عمران کی کس کم زوری سے فائدہ اٹھانا ہے‘ لہٰذا وہ بڑے طریقے سے عمران خان کو گھیرتی گئی۔ عمران خان کا خیال تھا کہ وہ خاصا سمجھ دار ہے، اس نے دنیا دیکھی ہے، ایک معمولی ٹی وی چینل کی اینکر کیا کر لے گی۔ عمران کو اس کا اعتماد ہی لے ڈوبا۔

ریحام نے عمران کی اس کم زوری سے فائدہ اٹھایا۔ وہ اچھی انگریزی بول اور لکھ سکتی تھی۔ اوپر سے بی بی سی میں موسم کی خبریں پڑھنے کا بیک گرائونڈ۔ لندن پلٹ۔ عمران اور ریحام کے درمیان بہت کچھ کامن نکل آیا تھا۔ یوں عمران نے ریحام کو دھیرے دھیرے سنجیدہ لینا شروع کر دیا۔ دھرنوں کے دوران ہی بات چیت یہاں تک پہنچی کہ عمران خان نے شادی کا سوچ لیا۔ ریحام خان بھی اس کھیل میں شریک ہوگئی کہ شادی کو خفیہ رکھا جائے گا۔

ریحام نے مشن مکمل کر لیا تھا ۔ اس نے وہی کر دکھایا جو وہ دوست کو لندن کہہ کر آئی تھی کہ وہ پاکستان جا کر ایک پٹھان سیاست دان سے شادی کرے گی۔ جب عمران خان نے ریحام سے خفیہ شادی کی تو شاید بہت کم لوگ یقین کریں گے کہ عمران خان کو واقعی ریحام کے بارے میں کچھ پتا نہ تھا۔ جب شادی ہوگئی اور ریحام نے پرپرزے نکالنے شروع کیے اور معاملات عمران کے ہاتھ سے نکلنا شروع ہوئے تواسے خیال آیا کہ وہ پتا تو کرائے ریحام کون تھی اور برطانیہ میں کیا کرتی تھی۔ عمران خان کو پتا چلا کہ ریحام تو اسلام آباد کی ہر پارٹی میں رات کو پائی جاتی تھی۔ عمران کو کچھ اور معاملات میں بھی ریحام پر شک تھا۔ ان میں سے ایک پاکستانی سیکرٹ ایجنسی کا میجر رینک کا ایک افسر ا ور ایک برطانوی بزنس مین کا معاملہ بھی شامل تھا جس کی عمر عمران خان کو ستر برس بتائی گئی تھی۔
اشتہارات



عمران خان کے لیے یہ بم شیل تھا کیوں کہ وہ یہ ماننے کے لیے تیا ر نہیں تھا‘ کہ ریحام بھی کوئی غلط کام کرسکتی ہے۔ عمران خان نے لندن اپنے دوست کو فون کیا کہ وہ برطانیہ میں ریحام کے بیک گراونڈ کا پتا کرے۔ اس دوست نے عمران خان کو جو کچھ ریحام کے بارے بتایا وہ خوش گوار نہیں تھا۔ عمران خان اپنے اس دوست پر بہت بھروسا کرتا ہے‘ لہٰذا یہ بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔

لندن میں بہت سی چیزیں چیک کرانے کے بعد عمران کا آدھا یقین ریحام سے اٹھ گیا۔ اب جب عمران خان کو بتایا گیا کہ ریحام تو اسلام آباد کی ہر پارٹی میں رات کو موجود ہوتی تھی اور مشروبِ مشرق بھی پیا جاتا تھا تو عمران کو مزید پریشانی لاحق ہوگئی۔

ایک دن نومی بادشاہ سے عمران نے کہا‘ اسے پتا چلا ہے کہ ریحام رات گئے دانیال عزیز کے گھر پر پارٹیوں میں جاتی تھی۔ دانیال تمھارا بھائی ہے‘ پتا تو کرا دو۔
نومی اس معاملے میں بہت حساس تھا۔ اس نے عمران خان کو کہا‘ چھوڑیں خان جی‘ شادی سے پہلے اگر ایسی باتیں تھیں بھی تو بھول جائیں۔ نومی بڑی دیر تک عمران کو سمجھاتا رہا‘ لوگ ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ وہ ایک جرنلسٹ تھی اگر وہ آتی جاتی بھی تھی تو کیا فرق پڑتا ہے۔ عمران نے نومی کو بتایا: نومی بادشاہ یہ بات نہیں ہے۔ ریحام سے اس نے پوچھا تھا کیا ایسی باتیں ہیں تو اس نے صاف انکار کردیا تھا۔ دانیال عزیز کو تو وہ کہتی ہے جانتی تک نہیں۔ یہ سن کر نومی بے ساختہ مسکرا دیا، جس پر عمران کا شک مزید گہرا ہوگیا کہ نومی کچھ چھپا رہا ہے۔ عمران کا کہنا تھا: مسئلہ یہ ہے کہ ریحام نے اس سے بہت جھوٹ بولے ہیں۔ وہ سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن جھوٹ نہیں۔ جب اس نے پوچھا تھا ریحام خود بتا دیتی تو بات وہیں ختم ہوجاتی لیکن ریحام نے قسمیں دے کر یقین دلایا تھا کہ وہ ایک نیک‘ تہجد گزار خاتون ہے۔ عمران کو دکھ اس بات کا تھا کہ ریحام نے اس سے جھوٹ بولا۔

عمران خان نے کہا: نومی بادشاہ دکھ یہ ہے کہ ریحام نے اسے بے وقوف بنانے کی کوشش کی۔ اب نومی کے لیے بہت بڑا مسئلہ تھا کہ وہ کیا جواب دے۔ ریحام پہلے ہی انکار کر چکی تھی کہ وہ تو دانیال عزیز کو جانتی تک نہیں۔ حالاں کہ نومی تو اس سے کئی دفعہ دانیال عزیز کے گھر مل چکا تھا۔ عمران خان نے نومی کو پھر سمجھانا شروع کیا‘ نومی بادشاہ تم بات نہیں سمجھ رہے، مجھے ریحام کے ساتھ مسئلہ نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ اس نے مجھ سے بہت سے جھوٹ بولے ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا اب ریحام کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے اسے ثبوتوں کی ضرورت تھی اور یہ کام صرف نومی بادشاہ ہی کرسکتا تھا۔ نومی نے پھر عمران خان کے ساتھ بحث کی۔ چھوڑیں وہ اب آپ کی بیوی ہے۔ ماضی میں کیا کرتی رہی، اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔

عمران خان نے کہا: نہیں فرق پڑتا ہے اور بہت پڑتا ہے۔ اسے سچ بتانا چاہیے تھا۔ عمران خان کو دکھ اس بات کا تھا کہ اس کی بیوی کے بارے بہت سے مشکوک معاملات کی خبریں اسے اِدھر ُادھر سے مل رہی تھیں اور جب اس نے ان خبروں کی تصدیق لندن سے اپنے قریبی دوست سے کرائی تھی تو وہ سچ نکلیں جب کہ اسلام آباد میں ریحام کی رات کو پارٹیوں میں سرگرمیوں بارے نومی ہی تصدیق کرسکتا تھا۔ نومی نے ابھی تک کوئی ایسا فیصلہ نہیں کیا تھا کہ وہ عمران خان کو ریحام کے بارے میں سچ بتائے گا یا اس کو ثبوت لانے میں مدد دے گا۔

اسی رات عمران خان نے نومی کو میسجز کیے۔ نومی وہ میسجز پڑھ کر حیران ہوا۔ عمران خان کیسی باتیں کر رہا ہے۔ عمران نے نومی کو سخت میسج بھیجا کہ اگر ریحام مشروب پیتی ہے یا پارٹیوں میں جاتی رہی ہے تو کون سی بڑی بات ہے۔ یہ میسج پڑھ کر نومی چونک گیا۔ دن بھر تو عمران خان اس کو گھنٹوں سمجھاتا رہا کہ ریحام کے خلاف ثبوتوں کی کتنی ضرورت تھی، اب رات گئے اسے سخت میسج کررہا تھا کہ کیا فرق پڑتا ہے؛ اگر ریحام پارٹیوں میں یہ سب کچھ کرتی تھی۔ اچانک نومی بادشاہ کے ذہن میں فلیش ہوا۔

کہیں عمران خان کا موبائل ریحام کے ہاتھ تو نہیں لگ گیا؟ اور اس نے سب میسجز پڑھ لیے جو عمران خان نومی بادشاہ کو ریحام کے خلاف دانیال عزیز سے ثبوت اکٹھے کرنے کے لیے کرتا رہا تھا؟ تو کیا اب ریحام خان نیند میں غرق شوہر کا فون چرا کرنومی بادشاہ کو عمران خان بن کر وہ میسجز کر رہی تھی؟
ریحام اور عمران کے درمیان ایک نیا سنسنی خیز کھیل شروع ہوچکا تھا۔
(جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں