مان لیں

javed-ch
میں وزیر صاحب کو باہر چھوڑ کر واپس آیا تو میرا دوست اسی طرح منہ پھلا کر بیٹھا تھا‘ اس کے چہرے پر ناگواری‘ نفرت اور غصے کے تاثرات تھے‘ میںنے زندگی میں کبھی کسی چہرے پر اتنی لکیریں نہیں دیکھی تھیں جتنی اس وقت میرے دوست کے چہرے پر تھیں‘میں خاموش بیٹھ گیا‘وہ بڑی دیر تک اپنے جذبات سے الجھتا رہا۔

ہمارے درمیان وقت سرکتا رہا‘آدھ گھنٹے بعد اس نے سراٹھایا اور معذرت خواہانہ لہجے میں بولا ’’یہ تمہارا وزیر میرا پرانا کلاس فیلو ہے‘ ہم دونوں لنگوٹیے تھے‘آج اس سے بیس برس بعد ملاقات ہوئی تو میں اپنے جوش کو دبا نہیں سکا‘ یہ اس بے تکلفی کا عادی نہیں تھا چنانچہ بات بگڑ گئی‘میں اس پر شرمندہ ہوں‘‘ میںنے اس کی طرف مسکرا کر دیکھا‘اس کی شرمندگی بجا تھی لیکن یہ واقعہ اس سے کہیں دلچسپ تھا۔

ہم دونوں ایک گھنٹہ پہلے دفتر میں بیٹھے تھے‘ اچانک دروازہ کھلا اور وزیرصاحب اندر داخل ہوگئے‘میں ان کے استقبال کے لیے آگے بڑھا‘ میرا دوست بھی اپنی نشست سے اٹھا اور اس نے دور ہی سے ’’اوئے‘‘ کا نعرہ لگادیا‘ اس کے اس نعرے سے وزیر صاحب کا رنگ فق ہوگیا اور مجھے پسینہ آگیا‘ وزیر صاحب چپ چاپ بیٹھ گئے‘ وہ پندرہ منٹ میرے دفتر میں بیٹھے رہے‘ اس دوران میرا دوست انھیں ان کا بچپن یاد کراتا رہا‘ انھوں نے کس بیری سے کتنے بیر توڑے تھے۔

انھوں نے کس لڑکی سے کتنے جوتے کھائے تھے اور انھوںنے کس کس کھمبے کی تاریں اتارکر کہاں کہاں بیچی تھیں‘ وزیر صاحب ہر انکشاف پر جزبزہوجاتے ‘ پہلو بدلتے اور مجھ سے آنکھیں چراتے‘ انھوںنے بڑی مشکل سے چائے ختم کی ‘ اپنی ایک مصروفیت کابہانہ بنایا اور رخصت ہوگئے۔

وہ جب دفتر سے نکلنے لگے تو میرا دوست ان سے بغل گیر ہونے کے لیے آگے بڑھا لیکن وزیر صاحب اسے ’’اگنور‘‘ کرکے باہر نکل گئے‘ میں انھیں پورچ میں چھوڑ کر واپس آیا تو میرادوست شدید جلن اور پشیمانی کا شکارتھا‘میں نے اس سے عرض کیا’’تم اس سارے معاملے کے ہولی سولی مجرم ہو‘ تم نے بڑی کو شش کرکے اپنی بے عزتی کرائی ‘‘۔ اس نے سراٹھا کر میری طرف دیکھا‘ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

میں نے کہا ’’ تمہارا اسٹائل دنیاوی لحاظ سے بھی ٹھیک نہیں تھا اور دینی لحاظ سے بھی‘‘ اس کے چہرے پر تحیر پھیل گیا‘ میں نے عرض کیا ’’ہم لوگ سرمائے کی دنیامیں آباد ہیں‘ ہم لوگ بینکوں میں اکاؤنٹس کھولتے ہیں اور ان اکاؤنٹس میں اپنی پونجی جمع کراتے ہیں‘ یہ بچت ہمارا سرمایہ ہوتی ہے‘ یہ سرمایہ مشکل وقت میںہمارے کام آتا ہے‘ ہم زمین جائیدادبھی بناتے ہیں‘یہ زمین جائیداد ہمیں زندگی میں ہمت‘ حوصلہ اور اعتماد دیتی ہے۔

ہم زیورات بھی خریدتے ہیں‘ ہم پرائزبانڈ‘ لاٹریاں اور ڈالر بھی جمع کرتے ہیں‘ یہ سب سرمائے کی مختلف شکلیں ہیں ‘ یہ سرمایہ مشکل وقتوں میں ہمارے کام آتا ہے‘ کیاتم اس سے اتفاق کرتے ہو؟‘‘ اس نے اثبات میں سرہلادیا‘ میں نے اس سے عرض کیا’’دنیا میں سب سے بڑا سرمایہ انسا ن ہوتے ہیں‘ جہاںہماری دولت‘ زمین جائیداد اور سونا چاندی جواب دے جاتی ہے وہاں ہمارے بہن بھائی اور دوست احباب کام آتے ہیں لہٰذا ہمارا سب سے بڑا اکاؤنٹ انسان ہوتے ہیں‘ وہ لوگ جو ’’ہیومین اکاؤنٹس ‘‘ پر توجہ نہیں دیتے‘جوانسانوں کے ڈیبٹ اور کریڈیٹ کا خیال نہیں کرتے ‘وہ بارشوں کے وقت اکیلے رہ جاتے ہیں اور ان کا مشکل وقت مزید مشکل ہوجاتاہے ‘‘ میرا دوست خاموشی سے میری بات سنتا رہا‘ میں نے عرض کیا ’’ہم لوگ پوری زندگی دوستیاں بناتے ہیں‘ ہم مشکل وقتوں میں اپنے دوستوں کا ساتھ دیتے ہیں۔
اشتہارات



ہم اکٹھے بیر توڑتے ہیں‘ ہم ان کے لیے مارکھاتے ہیں اور ہم دوستی کے استحکام کے لیے روپیہ پیسہ بھی خرچ کرتے ہیں لیکن ہمارا دوست جب زندگی میں آگے نکل جاتاہے‘ وہ سی ایس ایس کرکے بڑا افسر بن جاتاہے‘ وہ وزیر ہوجاتاہے یا وہ صنعت کاراور کارخانے دار بن جاتاہے تو ہم اسے ’’اوئے‘‘ کہہ کر ناراض کردیتے ہیں‘ ہم اس سے فاصلے پر چلے جاتے ہیں‘ کیا ہمارا رویہ عقلی لحاظ سے درست ہے؟ ‘‘ میرے دوست نے نفی میں سرہلادیا‘ میںنے اس سے کہا ’’ہم کتنے بے وقوف لوگ ہیں‘ ہمارا دوست جب ہماری طرح بے بس‘ بے اختیار اور غریب تھا تو ہم اس کی عزت کرتے رہے لیکن جب وہ ہماری مدد کرنے کے قابل ہوا تو ہم نے اس کی بے عزتی شروع کردی‘ ہم نے اسے ناراض کردیا‘‘ میں خاموش ہوگیا۔

وہ بولا ’’ہمیں کیا کرناچاہیے‘‘ میںنے عرض کیا’’ہمیں دوست کی کامیابی کو فوراً تسلیم کرلینا چاہیے‘ ہمیں اپنے دوستوں کے عروج کے زمانے میں انھیں ماضی کے مقابلے میں زیادہ عزت دینی چاہیے‘ ہمیں ان کی ترقی کومان لینا چاہیے‘‘وہ خاموشی سے مجھے دیکھتارہا‘ میںنے عرض کیا’’ یہ دنیا وی پہلو تھا‘ اب آتے ہیں اس واقعے کے دینی پہلو کی طرف‘ میں تم سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں‘‘ وہ ہمہ تن گوش ہوگیا‘ میںنے پوچھا ’’ نمرود‘ فرعون اورابو جہل کا انجام کیوں براہوا تھا؟‘‘ اس نے تھوڑی دیر سوچا اور مسکرا کر بولا ’’یہ لوگ مشرک تھے لہٰذا یہ اللہ کے عذاب کا شکارہوگئے‘‘ میں نے ہاں میں گردن ہلائی اور اس کے بعد عرض کیا ’’میرے عزیز یہ فقط ایک پہلو ہے۔

اس کا ایک دوسرا پہلوبھی ہے‘‘اس نے پوری طرح آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا‘ میںنے عرض کیا’’اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کرام کو عزت بخشی لیکن ان لوگوںنے انبیاء کرام کی توہین شروع کردی چنانچہ یہ لوگ اللہ کے عذاب کا شکار ہوگئے‘ تم دیکھ لو ان انبیاء کرام کے ادوار میں بے شمارایسے لوگ تھے جو پوری زندگی شرک پر قائم رہے لیکن اللہ تعالیٰ نے انھیں کسی قسم کی سزا نہ دی‘ کیوں؟ کیونکہ یہ لوگ شرک کے ساتھ انبیاء کرام کی توہین نہیں کرتے تھے لہٰذااللہ تعالیٰ نے انھیں نمرود‘ فرعون اور ابوجہل کے انجام سے بچائے رکھا‘ میرا دعویٰ ہے جب قدرت لوگوں کو عزت دیتی ہے تو اس کی خواہش ہوتی ہے ۔

اس کے بندے بھی اس کے فیصلے کا احترام کریں‘ وہ بھی اس شخص کی عزت کریں لیکن جب کوئی شخص ان لوگوں کی توہین کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے برداشت نہیں کرتا‘ وہ اسے اپنے فیصلے‘ اپنے کرم اور اپنے رحم کی توہین سمجھتا ہے ‘‘ میں رکا‘ میرا دوست خاموشی سے دیکھتا رہا۔

میں نے عرض کیا ’’اللہ تعالیٰ کو انسان کی کوئی ایک ادا پسند آجاتی ہے جس کے بدلے یہ اسے نیک نامی سے نوازتا ہے لہٰذا میرا خیال ہے اللہ تعالیٰ جسے عزت دے ہمیں اس کی توہین کرنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے‘ ہمیں اس کی برتری تسلیم کرلینی چاہیے بصورت دیگر ہم فرعون کے انجام کا شکار ہوجاتے ہیں‘‘میرے دوست نے میری بات سنی‘ قہقہہ لگایا اور ہنس کر کہا ’’واہ آپ نے کیا شاندار فلسفہ خوشامد بیان فرمایا ہے‘ یہ فلسفہ اور یہ کھوکھلے لوگ آپ ہی کو مبارک ہوں‘‘ وہ اس کے ساتھ ہی اٹھا اور میرے ساتھ ہاتھ ملائے بغیر روانہ ہو گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں