شریف اور نیازی۔ ایک ہی سکے کے دو رخ


’’میاں نوازشریف اور عمران خان کی لڑائی تو سمجھ میں آتی ہے لیکن ان کی خاطر ایک دوسرے سے لڑنے والوں کی منطق سمجھ میں نہیں آتی ۔ کیونکہ طریق واردات کا فرق تو ہوسکتا ہے لیکن دونوں کی طرز زندگی اور سیاست میں فرق کرنا مشکل ہے ۔ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور دونوں اپنے اردگرد کھوٹے سکوں کو جمع کرکے اپنی اپنی سیاسی دکان لگائے ہوئے ہیں ۔بات دونوں غریب کی کرتے ہیں لیکن غریبوں سے دونوں دور بھاگتے ہیں۔ ایک رائے ونڈ کے شاہی محل میںباشاہوں کی طرح رہتے تھے اور دوسرے بنی گالہ میں عوام سے دور عالی شان محل میں شہزادوں کی طرح زندگی گزاررہے ہیں ۔مزاجاً دونوں بادشاہ ہیں ۔ میاں نوازشریف ہر قیمت پر اپنی وزارت عظمیٰ بچانا چاہتے ہیں اور عمران خان ہر قیمت پر اس کرسی پر قبضہ جمانا چاہتے ہیں ۔ اول الذکر وزارت عظمیٰ کو بچانے کے عمل میں کسی بھی چیز بشمول ذاتی اور خاندانی عزت ،وفادار ساتھیوں یا پھر قومی اداروںتک کی قربانی دینے کو تیار ہیں اور ثانی الذکر اس کو پانے کے لئے اخلاقیات، تہذیب اورجمہوریت غرض ہر چیز قربان کرنے کو تیار ہیں ۔ اول الذکر صرف اور صرف اپنے خاندان سے مخلص ہیں اور باقی سب انسانوں کو مہرہ سمجھتے ہیں جبکہ ثانی الذکر صرف اپنی ذات سے مخلص ہیںاور رشتہ داروں سمیت اپنے وفاداروں کو بھی بھیڑ بکری سمجھتے ہیں۔
میاں صاحب کے ساتھ جس نے بھی وفا کی ، جواب میں دغا کرکے انہوں نے قرض اتار دیا جبکہ خان صاحب کو جس نے بھی عزت دی ، جواب میں اسے بے عزت کرکے حساب چکا دیا۔ جمہوریت کا نام دونوں لیتے ہیں لیکن میاں نوازشریف خاندانی آمریت پر یقین رکھتے ہیں جبکہ عمران خان شخصی آمریت پر ۔ میاں نوازشریف سے اختلاف کرنے والا غوث علی شاہ کیوں نہ ہو، پارٹی میں نہیں رہ سکتا اورعمران خان سے اختلاف کرنے والا پارٹی صدر جاوید ہاشمی کیوں نہ ہو، اس جرات کے بعد ساتھ نہیں رہ سکتا ۔ میاں نوازشریف کے اقتدار کے دنوں کے دوست الگ جبکہ اپوزیشن کے الگ ہوتے ہیں جبکہ عمران خان کے دن کے ساتھی الگ جبکہ رات کے الگ ہوتے ہیں ۔ میاں نوازشریف عربوں سے جبکہ عمران خان ارب پتیوں سے مرعوب ہیں ۔ وہ عربوں کی جیب کی گھڑی ہیں اور یہ ارب پتیوں کے ہاتھ کی چھڑی ہیں ۔ میاں نوازشریف محسن کشی کے لئے مشہور ہیں اور عمران خان بھی اس معاملے میں ثانی نہیں رکھتے ۔ جنرل ضیاء الحق سے لے کر فاروق لغاری تک میاں صاحب نے جس جس کو سیڑھی بنایا ، پھر انہی کے درپے ہوگئے جبکہ عمران خان نے بھی ماجد خان ، حفیظ اللہ نیازی، جنرل پرویز مشرف ، جنرل اشفاق کیانی جیسے ایک ایک محسن کے ساتھ حساب برابر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ میاں نوازشریف پاکستان کے ذہین ترین انسان ہیں لیکن تاثر یہ دیتے ہیں کہ جیسے وہ بڑے سیدھے سادے ہیں ۔اسی طرح عمران خان کا شمار بھی پاکستان کے چالاک اور ذہین ترین سیاستدانوں میں ہوتا ہے لیکن انہوں نے مشہور کر رکھا ہے کہ بڑے کھرے انسان ہیں ۔ میاں نوازشریف کی ذہانت کا اندازہ اس سے لگا لیجئے کہ بڑی خوبصورتی کے ساتھ انہو ں نے اپنے کاروبار کو فوجی جرنیلوں تک رسائی کے لئے ، پھر ان جرنیلوں کو سیاست میں وارد ہونے کے لئے اور پھر سیاستدان بننے کے بعد اسی سیاست کو ان جرنیلوں کو اپنا تابع بنانے کے لئے استعمال کیا ۔۔۔۔ عمران خان کی ذہانت کا اندازہ اس سے لگالیجئے کہ پہلے انہوںنے پوری ٹیم کی جیت صرف اپنے نام کردی ۔ پھر کرکٹ کی شہرت کو یہودی خاندان کی ارب پتی خاتون سے شادی کے لئے ، پھر اس شہرت کو اسپتال کے لئے اور پھر اسپتال کو سیاست کے لئے استعمال کیا ۔ جب ان کو اندازہ ہوگیا کہ پاکستان میں اصل قوت فوج ہے تو پہلے پرویز مشرف اور اس کے بعد ان کے جانشینوں سے ساز باز کرنے لگے ۔ ان کی ذہانت کا اندازہ اس سے لگا لیجئے کہ کبھی اس قوت سے ٹکر نہیں لی جو حقیقت میں فائدہ یا نقصان پہنچا سکتی ہے ۔ ہر حاضر سروس جرنیل سے بنا کے رکھتے ہیں اور جوریٹائرڈ ہوتا ہے ، اس کی مخالفت کرکے اپنا نام بہادروں کی صف میں شامل کردیتے ہیں ۔ طالبا ن جب تک خطرہ تھے ، ان کے خلاف کبھی نہیں بولے لیکن جب طالبان کمزور پڑ گئے تو ان کے مخالف بن کر غازیوں کی فہرست میں اپنا نام درج کرلیا۔
اشتہارات



محترم میاں نوازشریف ذاتی اور سیاسی معاملات میں انتہائی معصوم چہرے کے ساتھ بمع اہل و عیال جھوٹ بولتے ہیں جبکہ محترم عمران خان نہایت رعونت بھرے لہجے میں اپنے چمچوں کے ساتھ باجماعت جھوٹ بولتے ہیں۔ میاں صاحب نے اپنے جیالوں کو اپنے چند اہل خانہ اور چند من پسند بیوروکریٹس کی قدم بوسیوں پر مجبور کیا جبکہ خان صاحب نے بھی اپنے متوالوں اور کئی سال سے ساتھ دینے والوں کوجہانگیر ترین ، مصطفیٰ کھر، پرویز خٹک اور اسی نوع کے دیگر سرمایہ داروں کے قدموں میںلابٹھایا ۔ غرض ایک ایک طریقے سے اپنے چاہنے والوں کو بے عزت کررہا ہے اور دوسرا دوسرے طریقے سے ۔ اداروں کا نام دونوں بہت لیتے ہیں لیکن دونوں اداروں کے یکساں دشمن ہیں ۔ میاں صاحب نےنیب وغیرہ کے ساتھ جو کچھ کیا سب کے سامنے ہے۔ خان صاحب نے پختونخوا میں اپنے بنائے ہوئے احتساب کمیشن کا جو حشر کیا ،کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ ایک نے سپریم کورٹ پر حملہ کروایا تو دوسرے نے سپریم کورٹ کی عمارت پر گندے کپڑے ڈلوائے۔ ایک عدالت کو ڈراتے ہیں اور دوسرے اسے دھمکاتے ہیں ۔ یہ سب مشترکات اپنی جگہ لیکن کچھ لوگ یہ تاثر دیتے رہے کہ شاید مالی معاملات میں خان صاحب ،میاں صاحب سے مختلف ہیں لیکن اللہ کا شکر ہے کہ وہ غلط فہمی بھی دور ہوگئی ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر میاں نوازشریف کا کل مالی سرمایہ لندن میں ہے تو عمران خان صاحب کا کل خاندانی سرمایہ لندن میں ہے ۔ میاں صاحب ہر دوسرے ماہ اپنے مالی معاملات کا جائزہ لینے لندن جاتے ہیں تو خان صاحب ہر دوسرے ماہ خاندانی معاملات ، جس سے ان کے مالی بھی جڑے ہیں کو دیکھنے لندن جاتے ہیں ۔ نوازشریف کو معصوم سمجھ رہے تو صرف دانیا ل عزیز اور طلال چوہدری سمجھ رہے ہیں جو کل تک پرویز مشرف کے مدح خواں تھے اور عمران خان کو معصوم سمجھ رہے ہیں تو صرف علیم خان اور فواد چوہدری سمجھ رہے ہیں جو کل تک پرویز مشرف کے ساتھی اور ترجمان تھے‘‘۔
مندرجہ بالا اقتباس میرے اس کالم کا ہے جو روزنامہ جنگ کے اسی صفحہ پر تقریباً ایک سال قبل (3جون 2017) کو ’’نوازشریف اور عمران خان نیازی‘‘ کے زیرعنوان شائع ہوا۔ اس کالم پر مسلم لیگ(ن) والے بھی شدید ناراض تھے اور نوازشریف کے کچھ چاہنے والے شکوہ کررہے تھے کہ ان کے لیڈر کو کیوں عمران خان سے تشبیہ دی گئی لیکن پی ٹی آئی کی قیادت تو اس قدر برہم ہوئی کہ خصوصی طور پر بنی گالہ کی ایک میٹنگ میں اسے ڈسکس کیا اور پھر ایک تنخواہ دار افتخار درانی کی قیادت میں اس کالم کا اثر توڑنے کے لئے میرے خلاف باقاعدہ مہم چلائی گئی ۔ سوشل میڈیا پر نیازی صاحب کے متوالے ان نوجوانوں نے جو اس وقت ملک کے طول و عرض میں ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر احتجاج کررہے ہیں ،نے بے تحاشہ گالم گلوچ سے نوازا ۔ میڈیا میں موجود اپنے لوگوں سے کالم لکھوائے اور ٹاک شوز کروائے گئے جن میں نیازی صاحب کو فرشتہ اور نوازشریف کو تمام برائیوں کی جڑ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ۔ تاہم اللہ کا شکر ہے کہ انتخابات کے لئے پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد نیازی صاحب کے چہرے پر باقی ایک اور نقاب بھی اتر گیا ۔ اگر آنکھوں سے تعصب یا مفاد کا پردہ اٹھایا جائے تو ہر کوئی دیکھ سکتا ہے کہ نیازی کسی بھی حوالے سے نوازشریف سے مختلف نہیں ۔ بلکہ اب تو دونوں کی ایک اور مماثلت بھی کھل کر سامنے آگئی ۔ وہ یہ کہ جس طرح میاں نوازشریف کو بے نظیر بھٹو کے خلاف مہرے کے طور پر استعمال کیا گیا ، اسی طرح اب نیازی صاحب کو نوازشریف کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے ۔ جس طرح نوازشریف کے ذریعے بے نظیر بھٹو کو غدار اور انڈین ایجنٹ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ، اب وہی کام نوازشریف کے معاملے میں نیازی صاحب سے لیا جارہا ہے ۔ تاہم ایک فرق ضرور ہے ۔ وہ یہ کہ نوازشریف کی ضرورت وزیراعظم بننے کے بعد ختم ہوجاتی تھی البتہ لگتا ہے کہ نیازی صاحب کی زندگی کی یہ سب سے بڑی آرزو پورے ہوئے بغیر ان کی ضرورت بھی ختم ہوجائے گی ۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں