کیا ہم حالت عذاب میں ہیں؟


سخت پریشانی و مایوسی میں ایک فقرہ عموما لوگوں کی زبان پر ہوتا ہے ، ’’سب بلاؤں نے ہمارا ہی گھر دیکھ لیا ہے‘‘۔ پاکستان میں بسنے والے وہ لوگ جو اسے اپنی آخری پناہ گاہ اور جائے امان سمجھتے ہیں، ان میں اہل نظر ہوں یا اہل تدبیر، اللہ کی ذات پر بھروسہ اور توکل کرنے والے ہوں یا قوت بازو کو سرمایہ حیات سمجھنے والے سب کے سب پریشان و مضطرب ہیں۔ دس سالہ ’’عظیم‘‘اور ’’بابرکت‘‘ جمہوری دور اور جمہوری تسلسل کے بوئے گئے کانٹے چننے کا مرحلہ ہے اور آٹھ سالہ جنرل پرویز مشرف کی بوئی گئی زہر ناک فصل اب پھل دے رہی ہے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کی بنیاد ایک ایسی تقسیم پر رکھی گئی جو اللہ کو حاکم والہ ماننے اور نہ ماننے والوں کے درمیان کی جاتی ہے۔ ہر ملک کی فوج ایک نظریے کے لئے جان دیتی ہے، وہ کسی قوم کا جھنڈا بلند کرنا ہو یا کسی نسل کا۔ پاکستان نہ کسی پنجابی، پٹھان، بلوچ اور سندھی کا جھنڈا بلند کرنے کے لئے بنا تھا اور نہ ہی نسل و رنگ کے مفادات کے تحفظ کے لیے۔ اس لیے اس کی فوج کا اولین و آخرین مقصد اللہ کے لئے جان دینا، اس کے لئے شہادت کی آرزو کرنا، اور اسی کے پرچم کو بلند کرنا تھا۔ پاکستان کی سرحدیں بھی اس لیے مقدس ہیں کہ ان کے ایک جانب وہ قوم ہے جو اعلانیہ اپنی وجہ تخلیق اسلام بتاتی ہے، باقی ملکوں میں مسلمان تو ہیں لیکن ان کی بحیثیت قوم وجہ شناخت افغان ہے، ایرانی ہے، ہندوستانی ہے۔ ’’پاکستان‘‘نام تو اس کی وجہ تخلیق کو واضح کرنے کے لئے رکھا گیا، ورنہ چودہ اگست 1947 سے پہلے اس نام کی کوئی نسل تھی اور نہ کوئی قوم۔ اس لیے پاکستان کی فوج ایک نظریاتی فوج ہے، ویسے ہی جیسے ایک کیمونسٹ ملک کی فوج ہوتی ہے یا ایک سرمایہ دارانہ جمہوری ملک کی فوج، اپنے اپنے نظریوں کا تحفظ کرتی ہیں۔ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں پرویز مشرف نے پہلی دفعہ روشن خیالی کے نام پر اللہ سے بغاوت کا اعلان کیا تھا اور گیارہ ستمبر کے بعد چودہ سو سال کی اسلامی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک مسلمان قوم کے مقابلے میں کفر کی متحدہ عالمی افواج کا ساتھ دیا تھا۔ اس کا نتیجہ وہی تھا جو یہ قوم گزشتہ اٹھارہ سال سے بھگت رہی ہے جس کا اعلان اللہ نے سورہ الانعام کی 65 آیت میں کیا ہے ’’وہ تمہیں گروہوں میں تقسیم کرکے لڑائے اور ایک دوسرے کی طاقت کا مزا چکھا دے‘‘۔ اللہ اسے اپناعذاب کہتا ہے۔ اس قوم پر بیک وقت یہ عذاب ساٹھ ہزار انسانوں کی جانوں کی قربانی لے گیا۔ سنبھلنے والے سنبھل گئے، استغفار کے سجدوں سے پناہ بھی مانگتے رہے لیکن عذاب کی کوکھ سے ایک عفریت نے جنم لیا جو آج سب کے سامنے ہے وہ ہے افغانستان کی حکومت، بھارت کی بالادستی اور امریکی سرپرستی کے نتیجے میں مغربی سرحد جو خوفناک الاؤ میں ڈھل چکی ہے اس کی چنگاریاں منظور پشتین اور ڈاکٹر اللہ نذر سے محمود اچکزئی اور پنجاب و سندھ کے سیکولر لبرل پاکستان دشمن گروہوں کی صورت اس خرمن کو آگ لگانے میں مصروف ہیں۔ یہ وہ بلائیں ہیں جو ہمارے ہی اعمال کے نتیجے میں ہم پر مسلط ہیں اور ہم مسلسل خوف کے عالم میں ہیں۔ دس سالہ جمہوری تسلسل اور جمہوری اقتدار کا جو تحفہ اس ملک کو مقدر میں ملا ہے وہ معاشی بدحالی اور اہل حکومت کا اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ 1947 سے لے کر 2007 تک ساٹھ سالوں میں یہ ملک 40.3 ارب ڈالر کا مقروض ہوا۔ ان قرضوں کا مصرف بتایا جا سکتا ہے، وارسک، منگلا، تربیلا اور لاتعداد بیراج بنے، ڈھاکہ سٹیل مل اور کراچی سٹیل مل، ایٹمی ریکٹر، چشمہ پراجیکٹ، ساٹھ ارب ڈالر کے قریب ایٹمی پروگرام پر خرچ ہوئے۔ لیکن 2008ء سے 2013ء تک زرداری حکومت نے 26.6 ارب ڈالر اور 2013ء سے 2018 ء تک نواز شریف نے 34.1 ارب ڈالر قرض لیے لیکن کوئی ان کا مصرف نہیں بتا سکتا۔ ایک سود در سود کی دلدل میں ملک کو ڈبو دیا گیا۔ اس کے علاوہ شریف برادران کے اس کاروباری گھرانے کی حکومت نے ملک کو اس حالت پر چھوڑا کہ 21 جون کو دنیا کی سرمایہ کاری مارکیٹ کی واحد انوسٹر سروس “investor service”موڈی (Moody) نے جو دنیا کے تمام ممالک اور کمپنیوں کے بارے میں یہ بتاتی ہے کہ کون مستحکم ہے اور کون غیر مستحکم، کہاں سرمایہ کاری کرنی چاہیے اور کہاں نہیں۔ اور یہ سروس اس حد تک قابل اعتماد سمجھی جاتی ہے کہ لوگ دنیا کی چھوٹی چھوٹی میونسپل کمیٹیوں میں بھی سرمایہ لگانے سے پہلے اس سے رائے لیتے ہیں، اس سروس نے پاکستان کو منفی (Negative) لسٹ میں ڈال دیا ہے۔ یعنی یہاں سرمایہ کاری خطرے سے خالی نہیں، آپ نقصان اٹھا سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس ملک میں دہشت گردی ہے یا امن و امان کا معاملہ ہے، بلکہ وجہ یہ ہے کہ سیاسی کرپشن کی وجہ سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اس حد تک گر چکے ہیں کہ وہ اگلے بارہ سے اٹھارہ ماہ تک اپنی کمی پوری نہیں کر سکتے۔
اشتہارات



چوروں اور اچکوں کے لئے جو ایمنسٹی سکیم دی گئی تھی، اس سے بھی صرف 2 سے تین ارب ڈالروں کی توقع ہے۔ یوں اگر پاکستان اپنے اثاثوں کو بانڈوں کی صورت عالمی مارکیٹ میں بیچنے نکلیں تو خریدار نہ ملیں اور اگر ملیں بھی تو اتنی کم قیمت پر کہ پورا ملک گروی ہو جائے گا۔ سی پیک کے تحت کام کرنے والے منصوبوں کی حالت یہ ہے کہ چین کے سرمایہ کاری کے ادارے پاکستان کی معاشی صورتحال اور قرضوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سرمایہ نہیں لگا رہے، حب پاور پراجیکٹ جو 3.5 ارب ڈالر کا ہے وہاں کام بند ہو چکا، ساہیوال کول پروجیکٹ کے بارے میں چینی ادارے پاکستان کی 16 ارب روپے کی عدم ادائیگی پر خفا ہیں، شنگھائی الیکٹرک کمپنی کسی بھی وقت کراچی الیکٹرک کا ساتھ چھوڑ سکتی ہے کیونکہ سست روی اور کام چوری کے عذاب کے ساتھ ساتھ نرخوں کا تعین تک نہیں ہو سکا۔ دنیا کا ہر ملک اپنی برآمدات اور درآمدات کے درمیان ایک توازن رکھتا ہے۔ اس کا فرق ہی معیشت کی بہتری اور خرابی کا آئینہ دار ہوتا ہے پاکستان کی درآمدات اس وقت برآمدات سے 16 ارب ڈالر زیادہ ہیں، یعنی ہمیں باہر سے اشیاء منگوانے کے لیے 16 ارب ڈالر چاہیں تاکہ ہماری زندگی کی گاڑی چل سکے جو ہمارے پاس موجود نہیں ہیں یعنی ہم اپنی گاڑیوں کے لئے پٹرول منگوانے کے بھی قابل نہیں۔ پاکستانی روپیہ اپنی تاریخ کے سب سے نچلے مقام پر آ کھڑا ہے، 125 روپے کا ایک ڈالر۔ پاکستان کی سرمایہ کاری مارکیٹ سے کیپٹل گین ٹیکس (CGT) میں 52 فیصد کمی آ چکی ہے۔ گزشتہ سال 12.76 ارب جمع ہوئے تھے جبکہ اس سال 6.2 ارب ڈالر ہوئے ہیں. گردشی قرضے 472 ارب روپوں تک جا پہنچے ہیں۔ معاشی واقتصادی حالت اور عسکری اور بین الاقوامی پریشانی کا عالم یہ ہے کہ یہ ملک یا تو اندرونی اور بیرونی خطرات کی وجہ سے خوف میں مبتلا ہے یا پھر اس کے سر پر بھوک اور قحط کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اللہ ایسی حالت کو قرآن پاک کی سورہ النحل میں یوں بیان کرتا ہے ’’اللہ ایک ایسی بستی کی مثال دیتا ہے جو بڑی پرامن اور مطمئن تھی، اس کا رزق اس کو ہر جگہ سے فراوانی سے پہنچ رہا تھا۔ پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری شروع کردی، تو اللہ نے ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کو یہ مزہ چکھایا کہ انہیں بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا جو وہ اوڑھے رہتے ہیں‘‘ (النحل 112)۔ یہ لباس ہم آج پہنے ہوئے ہیں۔ ہم نے اس مملکت خداداد پاکستان کو جو اللہ کی نعمت تھی، لوٹا کھسوٹا، تباہ و برباد کیا، اس کے نظریے کا تمسخر اڑایا، اور پھر یہ گمان کرتے رہے کہ ہم اللہ کے عذاب کے کوڑے سے بچ سکیں گے۔ شاید نہیں اب کی بار شاید یہ نہیں۔ ہم حالت عذاب میں آچکے ہیں اور یہ فیصلہ کن مہینے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ یہاں الیکشن ہونے والے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ عالمی سطح پر ہماری معیشت کا فیصلہ ہونا ہے، اس لئے نہیں کہ امریکہ اور عالمی طاقتیں بھارت کے ساتھ مل کر ہمارا کیا حشر کرنے والی ہیں۔ ہرگز نہیں، بلکہ اس لئے کہ یہ شاید آخری موقع ہے شاید جو اس قوم کو دیا جا رہا ہے، اللہ کا ایک اصول ہے اگر حالت عذاب میں انسان اللہ سے رجوع کرے تو وہ عذاب عذاب نہیں رہتا آزمائش بن جاتا ہے اور اللہ اس پر پورا اترنے میں مدد کرتا ہے،لیکن اللہ سے منہ موڑ لیں تو پھر عذاب مستحکم ہو جاتا ہے۔ اگر ہم نے اس موقع کو کھو دیا تو اللہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ یہاں موجود ہماری نسل کو بدل کر کسی دوسری نسل کو یہاں آباد کردے کیوں کہ پاکستان نے تو رہنا ہے کہ وہ اس کرہ ارض پر اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، ہم شاید رہیں یا نہ رہیں۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں