گاربیج ان۔ گاربیج آؤٹ


آج سے تقریبا تیس سال قبل پاکستان سمیت دنیا کے تمام پسماندہ، نیم پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک میں ایک جنون پیدا ہوا کہ جدید دنیا میں داخلے کے لئے کمپیوٹر سیکھا جائے۔ اگلی صدیاں کمپیوٹر کی صدیاں ہیں اور جو اس سے بے بہرہ اور نا بلد رہ گیا، اس کی پسماندگی پر مہر لگ جائے گی۔ اس رجحان نے پاکستان میں ایک وبائی صورت اختیار کر لی۔ ہر گلی کی نکڑ اور ہر نو تعمیر عمارت کی کسی منزل پر ایک کمپیوٹر کی تعلیم کا ادارہ کھل گیا۔ برسات کے مینڈکوں اور حبس کے عالم میں اچانک پھوٹ پڑنے والے پتنگوں کی طرح ان کمپیوٹر کالجوں میں ہر سطح کی تعلیم کا بازار کھل گیا۔ میٹرک پاس کے لیے علیحدہ نصاب اور کورس جب کہ ذرا بہتر تعلیمی استعداد رکھنے والے کے لیے گریجوایشن، پوسٹ گریجوایشن، ڈپلوما، اور بعد ازاں ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریوں تک کا اہتمام ہونے لگا۔ ایسا کرنے کے بعد یہ تصور کر لیا گیا کہ اگر ہمارے ملک کی اکثریت میں یہ رجحان تیز تر ہوگیا کہ ہم نے کمپیوٹر کی دنیا میں آگے بڑھنا ہے تو یہ ملک خود بخود ترقی کرنے لگ جائے گا۔وہ ذہین طلبہ جو کبھی اچھے نمبر حاصل کرکے میڈیکل، کالج، انجینئرنگ، یونیورسٹی یا دیگر پیشہ ورانہ تربیت کے اداروں میں داخلے کے خواب دیکھتے تھے، فوری طور پر ان اچھے برے کمپیوٹر کالجوں میں ڈگریوں کے حصول کے لیے تعلیم حاصل کرنے لگے۔ جنہیں پیشہ ورانہ تربیت کے کالجوں میں داخلہ نہیں ملا کرتا تھا، وہ عموما اعلیٰ سائنسی تعلیم کے لیے یونیورسٹیوں سے فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، میتھس، شماریات اور ایسے دیگر علوم میں اعلیٰ اسناد حاصل کرتے، کچھ تدریس کے شعبے میں چلے جاتے، کسی کو علمی تحقیق راس آجاتی اور وہ عالمی سطح کے تحقیقی اداروں سے وابستہ ہوجاتے۔ بہت سے ایسے بھی تھے جن کے میلانات میں سائنس شامل نہیں تھی، وہ فلسفہ، معاشیات، ادب، معاشرت اور دیگر شعبوں میں تعلیم مکمل کرتے اور رزق کمانے میں لگ جاتے۔ کوئی پڑھانے میں مصروف ہوجاتا تو کوئی مقابلے کا امتحان دے کر انتظامیہ میں شامل ہو جاتا۔ چونکہ جدید نظام تعلیم کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہ اسی علم کو عزت و تکریم دیتا ہے جس سے مارکیٹ میں روزگار حاصل کیا جاسکے اور ایسے میں کمپیوٹر کی تعلیم کے بارے میں یہ تاثر عام کر دیا گیا تھا کہ اس علم کا حاصل کرنے والا بے روزگار نہیں رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تمام طلبہ جنہیں سکول میں داخلہ کے وقت اس بات کی لوریاں دی جاتی تھیں کہ تم نے بڑے ہو کر تعلیم حاصل کر کے ڈھیروں پیسے کمانے ہیں اور اپنا معاشی مستقبل محفوظ کرنا ہے، ان کی اکثریت اس نئے روزگار کے دروازے کی جانب ایسے بھاگے کہ ایک بھگدڑ کا سماں پیدا ہو گیا۔ یہ وہ دور تھا جب بچے کھچے علم و تحقیق کے دلدادہ لوگوں نے عوام کو متنبہ کیا تھا کہ کمپیوٹر تو ایک قیمہ بنانے والی یا ایسی دوسری مشینوں کی طرح ایک مشین ہے۔ اس میں چھچھڑے ڈالو گے توصاف گوشت نہیں برآمد ہوگا۔ آپ کا معاشرہ بنیادی سائنسی، غیر سائنسی، معاشرتی اور اخلاقی علوم کے اعلیٰ ترین دماغوں سے ترقی کرتا ہے، ان لوگوں کا علم، تحقیق اور جستجو کا حاصل اگر اس کمپیوٹر میں ڈالو گے تو اس میں علم کا ایک جہان آباد ہوگا اور اگر ایک سرے پر جاہل موجود ہوگا تو دوسرے سرے سے بھی جہالت ہی برآمد ہوگی۔ جس کے بارے میں انگریزی کا مشہور محاورہ گاربیج ان گاربیج آؤٹ یعنی کچرا ڈالو گے تو کچرا ہی نکلے گا بولا جانے لگا۔ دنیا اس خمار سے جلد نکل گئی اور انہوں نے کمپیوٹر کی تعلیم کو ایک علیحدہ نصاب کے طور پر محدود کرکے اس مہارت کو تمام دیگر اعلیٰ علوم کا حصہ بنا دیا۔ پاکستان کا جمہوری نظام بھی گذشتہ ستر سال سے اسی تصور پر قائم ہے کہ اس الیکشن کے کمپیوٹر میں بار بار کچرا ڈالنے سے ایک دن صاف مال برآمد ہو ہی جائے گا۔
اشتہارات



بار بار الیکشن منعقد ہوں گے تو لوگ اس چھلنی میں چھن کر بہتر سے بہتر برآمد ہونے لگیں گے۔ جبکہ عالم یہ ہے کہ 1946ء کے الیکشن سے جو اسمبلیاں وجود میں آئیں اور جنہوں نے پاکستان کی تخلیق میں حصہ لیا، ان میں ایماندار اور پڑھے لکھے، سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے بے غرض افراد کی تعداد کا آج شاید ایک فیصد بھی ہماری اسمبلیوں میں موجود نہیں۔ قیام پاکستان سے لیکر 1970ء کی اسمبلی تک کرپشن اور بددیانتی کی لعنت ملکی سیاست سے کوسوں دور تھی۔ لیاقت علی خان سے لے کر حسین شہید سہروردی، عبدالرب نشتر، خواجہ ناظم الدین، چوہدری محمد علی اور فیروز خان نون تک کسی کے دامن پر بد دیانتی کا داغ نہ تھا۔ یہاں تک کہ جمہوری نظام کے قاتل غلام محمد اور سکندر مرزا نے بھی کوئی جائیدادیں نہیں بنائیں، بلکہ وہ کسمپرسی کے عالم میں مرے۔ بھٹو کے تمام وزراء اور وزرائے اعلیٰ جن گھروں سے اٹھ کر اسمبلیوں میں گئے تھے، انہیں میں واپس آئے۔ حنیف رامے ہو یا مبشر حسن، کوثر نیازی ہو یا غلام مصطفی کھر، کسی کے دامن پر رائیونڈ، ایون فیلڈ، سرے پیلس یا دبئی کی جائیدادوں کا بد نام داغ نہیں تھا۔ یہ سب کیوں تھا، اس لئے کہ معاشرہ اپنی قدیم اقدار پر قائم تھا۔ یہ اقدار انہیں کسی آکسفورڈ، کیمبرج یا ہاورڈ نے نہیں سکھائی تھیں بلکہ مسلمانوں کے تعلیمی اداروں اور مروجہ گھریلو ماحول نے ان میں یہ خوبیاں پیدا کی تھیں۔ یہ تمام لوگ محمود غزنوی سے لے کر لارڈ ماؤنٹ بیٹن تک حکمرانی میں شریک رہے۔ پانچ ہزاری اور دس ہزاری منصب سے لے کر ریذیڈنٹ مجسٹریٹ، خان، وڈیرے، جاگیردار اور سردار تک درجہ بدرجہ زوال کی ایک المناک داستان نظر آتی ہے۔ اس المناک زوال کا آغاز انگریز کی جمہوری وفاداریوں کے نظام کے تصور سے شروع ہوا جب اس نے 1857ء کی جنگ آزادی میں اپنی حمایت خریدنے کے لیے قبیلے کے سرداروں، برادریوں کے سربراہوں اور گدی نشین پیروں کو ساتھ ملایا اور ہر ایک کو انکے مخصوص علاقے کا مطلق العنان سربراہ بنادیا۔ اس دور کے صوبہ سرحد کے ارباب، بلور، ترین، تنولی، جدون، خٹک، ہوتی، یوسف زئی، پنجاب کے الپیال، پراچے، ٹوانے، نون، روکھڑی، دولتانے، مزاری، لغاری، گردیزی، گیلانی، کھوسے، عباسی، قریشی، سندھ کے انڑ، بجارانی، بھٹو، تالپور، جتوئی، سومرو، قاضی، شیرازی، جاموٹ، جام، اور بلوچستان کے بگٹی،مری، رند، جمالی، جوگیزئی، اچکزئی، مگسی اور مینگل و دیگر اقوام کے اہم گھرانے انگریز کے دسترخوان کے خوشہ چیں بن گئے۔ انگریز نے ان تمام گھرانوں میں وفا داروں کو منتخب کیا اور پھر انہیں اتنی مراعات دیں، جائیدادیں اور لامحدود زمینیں ان کے نام کردی گئیں، انہیں انتظامی اختیارات میں حصہ دار بنانے کے لیے مجسٹریٹ لگایا گیا، انہیں گھروں میں بیٹھے ہوئے فوج کے آنریری کرنل، میجر کے عہدوں سے سرفراز کیا گیا۔ مال روڈ پر کئی ایکڑوں پر مشتمل ایک چیف کالج جسے ایچی سن کالج کہتے ہیں، وہ بنایا گیا۔ اس تعلیمی ادارے میں یہ نو زائیدہ سربراہانِ برادری، قوم و قبیلہ انگریز کے لائف سٹائل کی تربیت حاصل کرتے اور پھر جب وہ سب رنگ ڈھنگ سیکھ جاتے تو انہیں آکسفورڈ اور کیمبرج میں بھیجا جاتا۔ ان کے ہمراہ ہندوستان کی سول سروس کے ممکنہ امیدوار بھی تربیت حاصل کرتے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک واپس آکر اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کا عہدہ سنبھالتا اور دوسرا اس ضلع کی سیاسی اشرافیہ کا سربراہ ہو جاتا۔ یہ دونوں مل کر ایک مضبوط اور مستحکم حلقہ (constituency) ترتیب دیتے جس کی کوکھ سے ان تمام خاندانوں کے وفادار افراد ایک ایسی حیثیت سے مستحکم ہو چکے ہوتے جن کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا تھا۔ جو کوئی اپنی مرضی سے پتہ ہلانے کی کوشش کرتا اسے سول سروس کے اعلیٰ افسران کی مدد سے عبرت کا نشان بنا دیا جاتا۔ انگریز نے جمہوریت کا تحفہ ہندوستان کو اس وقت دیا جب اسے یقین ہو گیا کہ اس نے اس برصغیر میں جن وفاداروں کے لیے جو حلقہ بندیاں بنائی تھیں اب وہ لوگ وہاں اتنے بااثر ہوگئے ہیں کہ کوئی دوسرا وہاں جیتنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ یہ تھی اس خطے میں جمہوریت کی ابتدا جس کی عمارت ان “وفاداروں” کے کندھوں پر استوار تھی جنہیں آج کے دور میں الیکٹیبلز کہا جاتا ہے۔ (جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں