ہمارے غریب غُربے سیاستدان


آج کل روزانہ اخبارات کا پلندہ کھولتے ہی نئے سے نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں، الیکشن کی برکتوں سے یہ معلوم ہو رہا ہے کہ ہمارے لیڈروں میں سے کون کتنے پانی میں ہے یعنی کس کے پاس کتنی دولت ہے اور کون بیچارا اس قدر غربت کا مارا ہے کہ اس کے پاس اپنی سواری بھی نہیں حالانکہ وہی غریب لیڈر آپ کو کل کلاں کسی بڑی گاڑی میں گھومتا نظر آئے گا بلکہ اس کی بڑی گاڑی کے آگے پیچھے بھی گاڑیاں ہوں گی لیکن جب الیکشن میں اثاثے ظاہر کرنے کا وقت آتا ہے تو ان لیڈر حضرات کی بیچارگی دیکھنے کے لائق ہوتی ہے بلکہ مجھے تو ان پر ترس آتا ہے کہ ہم نے کتنے غرباء کو اپنا لیڈر بنا رکھا ہے جو کہ ایک سواری خریدنے کی استعداد بھی نہیں رکھتے، ان غریب لیڈر حضرات کے ساتھ ساتھ امیر لیڈر حضرات بھی اسی ملک میں اپنی امارت کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں، وہ جہازوں میں ملک ملک گھومتے ہیں اور اندرون ملک بھی اپنی سواری کے لیے ذاتی جہاز یا ہیلی کاپٹر کا استعمال بھی کرتے ہیں ۔ ان کے لیے جہاز ایسے ہی ہے جیسے کسی عام آدمی کے لیے سائیکل یا زیادہ سے زیادہ موٹر سائیکل ۔ ایسے لیڈر حضرات گو تعداد میں کم ہیں لیکن جو ہیں ان کے انداز شاہانہ ہیں بلکہ وہ اپنے جہاز دوسرے لوگوں کو بھی استعمال کے لیے دیتے ہیں ۔

ہمارے وہ لیڈر حضرات جن کی مغربی دنیا والوں کی مثالیں دیتے زبان نہیں تھکتی وہ خود بھی ان جہازوں میں سوار ہو کر کروڑوں روپے خرچ کر کے اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے محبوب ﷺ کی بار گاہ میں حاضری دیتے ہیں ان کی حاضری کی قبولیت کا تو اللہ تعالیٰ کو ہی معلوم ہو گا لیکن ایک بات جس کا بار بار ذکر کیا گیا ہے وہ اسراف ہے جو کہ اللہ کے ہاں ایک ناپسندیدہ عمل ہے۔

بات شروع کی تھی کہ ہمارے لیڈر حضرات کے بارے میں آج کل روزانہ اخبارات میں ان کے اثاثوں کی خبریں شایع ہو رہی ہیں جن کو پڑھ کر آنکھیں کھل جاتی ہیں بلکہ کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔کچھ لیڈرحضرات نے تو کسر نفسی سے کام لیتے ہوئے اپنے اثاثوں کی اس قدر کم قیمت بتائی ہے جس کو پڑھ کر مجھے اپنے آپ پر افسوس ہوتا ہے کہ مجھے بھی اخبار نویسی چھوڑ کر سیاستدانوں کی صف میں شامل ہو جانا چاہیے کیونکہ ان میں سے بیشتر سیاسی لیڈر حضرات سے میرے اثاثے کہیں زیادہ ہیں اور اگر حقیقت میں میرے اثاثوں کی قیمت لگائی جائے تو وہ کئی نامی گرامی سیاستدانوں کے اثاثوں سے کچھ زیادہ ہی بنتی ہے۔ اس لیے مجھے بھی افسوس ہو رہا ہے کہ میں نے ساری عمر ایسے ہی اخبار میں نوکری کرتے ہوئے گزار دی، میں بھی کم از کم غریب سیاستدانوں کی صف میں تو شامل ہو ہی سکتا تھا اورپھر بعد میں اپنے اثاثوں میں اضافہ بھی کرتا رہتا لیکن کسی اور کے نام پر اور جب کبھی الیکشن کا وقت آتا تو شائد میں بھی انھی لوگوں کی صف میں شامل ہوتا جن کے پاس اپنی سواری تک نہیں ہے اور وہ مانگے تانگے سے ہی کام چلا رہے ہیں ۔
اشتہارات



ہمارے ہاں سیاستدانوں کی ہر طرح کی نسل دستیاب ہے جو خاص طور پر الیکشن میں نظر آتی ہے بلکہ بے نقاب ہوتی ہے عوام پر ان لیڈر حضرات کے جوہر تو پہلے سے کھل چکے ہوتے ہیں لیکن ان کی غربت اور امارت کے بارے میںالیکشن کمیشن میں ان کی طرف سے جمع کرائے گئے بیان حلفی سے معلوم ہوتا ہے ۔ ابھی تک جن سیاستدانوں کے اثاثے میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچے ہیں اس سے یہ معلوم ہو رہا ہے کہ اگر ہمارے یہ’ ہمدرد‘ سیاستدان اپنی دولت کا کچھ حصہ ملک کے وقف کر دیں تو ہم جو قرضوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں اور دنیا ہماری غربت کا مذاق اڑاتی رہتی ہے ان اثاثوں سے ملک کے تمام قرضے اتارے جا سکتے ہیں ۔

مزے کی بات ہے کہ یہ تمام تر اثاثے قومی دولت لوٹ کر بنائے گئے ہیں یعنی یہ ہمارا ہی سرمایہ ہے جو کہ چند لوگوں کی جیبوں میں جمع ہو چکا ہے اور وہ اس پر قبضہ جما کر بیٹھے ہوئے ہیں کوئی ان سے یہ نہیں پوچھ رہا ہے کہ جناب آپ نے اتنی زیادہ دولت کہاں سے اور کن ذرایع سے حاصل کی ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ الیکشن کمیشن امیدواروں سے اثاثے ظاہر کرنے کے ساتھ یہ بھی پوچھتا کہ وہ کون سے ذرایع ہیں جن سے یہ دولت اکٹھی کی گئی اور کیا اس پر کبھی ٹیکس بھی جمع کرایا گیا۔اثاثوں کو ظا ہر کر کے ان کی جو شرمناک قیمتیں بتائی گئی ہیں ان قیمتوں سے دہری قیمتوں پر بھی اگر یہ نمایندے اپنے اثاثے فروخت کرنے پر تیار ہوں تو ان کے کئی خریدار موجود ہیں کیونکہ جو قیمتیں ظاہر کی گئی ہیں ان کا مارکیٹ کی قیمتوں سے موازنہ ہی نہیں کیا جا سکتا ۔ معلوم نہیں ہمارے یہ نمایندے اس جدید ترین دور میں کس کو بیو قوف بنا رہے ہیں کیونکہ اب وہ وقت گزر چکا جب ہر چیز پردے میں چھپائی جا سکتی تھی ۔آج کل کے دور میں یہ ممکن نہیں رہا لیکن ہمارے بے شرم نمایندے پھر بھی اس بات پر مصر ہیں کہ ان کی جانب سے ظاہر کیے گئے اثاثوں اور ان کی قیمتوں کو ہی سچ مانا جائے۔

ہماری یہ بد قسمتی رہی کہ ہمارے اوپر ایک ایسا طبقہ مسلط چلا آرہاہے جو آپس میں گٹھ جوڑ کر کے ہمارے اوپرحکمرانی کے لیے باریاں بانٹ لیتا ہے اور پھر ملکی وسائل کو اپنے اثاثوں میں دن رات اضافے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کاساتھ ہمارے ساتھ پچھلے ستر برسوں سے چلا آرہا ہے صرف شکلیں بدل رہی ہیں۔ دادا پڑدادا سے شروع ہونے والا یہ ساتھ اب پوتوں نواسوں تک پہنچ چکا ہے ۔ موجودہ الیکشن میں بھی آپ یہ دیکھ رہے ہیں کہ خاندان کے خاندان مختلف پارٹیوں کی جانب سے امیدوار ہیں، باپ بیٹا بیٹی بیوی، ایک گھر سے ہی کئی امیدوار الیکشن لڑنے کا ریکارڈ بنا رہے ہیں یعنی وہ اس قدر عوام سے بیزار ہیں کہ ان کو اپنی ذات کے سوا کوئی دوسرا نظر ہی نہیں آتا ۔

یہی وہ اصل وجہ ہے جس کی وجہ ہم آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے کی جانب سفر جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ بااثر طبقہ ہمیں کسی صورت میں بھی اپنے چنگل سے نکلنے نہیں دے رہا اور ہمیں مجبور کر دیا گیا ہے کہ ان میں سے ہی آیندہ کے لیے اپنے نمایندوں کا انتخاب کریں اور ان کو مزید دولت جمع کرنے کا موقع دیں۔ دولت کا یہ انبار قبر میں تو ساتھ جانے سے رہا لیکن انسان لالچی فطرت لے کر پیدا ہوا ہے اور روپے پیسے کی ہوس میں کچھ نظر نہیں آتا ۔ ایسے ہی لالچی اور حریص لوگوں کے لیے کہا گیا ہے کہ ’’تمہیں کثرت مال کی ہوس نے آخرت سے غافل کر دیا یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے‘‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں