حضرت عمرو بن العاصؓ کے مزار پر

javed-ch
اور میں بالآخر حضرت عمرو بن العاصؓ کے دروازے پر پہنچ گیا‘ میرے سامنے دیوار پر ’’یرالٹی جامعی‘‘ لکھا تھا‘ ترکی میں (Yeralti) کا مطلب زیر زمین ہوتا ہے جب کہ یہ لوگ مسجد کو جامعی کہتے ہیں‘ حضرت عمرو بن العاصؓ کی مسجد واقعی زیر زمین تھی‘ میں سیڑھیاں اتر کر اندر داخل ہوا تو سامنے آخری دیوار تک پستہ قد ستون تھے اور ان ستونوں پر آدھے دائروں کی چھت تھی‘ چھت بھی نیچی تھی‘ میں سرخ قالین پر چلتا ہوا آخری حصے میں پہنچ گیا‘ الٹے ہاتھ دو مزار تھے‘ دونوں مزارات پر سبز چادریں تھیں اور چھت سے بھی سبز روشنی چھن چھن کر نیچے آ رہی تھی‘ دیوار پر تختی لگی تھی اور تختی پر دو نام کندہ تھے‘ حضرت عمرو بن العاصؓ اور حضرت وہب بن حصیری ؓ‘ میں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور پھر میری آنکھوں کے بند ٹوٹ گئے۔

حضرت عمر بن العاصؓ یا حضرت عمرو بن العاص ؓ کی حیات کے بے شمار شیڈ ہیں‘ یہ قریش کے بنو صاہم سے تعلق رکھتے تھے‘ والد کا نام عاص بن وائل تھا‘ عاص بن وائل نے دورجہالت میں رسول اللہ ﷺ کو ابتر کہہ دیاتھا‘ یہ واقعہ نبی اکرمؐ کے صاحبزادے عبداللہ کے انتقال کے بعد پیش آیا‘ عرب اولاد نرینہ سے محروم لوگوں کو ابتر کہا کرتے تھے‘ یہ طعنہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا چنانچہ سورۃ کوثر کا نزول ہوا اور قادر مطلق نے ڈکلیئر کر دیا‘ نبی اکرمؐ حوض کوثر کے مالک ہیں اور صرف ان کے دشمن ہی بے نام اور بے نشان رہیں گے‘ حضرت عمرو بن العاصؓ تجارت سے وابستہ تھے‘ تجارتی قافلے لے کر ایشیا‘ مڈل ایسٹ اور مصر جاتے تھے‘ بے انتہا معاملہ فہم‘ زیرک اور سفارتی خوبیوں کے مالک تھے۔

مسلمانوں نے حبشہ میں ہجرت کی تو قریش نے نجاشی کو سمجھانے کے لیے آپ کی قیادت میں وفد بھجوایا‘ یہ دورِ جہالت میں مسلمانوں کے خلاف ہر جنگ میں شریک ہوئے‘ جنگ خندق کے بعد پیچھے ہٹ گئے‘ اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا‘ آٹھ ہجری میں اسلا م قبول کر لیا‘ آپؓ نبی اکرمؐ کا خط لے کر عمان کے بادشاہ کے پاس بھی تشریف لائے‘ خط کی کاپی آج بھی عمانی حکومت کے پاس موجود ہے‘ اصل خط ترکی کے کسی صاحب کے پاس ہے‘ سلطان قابوس خط کے حصول کے لیے کوشش کر رہے ہیں‘ یہ ان شاء اللہ کسی نہ کسی دن کامیاب ہو جائیں گے۔
آپؓ نے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے ادوار میں لشکروں کی قیادت کی‘ سینا کا صحرا عبور کیا اور صرف چار ہزارمجاہدین کے ساتھ مصر فتح کر لیا‘ فتح مصر مسلمانوں کا بہت بڑا معرکہ تھا‘ آپؓ نے مصر میں الفسطاط کے نام سے نیا شہر آباد کیا‘فسطاط بعد ازاں مصر کا دارالحکومت بنا‘ اس کے آثار آج بھی قاہرہ کے قدیم حصے میں موجود ہیں‘ فسطاط عربی میں خیمے کو کہتے ہیں‘ آپؓ نے جنگ مصر کے دوران جس جگہ خیمہ لگایا یہ شہر ٹھیک اسی جگہ آباد ہوا اور یہ خیمے کی مناسبت سے الفسطاط کہلایا‘ یہ شہر خیمے کی جگہ کیوں آباد ہوا؟اس کی وجہ ایک فاختہ تھی‘ حضرت عمرو بن العاصؓ جنگی مہم پر تھے‘ وہ واپس آئے تو دیکھا فاختہ نے خیمے میں انڈے دے دیے ہیں‘ حضرت عمرؓو نے اپنا خیمہ فاختہ کے لیے وقف کر دیا‘ یہ معمولی واقعہ بعد ازاں مصر کے نئے دارالحکومت کی وجہ بن گیا۔

عالم اسلام کے یہ عظیم سپہ سالار حضرت علیؓ اور حضرت امیر معاویہؓ کی جنگ کے دوران متنازعہ ہو گئے‘ یہ خاندانی قرابت کی وجہ سے حضرت امیر معاویہؓ کے کیمپ میں چلے گئے‘ مورخین کا خیال ہے جنگ صفین میں قرآن مجید کو نیزوں پر پرونے کا آئیڈیا حضرت عمروبن العاصؓ کا تھا‘ یہ جنگ کے بعد حضرت امیر معاویہؓ کے نمایندے بن گئے جب کہ دوسری طرف حضرت علیؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو اپنا نمایندہ (ثالث) طے کر دیا‘ یہ ثالثی تاریخ اسلام کے افسوس ناک ترین واقعات میں سے ایک واقعہ ثابت ہوئی‘ افسوس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔

حضرت عمرو بن العاصؓ نے مصر میں اپنے نام سے ایک عظیم مسجد بھی بنوائی‘ یہ مسجد آج بھی قاہرہ میں موجود ہے‘ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس مسجد میں نماز پڑھنے کی سعادت نصیب فرمائی‘ آپؓ طویل العمر تھے‘ آپؓ آخر میں عالم اسلام کی جنگوں اور سازشوں سے دل گرفتہ ہو گئے‘ مورخین کا خیال ہے آپؓ کا انتقال مصر میں ہوا‘ یہ بات درست ہو سکتی ہے لیکن مصر میں آپؓ کا مزار موجود نہیں ‘ قاہرہ کی مسجد عمرو بن العاصؓ میں ایک مزار ہے لیکن یہ مزار آپؓ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کا ہے‘ آپؓ مصر سے استنبول کب اور کیسے تشریف لائے؟
اشتہارات



اس کے دو امکانات ہو سکتے ہیں‘ نبی اکرمؐ نے قسطنطنیہ یعنی استنبول فتح کرنے والے لشکر کو جنت کی بشارت دی تھی‘ حضرت امیر معاویہؓ نے 672ء میں ایک بڑا لشکر قسطنطنیہ بھجوایا‘ میزبانِ رسولؐ حضرت ابو ایوب انصاریؓ بھی اس لشکر میں شامل تھے‘ حضرت ابو ایوب انصاریؓ اس وقت علیل تھے‘ وہ جنگ کے دوران زیادہ بیمار ہو گئے اور انھوں نے وصیت فرمائی میں اگر فوت ہو جائوں تو مجھے شہر کی فصیل کے نیچے دفن کر دیا جائے‘ حضرت ابو ایوب انصاریؓ 674ء میں انتقال کر گئے‘ مسلمانوں نے برستے تیروں اور پتھروں کے درمیان بڑی مشکل سے آپ کی میت فصیل کے نیچے پہنچائی اور آپؓ کو وہاں دفن کر دیا‘ استنبول کی فتح کے بعد یہ علاقہ ایوب سلطان بن گیا۔

حضرت ابو ایوب انصاریؓ کا مزار اور مسجد آج بھی یہاں موجود ہے‘ یہ مسجد ہر سال لاکھوں زائرین کی عقیدت کا غسل لیتی ہے‘ استنبول کی پہلی جنگ 672ء سے 677ء تک جاری رہی‘ امکان ہے حضرت عمرو بن العاصؓ اسی دوران استنبول تشریف لائے‘ انتقال فرمایا اور حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی طرح شہر کی فصیل کے ساتھ دفن ہو گئے اور آپؓ کا مزار فرقہ پرستی کا شکار ہو کر گم نامی میں چلا گیا‘ یہ بھی امکان ہے آپؓ زندگی کے آخری حصے میں چپ چاپ قسطنطنیہ آئے‘ انتقال فرمایا اور اس سرزمین میں مدفون ہو گئے جسے فتح کرنے والوں کے لیے جنت کی بشارت دی گئی تھی‘ ان دونوں میں سے کون سا امکان درست ہے یہ راز سردست پوشیدہ ہے تاہم آپؓ 1639ء میں دمشق کے ایک نقش بندی بزرگ کے خواب میں آئے اور اپنی قبر کی نشاندہی فرمائی‘ یہ ترکی میں عثمانی خلیفہ سلطان مرادچہارم کا زمانہ تھا‘ وہ بزرگ استنبول آئے۔

سلطان تک رسائی حاصل کی اور اپنا خواب بیان کیا‘ سلطان نے بزرگ کی نشاندہی پر کھدائی کروائی تو وہاں سے واقعی قبر دریافت ہو گئی‘ سلطان نے قبر پر مسجد تعمیر کرانا شروع کرا دی‘ سلطان مراد مسجد کی بنیاد رکھنے کے بعد انتقال کر گیا‘ سلطان مراد کے بعد مسجد کی تعمیر کھٹائی میں پڑ گئی‘ یہ معاملہ 1730ء تک زیر التواء رہا یہاں تک کہ سلطان محمود اول نے دوبارہ مسجد کی تعمیر شروع کرا دی‘ مسجد 1754ء میں مکمل ہوئی اور زیر زمین ہونے کی وجہ سے ’’یرالٹی جامعی‘‘ کہلائی‘ مسجد میں حضرت عمرو بن العاصؓ کے مزار کے ساتھ حضرت وہب بن حصیریؓ کی قبر ہے‘ یہ بھی صحابی تھے تاہم ان کے بارے میں زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں ہیں‘ ان دونوں مزارات سے چند میٹر کے فاصلے پر حضرت سفیان بن عُیینہ ؓ کا مزار ہے‘ میں بدقسمتی سے ان کے بارے میں بھی زیادہ نہیں جانتا‘ میں تفصیلات جاننے کے لیے امام صاحب کو تلاش کرتا رہا لیکن وہ نہیں ملے‘ مسجد میں موجود نمازی اور عملہ بھی نابلد تھا‘ زبان بھی درمیان میں دیوار بن کر کھڑی ہو گئی چنانچہ میں نے دونوں صحابہؓ کے بارے میں ریسرچ اگلے وزٹ پر چھوڑ دی۔

حضرت عمرو بن العاصؓ کا مزار اور مسجد استنبول میں کارکے پل کے قریب ہے‘ مسجد کے بالکل سامنے چھوٹا سا پارک ہے اور پارک سے آگے سمندر‘ یہ یورپی سائیڈ پر ’’گولڈن ہارن‘‘ کے کنارے واقع ہے‘ دائیں بائیں گھریلو اور کمرشل عمارتیں ہیں‘ مسجد کو عمارتوں کے درمیان شناخت کرنا آسان نہیں‘ یہ مکانوں کے درمیان مکان محسوس ہوتی ہے‘ صحن بھی نہ ہونے کے برابر ہے‘ زائرین بمشکل جوتے اتار کر مسجد میں داخل ہوتے ہیں‘ داخلے کے دو دروازے ہیں‘ سمندر کی سائیڈ کا دروازہ اور محلے کی طرف کھلنے والا دروازہ‘ یہ دونوں آمنے سامنے ہیں اور دونوں ایک دوسرے سے صاف نظر آتے ہیں‘ سمندر کی سائیڈ نیچی ہے جب کہ محلے کی سائیڈ سے زیادہ سیڑھیاں اترنی پڑتی ہیں۔

یہ مسجد زیادہ پاپولر نہیں‘ لوگ حضرت عمرو بن العاصؓ کے نام سے بھی واقف نہیں ہیں‘ میں بڑی مشکل سے وہاں تک پہنچا لیکن جب اندر داخل ہوا تو سینے میں ٹھنڈ پڑ گئی‘ مزار شریف کے قریب سکون اور روحانی مسرت کے ڈھیر لگے تھے‘ میں قبر کے سامنے کھڑا ہو گیا‘ ہاتھ اٹھائے اور میری آنکھوں کے بند ٹوٹ گئے‘ میرا چہرہ آنسوئوں سے تر ہو گیا‘ یہ لوگ بھی کیا لوگ تھے‘ یہ اپنی کھلی آنکھوں سے روز میرے رسولؐ کا دیدار کرتے تھے‘ یہ اپنے ہاتھوں سے انھیں چھوتے تھے‘ یہ ان کے نقش قدم کا بوسا لیتے تھے‘ یہ آپؐ کے بدن کی خوشبو سونگھتے تھے‘ یہ آپؐ کے ہاتھوں سے لے کر کھاتے تھے اور یہ آپؐ کے دہن مبارک سے نکلے ہوئے لفظ اپنے کانوں میں سنتے تھے۔

یہ کتنے عظیم‘ کتنے بابرکت لوگ تھے اور میں کتنا بدنصیب‘ کتنا حقیر ہوں‘ مجھے وہ زمانہ نصیب نہیں ہوا‘ کاش میں اس زمانے میں پیدا ہوا ہوتا‘ میرا نام نتھورام ہوتا‘ مجھے یہاں ہندوستان میں خبر ہوتی اللہ کے آخری رسولؐ تشریف لے آئے ہیں اور میں یہ سن کر یہاں سے پیدل مدینہ چل پڑتا‘ میں رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں اسلام قبول کرتا‘ آپؐ مجھے اپنا غلام‘ اپنا خادم ڈکلیئر فرماتے اور میں باقی زندگی نعلین شریفین اپنے سینے سے لگا کرگزار دیتا‘ میں مدینہ کا گداگر بن جاتا‘ صفہ کے چبوترے پر لٹکی کھجوریں کھاتا‘ حضرت عثمانؓ کے کنوئیں کا پانی پیتا اور آپؐ جب جب مسجد نبوی میں تشریف لاتے میں یا رسول اللہ ﷺ‘ یا رسول اللہ ﷺ پکارتا ہوا آپؐ کے کرتے کا دامن پکڑ لیتا لیکن کہاں میں اور کہاں مسجد نبوی اور کہاں عہد رسالتؐ ‘ مجھ جیسے گناہ گاروں کو یہ سعادت کہاں نصیب ہوتی ہے‘ میں روتا جا رہا تھا اور اپنی کم مائیگی‘ اپنی مسکینی کا سیاپا کرتا جا رہا تھا اور حضرت عمرو بن العاصؓ کے مزار سے قبولیت کی خوشبو امڈتی چلی جا رہی تھی‘ مجھے محسوس ہو رہا تھا میری دعائیں رجسٹر ہو رہی ہیں‘ میرے لیے دروازے ابھی بند نہیں ہوئے۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں