ایک اور پیرس


سیاسی میدان سج چکا ہے کھلاڑی میدان میں اتر چکے ہیں اورمیچ شروع ہو چکا ہے جس کا اختتام پچیس جولائی کی شام کو ہو جائے گا، اس وقت تک سیاسی میدان میں ایک دوسرے پر الزامات کے حملے اور وار جاری رہیں گے، یہی ہماری سیاست کا انداز اور وتیرہ ہے کہ جب تک اقتدار میں رہو سب کچھ ہرا ہرا دکھائی دیتا ہے اور اقتدار سے باہر ہوتے ہی یہ سب کچھ اچانک تبدیل ہو جاتا ہے ۔

دراصل ہمارے اوپر پانچ برس یا زائد مدت تک مسلط رہنے والے حکمرانوں کے پاس اپنی کوتاہیوں کا کوئی جواب نہیں ہوتا اور وہ اپنی کوتاہیوں کو ایک دوسرے پر الزام لگا کر ان سے چشم پوشی کرنا چاہتے ہیں لیکن اب عوام اس قدر عقلمند ہو چکے ہیں کہ وہ دوبارہ سے ان کے جھانسے میں آنے کو تیار نہیں اور میڈیا کے جدید دور میں ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے سیاستدان جب اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں ووٹ مانگنے کے لیے جا رہے ہیں تو ان کی جو تواضع عوام کر رہے ہیں۔

وہ ہم سب کے سامنے ہے یہ وہ عوامی شعور ہے جس کی ایک مدت سے بڑی شدت کے ساتھ ہمارے ہاں کمی محسوس کی جا رہی تھی اور اس کو اجاگر کرنے میں میڈیا کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے روح رواں جناب عمران خان کا بھی بنیادی عمل دخل ہے جنہوں نے عوام کو ان کے حقوق کا احساس دلایا اور ان کو اپنے حقوق کے لیے کھڑ ا ہونے کا شعور دیا جس کے اثرات ہم سب دیکھ رہے ہیں اور آنے والے انتخابات میں عوام اپنے پسندیدہ امیدواروں کو ووٹ دیں گے کیونکہ وہ یہ جان چکے ہیں کہ کون ان کے ساتھ مخلص ہے اور کون ان کو ایک بار پھر دھوکا دینے کے لیے پر تول رہا ہے۔
عوام اور خاص کا تعلق ہمارے سیاستدانوں کو صرف الیکشن کے دنوں میں ہی یاد آتا ہے جب وہ انتخابی اکھاڑے میں اترتے ہیں جہاں ان کا واسطہ عوام سے پڑتا ہے اور موجودہ الیکشن میں عوام کا موڈ دیکھ کر اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ اپنے لیڈروں کو پہچان چکے ہیں اور شائد یہ فیصلہ بھی کر چکے ہیں کہ ان کا اگلا حکمران کون ہو گا۔

میرے پسندیدہ میاں شہباز شریف جو کہ اب اپنی پارٹی کے صدر بھی ہیں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں کہ وہ بااختیار صدر ہیں یا پھر ان کو بااختیار اور آزاد فیصلوں کے لیے ایک سابق صدر مملکت کی طرح دیواروں پر اشتہاری مہم شروع کرنی پڑے گی ۔سننے میں یہ آرہا ہے کہ پارٹی کی عملاً کمان ابھی تک میاں نواز شریف کے پاس ہی ہے۔ شہباز شریف الیکشن کی مہربانیوں کے طفیل اگرچہ کراچی پہنچ چکے ہیں اور غالباً وہاں سے الیکشن بھی لڑ رہے ہیںکیونکہ انھوں نے کراچی کو پیرس بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے لیکن اس کے لیے کڑی شرط رکھ دی ہے کہ ان کو دوبارہ اقتدار سے نوازا جائے تو ہی یہ ممکن ہے انھوں نے سیاسی نعرہ لگاتے ہوئے کالا باغ ڈیم جیسے اہم قومی سلامتی کے منصوبے کے بارے میں فرمایا کہ قومی وحدت کی خاطر یہ ڈیم نہیں بن سکتا ۔ ایک پنجابی سیاستدان کے منہ سے کالا باغ ڈیم کے بارے میں یہ الفاظ سن کر دکھ ہوا کیونکہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ کالا باغ قومی سلامتی کے لیے کتنا ضروری ہے کچھ عرصے کے بعد جب پانی کی قلت کی وجہ سے پاکستان کا ایک بڑا حصہ بنجر بن چکا ہو گا تو صنعتکار شہباز شریف تو اپنی فیکٹریوں کو چلانے میں مصروف ہو ں گے لیکن زرعی ملک پاکستان پانی کے لیے سسک رہا ہو گا اور عنقریب وہ وقت بھی آنے والا ہے جب زمینوں کو سیراب کرنا تو دور کی بات ہو جائے گی۔
اشتہارات



پینے کے لیے پانی کی بھی انتہائی قلت ہو جائے گی اور اس کا آغاز ہو بھی چکا ہے۔ اس وقت ہمارے یہ مفاد پرست سیاستدان اپنی اپنی گدڑی اٹھا کر تو کسی دوسرے ملک سدھار جائیں گے اور پاکستانیوں کو یہیں سسکتا بلکتا ہوا چھوڑ جائیں گے۔ پہلے پہل حکمران لاہور کو پیرس بنانے کے دعوے کرتے تھے ہمارے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کسی حد تک اس پر عمل بھی کیا ہے اور اب لاہور ایک بہترشہر لیکن بے ہنگم ٹریفک اور بنیادی سہولتوں کے فقدان والے شہر میں تبدیل ہو گیا ہے، بے شک لاہور کا کچھ حصہ خوبصورت بن گیا لیکن اس کی جو قیمت قوم ادا کر رہی ہے اس کا حساب کتاب آنے والے حکمران ہمیں بتائیں گے کہ کس قیمت پر ہم نے لاہور کی تزئین و آرائش کی ہے اور اسے پیرس بنایا ہے۔ شہباز شریف لاہور کے رہنے والے ہیں انھوں نے پرانا لاہور بھی دیکھا ہوا ہے جہاں پر ان کا بچپن گزرا اور پیرس بھی وہ بار بار دیکھ چکے ہیں ۔

اب وہ کراچی کو پیرس بنانے کا دعویٰ کر رہے ہیں حالانکہ ان کا سیاسی حریف بھٹو خاندان جو کراچی میں رہتا ہے اور سندھ کی نمایندگی کا دعویدار ہے ان کے لیے پیرس اتنا ہی زیادہ محبوب شہر ہے جتنا کہ میاں نواز شریف کے لیے لندن۔ اہل کراچی اس سے پہلے اس طرح کے اعلانات بارہا پڑھ چکے ہیں اور کراچی جو کہ اب ایک ناقابل رہائش شہر بن چکا ہے اس کے باسی چھوٹے میاں صاحب کے اس اعلان پر چشم ما روشن دل ماشاد تو نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس خوبصورت شہر کی روشنیاں بہت پہلے ہی بجھائی جا چکی ہیں جن کو دوبارہ سے روشن کرنے کی کوشش پانچ سال اقتدار میں رہنے والی حکومت نے نہیں کی بلکہ امن و امان کی صورتحال میںبھی جو بہتری آئی وہ ہماری فوج کی مرہون منت ہے۔

اقتدار کے باسیوں کو تو اقتدار سے اترنے کے بعد کراچی کو پیرس بنانے کی یاد آئی ہے ورنہ اس سے پہلے تو وہ بھاری مینڈیٹ کے بوجھ تلے اس قدر دبے ہوئے تھے کہ کراچی اسلام آباد سے بہت دور دکھائی دیتا تھا اس لیے جمہوری حکومت نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کوفوج کے حوالے کر دیا اور فوج نے اپنا کام خوش اسلوبی سے کر دیا ۔ اب اگلا کام حکمرانوں کا ہے کہ کراچی کی روشنیاں جو کہ گل کر دی گئی ہیں ان کو دوبارہ سے روشن کریں ۔ میاں شہباز شریف اس کام کے ماہر ہیں لیکن وہ اپنی ذمے داریاں پچھلے دس برسوں میںلاہور میں ہی نبھاتے رہے اور ان کے برادر بزرگ اسلام آباد اور مری کی خوشگوار فضاؤں سے ہی نہیں نکل سکے ۔ اب جب وہ مسلم لیگ نواز کے صدر بنے ہیں تو ان کو کراچی کی یاد ستائی ہے، میرے خیال میں اب بہت دیر ہو چکی ہے لیکن ایک بات ضرور ہے کہ کراچی کو پیرس بے شک نہ بنائیں لیکن آنے والے حکمران اس کو صرف کراچی ہی رہنے دیں تو یہ کراچی والوں پر ان کے حکمرانوں کا احسان ہو گا۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں